Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان کیخلاف کھیلی جانیوالی ’’گریٹ گیم‘‘....

گو ہمارے وزارتِ خارجہ کے سیاسی پنڈت بار بار قوم کو یقین دلا رہے ہیں کہ
پاکستان کی خارجہ پالیسی مضبوط بنیادوں پر قائم ہے بہت فعال ہے اور بین الاقوامی طور پر ہم شاندار کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں۔ پاکستان کو کسی قسم کی مشکلات یا خدشات درپیش نہیں۔بیانات کی حد تک تو یہ دعویٰ شاید درست ہو لیکن زمینی حقائق اسکے بر عکس نظر آتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان خطرات کی زد میں ہے۔ بین الاقوامی طور پر اور علاقائی طور پر اسوقت بہت سی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیںجوبا لواسطہ یا بلاواسطہ طور پر پاکستانی معیشت اور سلامتی پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔کچھ اہم تبدیلیاں تو پاکستان ہی کے تناظر میں لائی جا رہی ہیں جو یقیناً پاکستان کی سا لمیت کیلئے بہت بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہیں۔ لہٰذا پاکستان کو خوش فہمی کے بیانات سے باہر نکل کر اصل حالات کا ادراک کرنا ہوگا اور اپنی سا لمیت کی طرف بڑھتے ہوئے خطرات سے مئوثر طور پر نبٹنے کیلئے پیش بندی کرنی ہو گی۔

حالات کا بنظر غائر جائزہ لینے سے ایک تکلیف دہ صورت حال سامنے آتی ہے جو ہرمحب وطن پاکستانی کیلئے پریشان کن ہے۔مثلاً دنیا کا چودھری امریکہ ہم سے سخت ناراض ہے ۔ہماری خود مختاری کو پامال کررہا ہے۔ پاکستان مخالف مزید کارروائیوں کی دھمکیاں دے رہا ہے۔کئے گئے وعدے کیمطابق F-16اور کولیشن سپورٹ فنڈ میں دی جانے والی امداد دینے سے انکاری ہے۔ہماری ایٹمی صلاحیت ختم کرنے کے در پے ہے اور سب سے تکلیف دہ صورتحال یہ ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کو اپنی گود میں بٹھا کر بھارت کے ایما پر ہمیں آنکھیں دکھا رہا ہے اور ہمارے سی پیک منصوبے کی مخالفت کررہا ہے۔ہمارے مغربی بارڈر پر کچھ دنوں سے سخت کشیدگی جاری ہے اور افغانستان جیسا جنگی طور اور معاشی طور پر تباہ حال ملک نہ صرف ہمیں دھمکیاں دے رہا ہے بلکہ ہمیں اپنی ہی سرحد کے اندر سرحدی گیٹ تک بھی تعمیر نہیں کرنے دے رہا ۔

معاملہ یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتا بلکہ بھارت کو پاکستان مخالف سرگرمیوں کیلئے اپنی سرزمین پر اجازت دے رکھی ہے۔ پاکستان میں دہشتگردی پھیلانے ، امن و امان تباہ کرنے اور عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی مدد کررہا ہے۔اس مقصد کیلئے ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کیساتھ اپنے ایجنٹ بھی پاکستان بھیج کر دہشتگردی پھیلا نے میں مدد دے رہا ہے۔ اسی طرح پاکستان سے بھاگ کر افغانستان جانیوالے تحریک طالبان کے دہشتگردوں کو بھی پناہ دے رکھی ہے اور ان سے بھی پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں کروارہا ہے۔ پاکستان میں پچھلے 35سالوں سے تیس لاکھ مہاجرین مقیم ہیں جو اب ہماری معیشت اور امن و امان کیلئے ناقابل برداشت بوجھ بن چکے ہیں۔ پاکستان انہیں ہر صورت جلد از جلد واپس بھیجنے کا خواہشمند ہے۔ افغانستان انہیں بھی واپس نہ لینے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہا ہے۔

بھارت ، ایران اور افغانستان ایک تجارتی معاہدے کے ذریعے آپس میں گٹھ جوڑ کر چکے ہیںجو یقیناً پاکستان کے حق میں اچھا نہیں ہے ۔ ہماری گوادر پورٹ کے مقابلے میں ایرانی سر زمین پر چاہ بہار پورٹ کی تعمیر بھارت شروع کرچکا ہے جو مستقبل میں گوادر پورٹ کو ناکام بنانے کا حربہ ہے۔ اس منصوبے کو امریکی آشیر باد بھی حاصل ہے ۔مزید یہ کہ ایران ہمارا برادر اسلامی ملک ہے جس سے ہمیںہمیشہ برادرانہ تعلقات کی امید رہتی ہے لیکن یہ اطلاعات بہت تکلیف دہ ہیں کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے سرزمین ایران پربھی اپنا ہیڈ کوارٹر قائم کررکھا ہے جہاں سے پاکستان میں دہشتگردی اور بد امنی پھیلائی جا رہی ہے۔ اسکا سب سے بڑا ثبوت بھارتی ایجنٹ کلبھوشن یا دیو کی گرفتاری ہے۔ بھارتی ایجنسی کی طرف سے پاکستان کے خلاف ایرانی سرزمین کا استعمال ہونا کافی پریشان کن ہے اور ہماری خارجہ پالیسی کی سراسر ناکامی ہے۔

ایران اور افغانستان کی طرف سے پاکستان مخالف سرگرمیاں اور سخت کشیدگی بے وجہ نہیں ہو سکتی۔ ایسے نظر آتا ہے کہ امریکہ نے خطے میں اپنی پالیسی تبدیل کر لی ہے۔ جب سے پاکستان نے چین سے تعلقات بڑھائے ہیں اور پاک چین اقتصادی راہداری کا منصوبہ سامنے آیا ہے تو بھارت، امریکہ اور اسرائیل کو بہت تکلیف پہنچی ہے کیونکہ یہ منصوبہ اور خصوصاً چین کی گوادر میں موجودگی امریکہ، بھارت، اسرائیل اور مغربی طاقتوں کی گلوبل پالیسیوں میں سدِ راہ ثابت ہوسکتی ہے۔ گوادر پورٹ مستقبل میں گیم چینجر ثابت ہو گی۔ بین الاقوامی طور پر اور علاقائی سیاست پر مئوثر طریقے سے اثر انداز ہو گی۔آبنائے ہرموز کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں کی سمندری ٹریفک بھی متاثر ہو گی ۔یاد رہے کہ آبنائے ہر موز سے اندازاً17لاکھ بیرل تیل کی روزانہ آمدورفت ہوتی ہے۔

اسی طرح بحر ہند کی حکمرانی کیلئے بھی چیلنج ثابت ہو گی۔ تزویراتی طور پر گوادر جنوبی ایشیا، تیل کی دولت سے مالا مال مشرق وسطیٰ اور گیس کی دولت سے مالا مال وسط ایشیا کو قریب لانے میں بھی اہم کردار ادا کریگی۔ لہٰذا گوادر پر چین کا قبضہ امریکہ ، بھارت ، اسرائیل اور اہل مغرب کیلئے کسی صورت بھی قابلِ قبول نہیں۔ لہٰذا چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنے کیلئے یہ تمام طاقتیں متحد ہو گئی ہیں جن کا سرغنہ امریکہ ہے۔ امریکہ نے چین کو روکنے کیلئے تین اہم اقدامات کئے ہیں۔ اول بھارت کو ایک سپر طاقت بنا کر چین کے مقابل کھڑا کیا گیا ہے۔ بھارت کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اسکے ہرجائز نا جائز مطالبے کو منظور کیا جا رہا ہے۔ اسکی فوجی اور معاشی مدد جاری ہے۔اسے سیکورٹی کونسل میں مستقل نشست اور نیو کلر سپلائر زگروپ میں داخلے کیلئے بھی مدد دی جا رہی ہے۔ تو یوں بھارت علاقے کی ایک بڑی طاقت بن کر چین کے مد مقابل کھڑا ہوگا۔

امریکہ کا دوسرا اہم قدم یہ ہے کہ وہ اپنی فوج افغانستان میں مستقل طور پر رکھنا چاہتا ہے ۔ اسی لئے امریکہ وہاں امن قائم نہیں ہونے دے رہا ۔ملا اختر منصور کو مار کر طالبان کو مزید اشتعال دلا یا ہے تا کہ کسی طریقے صلح کے امکانات پیدا نہ ہو سکیں اور امریکہ کا تیسرا قدم یہ ہے کہ بھارت کی معرفت ایران اور افغانستان کے درمیان معاہدہ کراکر ایک طرف علاقائی سیاست کی باگ ڈور بھارت کے ہاتھ میں دے دی ہے اور دوسری طرف پاکستان کو علاقے میں تنہا کردیا ہے۔
ان حالات سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں ’’گریٹ گیم‘‘ شروع ہو چکی ہے جسکا ہدف پاکستان ہے ۔بھارت کی نظر یں افغانستان اور بلوچستان میں فراوانی سے پائی جانیوالی قیمتی معدنیات پر ہیں۔ امریکہ چین کو روکنے کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تیل کے ذخائر اور وسطہ ایشیا میں گیس کے ذخائر پر قبضہ چاہتا ہے۔ 

امریکہ،اسرائیل اور بھارت مل کر پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ واحد اسلامی ایٹمی ملک کسی کی برداشت میں نہیں لہٰذا پاکستان کو ٹکڑے کرنے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔چند دن پہلے سابق وزیر داخلہ جناب رحمن ملک نے ایک مشہور انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایاکہ حال ہی میں ایک امریکی ٹیلی ویژن چینل پر پاکستان پر تجزیہ پیش کیا گیا۔ تجزیہ نگار نے بتایا کہ پاکستان کو توڑ کر تین ٹکڑوں میں تقسیم کردیا جائیگا ۔محض سندھ اور پنجاب ہی پاکستان رہ جائیگا اور مزید یہ کہ پاکستان کو ایٹمی ہتھیاروں سے بھی محروم کر دیا جائیگا ۔جناب رحمن ملک نے قومی قیادت کو وارننگ دی ہے کہ تمام پارٹیاں متحدہ طور پر آنیوالے خطرات سے نبٹنے کیلئے پالیسی تشکیل دیں۔ یاد رہے کہ آج سے 6 ماہ پہلے امریکی صدر باراک اوبامہ نے بھی پاکستان کیلئے آنیوالی مشکلات کی پیش گوئی کی تھی اور بقول مشیر امور خارجہ جناب سرتاج عزیز امریکہ اب ہمیں آنکھیں دکھاتا ہے۔

   سکندر خان بلوچ(ملتان)


No comments:

Powered by Blogger.