Header Ads

Breaking News
recent

نااہل کون؟

کبھی کبھی آپ کو پہلے سے واضح باتیں دوبارہ کہنی پڑتی ہیں۔ دہشتگردی ایک
قومی مسئلہ ہے اور یہ پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کو لاحق سب سے فوری اور بڑا خطرہ ہے۔ دہشتگردی ایک صوبے کا مسئلہ نہیں، اور نہ ہی یہ ایک سیاسی جماعت کے بارے میں ہے۔ اور اس کا مقابلہ بھی صرف ایک ادارہ اکیلے نہیں کر سکتا۔ مگر لگتا ہے کہ یہ تمام حقائق پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت اور فوجی قیادت پر واضح نہیں ہیں۔

گذشتہ ہفتے سیاسی اور سویلین قیادت کے لیے متحد ہو کر کھڑے ہونے اور قوم کو اعتماد میں لینے کا ایک اچھا موقع تھا۔ اس کے بجائے افراتفری اور خفیہ طور پر آدھی رات کو ملاقاتیں دیکھنے میں آئیں۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جنرل راحیل شریف سے ملاقات میں زیرِ بحث آنے والے نکات کے بارے میں عوام بہت ہی کم جانتے ہیں۔ عوام کو یہ بھی نہیں معلوم کہ اس ملاقات کو خفیہ رکھنے کی آخر کیا ضرورت تھی۔ جو بات معلوم ہے وہ یہ کہ جب بھی ان دونوں کے باس نواز شریف کے عسکری قیادت سے تعلقات تناؤ کا شکار ہوتے ہیں، تو یہی دونوں شخصیات ثالث کا کردار ادا کرتی ہیں۔
لیکن سول ملٹری اختلافات پر توجہ دینا ہمارے سامنے موجود خطرے، یعنی پنجاب میں دہشتگردی، سے نظر چرانا ہوگا، جسے جماعت الاحرار نے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے اور صوبے میں موجود دیگر دہشتگرد تنظیمیں جس میں حصہ لینے کے لیے پر تول رہی ہیں۔ پنجاب میں دہشتگردی کو فوری اور مؤثر طور پر شکست دینی ہے تو سیاسی اور عسکری قیادت کو کوتاہ بینی اداراتی مفادات کو ایک طرف رکھتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔

فوج کے بارے میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ وہ ہر جگہ، ہر دائرہ کار میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہتی ہے۔ یہ پریشان کن ہے۔ فوجی عدالتوں سے لے کر گرفتار کرنے اور حراست میں رکھنے کے غیر معمولی اختیارات، اور بحالی اور اصلاحات کے عمل تک، فوج نے ریاست کے سویلین حصے میں بھی خاصی جگہ بنا لی ہے۔
سویلین حکومت کو پسِ پشت ڈالنے کی یہ بدقسمت وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ ہمیں تیزی کی ضرورت ہے، اور سویلین اداروں میں ہمت و عزم اور صلاحیت کی کمی ہے، مگر اس کا اثر انتہائی خطرناک ہوگا۔ سکیورٹی پالیسی پر عسکری اداروں کی اجارہ داری طویل مدت میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے لیے نقصاندہ ثابت ہوگی۔

مگر مجموعی طور پر سیاسی طبقے اور خصوصی طور پر پاکستان مسلم لیگ ن کے بارے میں کیا؟ ضربِ عضب اور نیشنل ایکشن پلان نے سویلین سائیڈ کو انسدادِ دہشتگردی کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کے لیے کوئی تحرک فراہم نہیں کیا۔ نیکٹا کو ہوا میں معلق چھوڑ دیا گیا، قانونی اصلاحات کو نظرانداز کر دیا گیا اور عدالتی اصلاحات پر بھی کوئی کام نہیں کیا گیا۔

صرف وفاقی حکومت ہی نہیں، بلکہ صوبائی حکومتوں میں بھی دور اندیشی نظر نہیں آئی۔ سندھ اور خیبر پختونخواہ کی ترجیحات میں پولیس اصلاحات شامل نہیں، جبکہ بلوچستان علیحدگی پسندوں سے لڑنے میں مصروف ہے۔ اس دوران پارلیمنٹ مفلوج نظر آتی ہے۔ پی آئی اے کی نجکاری کے لیے ایک جوائنٹ سیشن فوراً بلایا جا سکتا ہے مگر کوئی بھی جماعت سکیورٹی پالیسی پر بحث یا قانونی اصلاحات نہیں کرنا چاہتی۔ اس سے بھی زیادہ پریشان کن بات یہ ہے کہ ممتاز قادری کے حامی مظاہرین کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن اب انسدادِ دہشتگردی قوانین پر بھی نظرِثانی کرنے کے لیے تیار ہے۔

فوج بھلے ہی اپنے دائرہ کار سے تجاوز کر رہی ہے، مگر یہ سویلین سائیڈ ہے جو خود اپنے اختیارات سے دستبردار ہو رہی ہے۔

یہ اداریہ ڈان اخبار میں 4 اپریل 2016 کو شائع ہوا۔

No comments:

Powered by Blogger.