Header Ads

Breaking News
recent

پاکستانی پاسپورٹ کی تجدید اور اجراء

بیرون ملک سفر کرنے والے خواہش مند افراد کے لئے مندرجہ ذیل حقائق و
معلومات کا جاننا اشد ضروری ہے۔

پاسپورٹ: پاسپورٹ بہت ہی اہم چیز ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کس ملک کے رہنے والے ہیں۔ پاسپورٹ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنا قانوناً جرم ہے۔پاسپورٹ ایک بین الاقوامی دستاویز ہے، پاکستان کے پاسپورٹ پر اسرائیل کے سوا آپ دنیا کے ہر ملک کے لئے روانہ ہو سکتے ہیں اور حج اور عمرہ کے لئے علیحدہ پاسپورٹ جاری ہوتا ہے۔

 پاسپورٹ کی تجدید اور اجراء :پاسپورٹ کی مدت پانچ سال ہے۔ اس کے بعد پاسپورٹ کا اجراء کروانا لازم ہے۔ بیرون ملک میں یہ کام قونصل خانے یا ہائی کمیشن سے کروایا جا سکتا ہے۔ دو سال تک پرانا پاسپورٹ نئے پاسپورٹ کے ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ 
ویزا:ویزا سے مراد وہ اجازت نامہ ہے جو کسی بھی ملک میں جانے کے لئے اس ملک کی ایمبیسی یا قونصل خانے سے جاری ہوتا ہے۔
 ویزے کی درج ذیل اقسام ہیں۔ -

1 سیر و سیاحت کا ویزا  
2 کاروباری ویزا  
3 اسپانسر ویزا  
4 تعلیمی ویزا  
5 ٹرانزٹ ویزا  
6 آزاد ویزا  
7 زیارت ویزا 
8 حج و عمرے کا ویزا  
9 علاج کا ویزا  
10 ایمرجنسی ویزا  
11 سپیشل ویزا  

اسپانسرشپ:خاوند بیوی کو بچے والدین کو بیوی خاوند کو اور حقیقی بہن بھائی ایک دوسرے کو اسپانسر کر سکتے ہیں۔ کوئی دوسرا شخص اس صورت میں اسپانسر کر سکتا ہے کہ وہ آپ کے تمام اخراجات برداشت کرے۔ خصوصی حالات میں یعنی کسی کی وفات یا شادی اور علاج کے لئے بھی اسپانسر کیا جا سکتا ہے۔ اسپانسر کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی عمر کم از کم 18 سال ہو۔ شہریت حاصل کئے ہوئے کم از کم 2 سال گذر چکے ہوں۔ اسپانسر کرنے والا مضبوط مالی حیثیت کا مالک ہو۔ اسپانسر اس بات کی ضمانت ہوتا ہے کہ آنے والا ویزا کی مدت ختم ہونے پر ملک چھوڑ دے گا۔ 

ویزے کا حصول:کسی ملک کا ویزا حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ شرط یہ ہے کہ آپ جو بھی بات کریں جو بھی کاغذات پیش کریں وہ حقیقت پر مشتمل ہو۔ ویزے کے حصول کے لئے آپ جب بھی اپلائی کریں تو پہلے سوچ لیں کہ آپ کس مقصد کے لئے یا کسی کیٹیگری کا ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسپانسر شپ منگوانے سے قبل اس بات کی تسلی ہونی چاہئے کہ اسپانسر کرنے والا آپ کو اسپانسر کر بھی سکتا ہے یا نہیں۔ 

کن لوگوں کو ویزے نہیں ملتے:
مندرجہ ذیل افراد کو ویزے ملنے کے امکانات نہیں ہوتے۔ 
٭ منشیات کے عادی افراد  
٭ خطرناک بیماریوں میں مبتلا افراد جیسے ایڈز وغیرہ  
٭ جسمانی طور پر معذور یا اپاہج افراد  
٭ پیشہ ور فقیروں کو  
٭ جرائم پیشہ افراد  
٭ سمگلنگ میں ملوث افراد 
٭ بلیک لسٹ افراد 

ویزے کے لئے کاغذات:
٭ تازہ ترین پاسپورٹ  
٭ بنک بیلنس شیٹ ٗ ملکیتی جائیداد ٗ رجسٹری ٗ انتقال  
٭ کاروباری افراد کے لئے متعلقہ فرم یا فیکٹری کی ملکیت کا ثبوت، کاروباری ڈیٹا، فرم فیکٹری کا ٹیکسیشن آرڈر کی کاپی  
٭ ایکسپورٹ پروموشن بیورو سرٹیفکیٹ 
٭ ایل سی نمبر  
٭ ایوان صنعت و تجارت کا لائسنس، سفارشی لیٹر، کاروباری تفصیل، آمدنی خرچہ، انکم ٹیکس، ویلتھ ٹیکس، اسپانسر شپ کی کاپی، فضائی سفر کے ٹکٹ، ہوٹل کا بلنگ کارڈ اور اگر سیاحت کی نیت سے جا رہے ہیں تو سیاح ہونے کا ثبوت، TDCP یا کسی اور سیاحتی ادارے کا ممبرشپ کارڈ راستہ کے اخراجات کے لئے کم از کم 1000/- امریکن ڈالر یا ٹریول چیک۔ اگر بچے ہم سفر ہیں تو ان کی تین عدد پاسپورٹ سائز تصاویر، ان بچوں کا اپنی والدہ یا والد کے پاسپورٹ میں اندراج ضروری ہے۔ 

انٹرویو:کسی بھی ایمبیسی میں ویزے کے حصول کے لئے دیئے جانے والے انٹرویوز میں ان باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ کسی قسم کی الجھن کا مظاہرہ نہ کریں، مکمل اعتماد اور حوصلہ سے تمام سوالات کا جواب دیں، پاسپورٹ چیک کرتے وقت ہو سکتا ہے مندرجہ ذیل سوالات پوچھے جائیں۔ آپ کانام، والد کا نام۔ اس سے پہلے کبھی ویزا اپلائی کیا اگر نہیں تو نہیں اور اگر ہاں تو کب۔ کیا نتیجہ رہا۔ سفر کیا یا نہیں۔ کن تاریخوں میں۔ ازدواجی حیثیت کیا ہے۔ یعنی شادی شدہ ہیں یا نہیں۔ بچے ہیں تو کتنے۔ کب پیدا ہوئے۔ نکاح نامہ۔ بچوں کے پیدائشی سرٹیفکیٹ، بیوی ساتھ جا رہی ہے۔ کس مقصد کے لئے جا رہے ہیں۔ اخراجات کون برداشت کر رہا ہے اگر خود تو ذریعہ آمدنی کیا ہے۔ آپ اس ملک میں کیوں جانا چاہتے ہیں۔ تعلیمی قابلیت کیا ہے۔ بینک بیلنس کتنا ہے۔ 

چند احتیاطیں: 
٭ اپنا پاسپورٹ کسی بھی صورت میں کسی اور کو نہ دیں۔ 
٭ پاسپورٹ پر کسی قسم کا اندراج، تصحیح، تبدیلی اپنی طرف سے نہ کریں کسی بھی تبدیلی کے لئے متعلقہ پاسپورٹ آفس سے رجوع کریں کیونکہ چھوٹی سی غلطی آپ کی محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔ 
٭ کسی دوسرے شخص کا بیگ یا کسی چیز کی ذمہ داری نہ لیں۔ کوئی دو منٹ کا کہہ کے پکڑانے کی کوشش کرے تو انکار کر دیں۔ 
٭ سفر کے دوران اپنا ٹکٹ، پاسپورٹ اور متعلقہ کاغذات کسی ایسی جیب میں رکھیں جہاں سے طلب کرنے پر آسانی سے نکل سکیں۔ 
٭ سفر کے اخراجات ٹریول چیک کی صورت میں رکھیں۔ 
٭ کسی بھی چیز کی گمشدگی کی صورت میں متعلقہ ٹورسٹ پولیس کو اطلاع کریں یا قریبی تھانے میں رپورٹ کریں۔ 
٭ ایئر ٹکٹ کی مدت عام طور پر 120 دن ہوتی ہے، مدت ختم ہونے پر یہ مدت متعلقہ ایئرلائن کے آفس سے بڑھوائی جا سکتی ہے۔ 
٭ ہرگز نروس نہیں ہوں نہ جلد بازی کا شکار، ہر بات کا جواب پرسکون طریقے سے دیں۔

فائزہ نذیر احمد
  

No comments:

Powered by Blogger.