Header Ads

Breaking News
recent

مہنگی نظر آنے والی سستی گھڑی

چاہے فون نے کئی چیزوں کی ضرورت کا خاتمہ کردیا ہو، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کلائی پر گھڑی باندھنے کا فیشن اب بھی جوں کا توں قائم ہے بلکہ اس کی اہمیت میں مزید اضافہ ہوا ہے۔اس کی وجہ سادہ سی ہے۔ مرد کوئی دوسرا زیور تو پہنتا نہیں اور واحد مردانہ زیور یہی ہے، جسے قبولیت عام حاصل ہے۔ ورنہ انگوٹھی یا کانوں میں کچھ پہننے کو عام طور پر اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ اس لیے کلائی کی گھڑی کے معاملے میں آج بھی مرد کافی سنجیدہ ہیں،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ فیشن کی علامت سمجھی جانے والی گھڑیاں بہت مہنگی ہیں۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے کئی سستی گھڑیاں بھی مارکیٹ میں موجود ہیں، لیکن سادہ سی بات ہے، وہ سستی ہیں اور غیر معیاری بھی۔

اگر آپ کو کم قیمت میں معیاری گھڑی درکار ہے ،تو آپ کو تلاش بسیار کے بعد ہی کوئی ایسی گھڑی مل پائے گی۔ رولیکس اور پیٹک فلپس خریدنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس لیے زیادہ تر افراد ٹائمیکس، نکسن اور ڈینیل ویلنگٹن جیسی گھڑیوں کا رخ کرتے ہیں، جو اتنی سستی تو نہیں ہیں، لیکن جس معیار کی ہیں، اس میں قیمت بنتی ضرور ہے۔ لیکن اگر آپ اسی جیسی گھڑیاں پسند کرتے ہیں اور 100 ڈالرز یعنی 10 ہزار روپے بھی خرچ نہیں کرنا چاہتے تو بیلجیئم کی کومونو گھڑیاں بہترین برانڈ ہیں۔ خوبصورت، سادہ اور بظاہر بہت مہنگی نظر آنے والی کومونو گھڑیاں 100 ڈالرز سے کہیں کم قیمت میں دستیاب ہیں۔

 کومونو کا ایک برانڈ میگنس ہے، جس کی یہ سرمئی و ارغوانی رنگ کی گھڑی ہمیں بہت پسند ہے۔ گو کہ میگنس گھڑی کئی رنگوں اور چمڑے کے پٹوں میں دستیاب ہے، جیسا کہ سیاہ و بھورے میں، لیکن دلچسپ ترین بات یہ ہے کہ اس کی قیمت 60 ڈالرز سے بھی کم ہے، یعنی 6 ہزار روپے سے بھی۔ اگر آپ روایتی اور سادہ لیکن خوبصورت گھڑی کی تلاش میں ہے، جو آپ کی جیب پر بھی بھاری نہ پڑے تو ابھی ایمیزن کا رخ کیجیے اور یہ خوبصورت گھڑی تین رنگوں میں حاصل کیجیے

No comments:

Powered by Blogger.