Header Ads

Breaking News
recent

ٹی وی کے رمضان بازار

ماہ رمضان کی نیکیاں اور برکتیں اپنی جگہ لیکن کچھ عرصے سے جس انداز میں
اس مبارک مہینے کا استقبال کیا جاتا ہے اس کے لیے کوئی موزوں اور مہذب لفظ مجھے نہیں مل رہا (’’پارلیمانی‘‘ میں نے اس لیے نہیں کہا کہ آج کل پارلیمنٹ میں بھی بعض اوقات ایسی زبان سننے میں آتی ہے جو اس سے پہلے صرف گلی محلے یا ٹی وی چینلز کے سیاسی شوز میں استعمال ہوا کرتی تھی) رمضان کی آمد کے ساتھ ہی ہوشربا مہنگائی‘ ملاوٹ اور منافع خوری کے قصے تو اب پرانے اور مستقل ہو چکے اور یہ بات بھی اپنا اثر کھو چکی ہے کہ غیر مسلم ممالک میں لوگ اپنے مذہبی تہواروں بالخصوص کرسمس کے موقع پر کس طرح عام استعمال کی تمام چیزوں کی قیمتوں میں رضا کارانہ طور پر کمی کر دیتے ہیں

لیکن ٹی وی چینلز کے رمضان سے متعلق بالخصوص افطار کے وقت نشر کیے جانے والے پروگراموں میں جو کچھ اور جس طرح سے پیش کیا جا رہا ہے وہ خطرناک بھی ہے اور شرم ناک بھی کہ سرمایہ دارانہ اور تاجرانہ ذہنیت نے جس بری طرح سے اس صبر‘ قناعت اور عبودیت سے سرشار خوب صورت مہینے کو لالچ‘ طمع‘ نمائش اور کھیل تماشے کی شکل دے دی ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کہ ان پروگراموں کی معرفت جو پیغام پروگرام میں شریک افراد اور ٹی وی اسکرینوں کے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں تک پہنچ رہا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جو جرم و سزا کی نام نہاد سچی کہانیوں کی نیم ڈرامائی پیش کش کے ذریعے پہنچ رہا تھا اور جس پر اطلاعات کے مطابق بالآخر پیمرا نے پابندی عائد کر دی ہے۔
بظاہر ان رمضان بازاروں میں ہال میں موجود تماشائیوں کو مختلف حوالوں سے تحفے پیش کیے جاتے ہیں جن میں سے کچھ بیش قیمت اور باقی پرکشش اور چمک دار ہوتے ہیں لیکن اگر غور سے دیکھا جائے تو اس پیش کش میں جس حقارت‘ تفریح اور بازاری پن کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اس کا کوئی دور کا تعلق بھی اس مہینے کی معرفت ملنے والے الوہی پیغام سے نہیں بنتا، چیزیں لوگوں کی طرف اس طرح پھینکی جاتی ہیں جیسے بعض جانوروں کو خوراک ڈالی جاتی ہے اور اس دوران میں چھین جھپٹ اور فرمائشوں کے ایسے ایسے مناظر دیکھنے میں آتے ہیں کہ آنکھیں شرم سے جھک جاتی ہیں اور دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے کہ کس طرح فنا ہوجانے والی اشیاء کی ہوس اس مبارک مہینے کے تقدس اور پیغام کو پامال کر کے ایک ایسا اجتماعی Mind set تخلیق کر رہی ہے جو انسانوں کو واپس حیوانوں کی سطح پر لے آتا ہے اور مزید تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ دین‘ مذہب‘ اخلاقیات‘ روحانیت اور عبادت کے نام پر کیا جاتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان شوز میں شریک ہونے والے خواتین و حضرات کو کچھ ایجنسیاں قیمتاً مہیا کرتی ہیں اور کچھ مختلف حوالوں سے باقاعدہ ٹکٹ خرید کر اس بھیڑ میں شامل ہوتے ہیں کہ بڑا نہ سہی کوئی نہ کوئی انعام (خیرات) تو ان کے حصے میں آ ہی جائے گا۔ دولت کی طمع اور قیمتی اشیا کو جمع کرنے کا لالچ ایسا ہے کہ جس کی رو میں غریب اور متوسط طبقہ تو کیا وہ لوگ بھی بہہ جاتے ہیں جن کے گھروں میں ان کی دس سے زیادہ آیندہ نسلوں کے استعمال کے لیے بھی دولت پہلے سے موجود ہوتی ہے، حوالے کے لیے آف شور کمپنیوں‘ کک بیکس‘ کمیشن اور رشوت کے کسی بھی کھاتے پر نگاہ ڈالی جا سکتی ہے۔ افطار کا ہنگام تو غروب آفتاب سے اذان مغرب کے درمیانی چند منٹوں پر مشتمل ہوتا ہے لیکن یہ ٹرانسمیشنز کئی کئی گھنٹوں پر محیط ہوتی ہیں اور ان کے سیٹ اس طرح سے لگائے جاتے ہیں کہ ’’مغل اعظم‘‘ بھی ان کو دیکھے تو کامپلیکس میں مبتلا ہو جائے۔

بظاہر یہ سب کچھ پروگرام کی Presentation کو دلکش‘ بہتر اور خوب صورت بنانے کے لیے کیا جاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ پروگرام ہے کیا جس کے لیے یہ سب اہتمام کیے جاتے ہیں؟ روزہ اور رمضان کا مہینہ تو بنیادی طور پر سادگی‘ ضبط اور تزکیہ نفس کی ایک مشق ہے جو ہماری ہی بہتری کے لیے ہم پر فرض کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے روزہ دار کردار کی ایک ایسی بلندی کے عمل میں شریک ہو جاتا ہے جو اسے خواہشات پر قابو پانے‘ رب کے سوا کسی سے نہ مانگنے اور قربانی اور ایثار کے خوب صورت اور تخلیقی جذبوں سے بہرہ مند کرتا ہے اور بیک وقت ہمارے جسم اور روح کی اوور ہالنگ کرتا ہے کہ گیارہ ماہ کی دنیاداری کا لگایا ہوا زنگ اور میل اتر جائے لیکن ٹی وی کے ان رمضان بازاروں نے اس مقصد کو دانستہ یا نادانستہ طور پر تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

روزے کی فضیلت‘ آداب اور نوعیت سے متعلق معلوماتی پروگرام اور نعتیہ ادب اور نعت خوانی کے ساتھ ساتھ دلچسپ انداز میں بچوں اور کم مذہبی معلومات رکھنے والے لوگوں کی تعلیم و تربیت کے لیے متعلقہ پروگرام ضرور ہونے چاہئیں اور ایک محدود سطح پر پروگرام کے شرکا اور موجود ناظرین کی حوصلہ افزائی کے حوالے سے چھوٹے موٹے انعامات تحفے کی شکل میں دیے جا سکتے ہیں مگر ان کا مقصد واضح اور رخ متعین ہونا چاہیے، تجارتی کمپنیوں اور صنعتی اداروں کی اشتہار بازی بلاشبہ ان چینلز کی آمدنی کا ذریعہ ہیں اور اسی سے وہ اپنے تمام اخراجات بھی پورے کرتے ہیں ۔

مگر یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا کہ اس کے لیے ہر چیز کو داؤ پر لگا دیا جائے جن چیزوں کا تعلق معاشرے کے عمومی رویوں اصولوں اور اخلاقیات سے ہو اور جن معاملات میں عبادات شامل ہوں ان میں اس تجارتی انداز فکر کو عام روش سے ہٹ کر اور ان کی اہمیت‘ نوعیت اور انسانیت کے حوالے سے دیکھنا اور ان پر عمل کرنا بہت ضروری ہے۔ فرقہ بندی اور مذہبی اختلافات‘ عقائد اور تعصبات کی بحث میں پڑے بغیر ایسے مواقع پر اس طرح کے پروگراموں سے گریز کرنا چاہیے جو ان کی روح سے متصادم ہوں۔

کیا یہ ممکن نہیں کہ جس طرح مغربی ممالک میں کرسمس کے دوران مصنوعات بنانے والی کمپنیاں اور ان کو بیچنے والے دکاندار اپنے منافع کی شرح کم کر دیتے ہیں (اور اس کے باوجود ان کے کاروبار مستحکم اور ترقی پذیر رہتے ہیں) ہمارے چینلز کے مالکان اور پالیسی ساز بھی ان پروگراموں کو نفع اندوزی کے دائرے سے نکال دیں اور ان کو جنس بازار بنانے کے بجائے ایک معاشرتی فرض اور کمٹمنٹ کی طرح دیکھیں اور دکھائیں۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اس سے نہ صرف یہ کہ ان کی آمدنی کم نہیں ہو گی بلکہ ان کے رزق میں ایک ایسی برکت بھی شامل ہو جائے گی جس کے فیض سے ان کی دنیا بھی روشن رہے گی اور آخرت بھی۔ آزما کر دیکھ لیں۔

امجد اسلام امجد

No comments:

Powered by Blogger.