Header Ads

Breaking News
recent

ترکی اور پاکستان مہاجرین کو پناہ دینےمیں سرفہرست

اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) نے اپنی سالانہ
رپورٹ جاری کردی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں مہاجرین کی تعداد 6 کروڑ 53 لاکھ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ برس تقریباً 6 کروڑ 53 لاکھ افراد کو جنگ، مسلح تصادم، سخت قوانین اور حقارت پر مبنی رویوں کی وجہ سے بے گھر ہونا پڑا۔ اس حساب سے دنیا میں ہر 113 میں سے ایک شخص مہاجر، پناہ کا متلاشی یا پھر اپنے ہی ملک میں گھر سے دور رہنے پر مجبورہے۔
رپورٹ کے مطابق 2014 میں دنیا بھر میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد 5 کروڑ 95 لاکھ تھی، گزشتہ 5 برسوں میں اس تعداد میں 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
شام، افغانستان، برونڈی، جنوبی سوڈان اور دیگر ممالک میں جاری تنازعات کی وجہ سے تقریباً 2 کروڑ 13 لاکھ افراد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے جن میں نصف تعداد بچوں کی ہے۔ یہ رپورٹ عالمی یوم مہاجرین کے موقع پر ’گلوبل ٹرینڈز‘ کے نام سے جاری کی گئی۔ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلیپو گرانڈی نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ مہاجرین اور تارکین وطن کا بحیرہ روم کا پُرخطر سفر کرکے یورپ پہنچنا ہمارے لیے پیغام ہے کہ اگر ہم نے مسائل حل نہ کیے تو یہ ہم تک پہنچ جائیں گے۔
مہاجرین کا تعلق کہاں سے ہے؟
رپورٹ کے مطابق ایسا تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ مہاجرین کی تعداد 6 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے، ان میں سے تقریباً نصف مہاجرین کا تعلق شام، افغانستان اور صومالیہ سے ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان، عراق اور دیگر ممالک سے بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے یورپ کی جانب بہتر مستقبل کے لیے ہجرت کی۔
  
مہاجرین کیسے سفر کرتے ہیں؟
برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی رپورٹ میں عالمی تنظیم برائے مہاجرین (آئی او ایم) کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ تقریباً 10 لاکھ 11 ہزار 700 تارکین وطن سمندری راستے سے یورپ پہنچے تاہم دیگر ایجنسیوں کے نزدیک تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ تقریباً 35 ہزار مہاجرین زمینی راستے سے یورپ پہنچے اور ان افراد کے پسندیدہ ترین ملک جرمنی اور سوئیڈن رہے۔
کس ملک نے سب سے زیادہ مہاجرین کو پناہ دی؟
رپورٹ کے مطابق 2015 میں صنعتی طور پر مستحکم ممالک میں پناہ کی 20 لاکھ نئی درخواستیں موصول ہوئیں، تقریباً ایک لاکھ بچے اپنے خاندان سے بچھڑ گئے اور یہ تعداد 2014 کے مقابلے میں تین گنا جبکہ تاریخ میں بلند ترین ہے۔ پناہ کی سب سے زیادہ 4 لاکھ 41 ہزار 900 درخواستیں جرمنی میں سامنے آئیں جس کے بعد امریکا کا نمبر ہے جہاں پناہ کے لیے ایک لاکھ 72 ہزار درخواستیں دی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق مہاجرین کی کل تعداد کے 86 فیصد حصے کو ترقی پذیر ممالک میں پناہ ملی، ترکی نے سب سے زیادہ 25 لاکھ شامی مہاجرین کو پناہ دی، جس کے بعد پاکستان اور لبنان مہاجرین کو پناہ دینے میں سب سے آگے رہے۔

نفرت انگیز رویوں میں اضافہ
کمشنر یو این ایچ سی آر فلیپو گرانڈی نے بتایا کہ اپنے ملک میں جاری تنازعات اور تکلیف سے جان چھڑا کر دوسرے ملک آنے والے مہاجرین کو یہاں مقامی افراد کے نفرت انگیز رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے یورپ میں دیکھا کہ کس طرح متعدد ممالک نے مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں بند کردیں جو کبھی خود پناہ گزینوں کے حقوق کی باتیں کیا کرتے تھے۔ مہاجرین پر یورپی ممالک کے دروازے بند ہونے کے بعد یورپی یونین اور ترکی میں مہاجرین کی آباد کاری کے حوالے سے معاہدہ طے پایا اور انہیں ترکی بھیجا جانے لگا۔

کشمنر یو این ایچ سی آر فلیپو گرانڈی نے کہا کہ مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یورپی یونین کے فیصلوں پر رکن ممالک کی جانب سے عمل نہ کرنا افسوس ناک ہے۔ یورپی ممالک اب تک یونان اور اٹلی میں موجود صرف ایک لاکھ 60 ہزار پناہ گزینوں کو آپس میں بانٹنے پر ہی متفق نہیں ہوسکے۔ یورپی یونین کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک صرف 2 ہزار 406 تارکین وطن کی منتقلی ممکن ہوئی ہے، گرانڈی کا کہنا ہے کہ پناہ دینے کے بجائے یورپ کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے، سب کو ذمہ داری ادا کرنی ہوگی۔

No comments:

Powered by Blogger.