Header Ads

Breaking News
recent

وٹس ایپ کی بے پناہ مقبولیت

اگر آپ موبائل پر انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں اور خاص طور پر اگر سمارٹ فون کے مالک ہیں ،تو لازمی طور آپ وٹس ایپ کے صارف بھی ہوں گے۔ وٹس ایپ نے ایک کراس پلیٹ فارم میسجنگ سروس کی حیثیت سے اپنے سفر کاآغاز کیا اورقریباً ہر موبائل پلیٹ فارم پر دستیاب ہونے کی وجہ سے یہ آج ہر موبائل صارف کی ضرورت بن گئی ہے۔ وٹس ایپ کو استعمال کرتے ہوئے صرف انٹرنیٹ کنکشن کے ذریعے آپ کسی بھی وٹس ایپ صارف کے ساتھ ٹیکسٹ میسج، تصاویر  وڈیوز اور وائس کال کا فوری تبادلہ کر سکتے ہیں۔

یہاں ہم اس انتہائی مقبول انسٹنٹ میسجنگ سروس کے بارے میں کچھ دلچسپ حقائق بیان کرتے ہیں۔

 وٹس ایپ : سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ ایپ 1۔ 19 ارب ڈالر میں فیس بُک کو فروخت دو سال قبل فروری 2014ء میں وٹس ایپ کی مقبولیت کی وجہ سے فیس بک نے اس کو 19 ارب ڈالر کی ناقابل یقین قیمت میں خریدلیا تھا۔ 19 ارب ڈالر کتنی بڑی قیمت ہے ؟ اس کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ نوکیا جیسی معروف کمپنی کا موبائل ڈویژن مائیکروسافٹ نے قریباً ساڑے 7 ارب ڈالر میں خریدا تھا۔ اس کے علاوہ گوگل نے ایک اور موبائل ساز ادارے مٹرولا موبلیٹی کو صرف پونے 3 ارب ڈالر میں چینی کمپنی لینوو کے ہاتھ بیچا تھا۔ اسی وجہ سے وٹس ایپ کی فروخت ٹیکنالوجی کی دنیا کی آج تک کی سب سے مہنگی قیمت میں ہوئی ہے۔ وٹس ایپ اب فیس بک کی ملکیت ہے۔

2۔ وٹس ایپ نے اعلان کیا ہے کہ وٹس ایپ کے فعال صارفین کی تعداد ایک ارب سے تجاوز کر چکی ہے،یعنی دنیامیں ہر 7 میں سے ایک آدمی کے پاس وٹس ایپ کا اکاؤنٹ موجود ہے۔ یہ بات دلچسپی سے پڑھی جائے گی کہ ایک سال پہلے کمپنی نے 50 کروڑ صارفین حاصل کرنے کا سنگ میل عبور کیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف ایک سال میں وٹس ایپ پر 50 کروڑ افراد نے اکاؤنٹ بنایا ہے، یعنی اس ایپ کی مقبولیت مزید تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

3۔ روزانہ 42 ارب پیغامات کی ترسیل وٹس ایپ کے مطابق اس ایپلی کیشن کے صارفین روزانہ 42 ارب میسجز کا تبادلہ کرتے ہیں یہی نہیں بلکہ وٹس ایپ کے پلیٹ فارم کے ذریعے ہر 24 گھنٹوں میں ڈھائی کروڑ وڈیوز بھی ایک دوسرے سے شیئر کی جاتی ہیں۔

4۔ بالکل مفت سروسوٹس ایپ کی خاص بات یہ ہی کہ اب یہ سروس بالکل مفت دستیاب ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اس سروس کی فیس صرف ایک ڈالر سالانہ تھی، مگر کمپنی نے جنوری 2016ء سے وہ بھی ختم کر دی ہے اور اب ہر صارف زندگی بھر بغیر کسی فیس اور اشتہارات کی جھنجٹ کے وٹس ایپ استعمال کر سکتا ہے۔

5۔ وٹس ایپ وائس کا لوٹس ایپ نے کتوبر 2014ء میں مفت وائس کال فراہم کرنے کی سروس کا آغاز کیا ہے اور بہت سے لوگوں کیلئے اب یہ فون کال کا متبادل ہے اورمفت انٹرنیٹ وائس کال فیچر کی وجہ سے یہ مائیکروسافٹ کی مقبول عام سروس ’’سکائپ‘‘کے بالمقابل بھی آ چکی ہے۔

6۔ اگرچہ وٹس ایپ بین الاقوامی طور پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی میسجنگ سروس ہے، لیکن اس کے باوجود بہت سے ملکوں مقامی میسجنگ ایپس کی حکمرانی ہے۔ جیسا کہ میسجنگ ایپ’’ وی چیٹ‘‘ کے چین میں 50 کروڑ صارفین ہیں۔ اسی طرح ’’لائن ‘‘ جاپان جبکہ ’’کاکیو ٹک ‘‘کوریا میں مقبول ترین میسجنگ ایپس ہیں۔

7۔ پیسے بنانے کی نرم پالیسی وٹس ایپ میں دیگر ایپس کی طرح سب سکرپشن فیس،اشتہارات یا سٹکرز بیچ کر پیسے نہیں کمائے جاتے بلکہ اس کی ایک ڈالر سالانہ قیمت کو بھی وٹس ایپ جنوری 2016ء سے ختم کر دیا ہے ، یوں یہ اب ایک بالکل مفت سروس بن گئی ہے۔ کمپنی کے بانی کم جان قوم کا کہنا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ ہر انسان کو قابل بھروسہ اور کم خرچ سروس کی ذریعے دنیا بھر سے رابطہ رکھنے کے قابل بنایا جائے‘‘۔

8۔آغاز اور فروخت کی دلچسپ کہانی وٹس ایپ کے بانی جان کوم اور برائن ایکٹن نے 2007ء میں یاہو میں ملازمت سے استعفیٰ دیا اور اس کے بعد انہوں سے فیس بک میں ملازمت کیلئے درخواست دی ،جس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ فروری 2009ء میں انھوں نے وٹس ایپ کا آغاز کیااور صرف پانچ سال بعد فیس بک نے ان کی بنائی ہوئی ایپ کو 19 ارب ڈالر میں خریدا، جن میں سے 4 ارب کیش جبکہ باقی رقم فیس بک شیئر کی صورت میں دی گئی ،یوں اب یہ دونوں فیس بک میں 12 فیصدشیئر کے مالک ہیں۔    

No comments:

Powered by Blogger.