Header Ads

Breaking News
recent

زرعی شعبے کا زوال اور کسان کی زبوں حالی

پاکستان میں زراعت کو ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی قرار دیا جاتا ہے جس کی
تقویت سے قوی اقتصادیات ، مضبوط اور جس کا انحطاط معاشی عدم استحکام کا باعث بنتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ زراعت پر جہاں دو تہائی آبادی کا براہ راست انحصار ہے وہاں بڑی بڑی صنعتوں کا دارو مدار بھی زرعی شعبہ پر (Agro Based)ہے جبکہ غیر ملکی زرمبادلہ کا بیشتر حصہ بھی بلاواسطہ یا بالواسطہ اسی شعبہ سے حاصل ہوتا ہے

 ان زمینی حقائق کے پیش نظر ارباب حل و عقد بالخصوص اکنامک مینجرز کو ملکی ضروریات کی فراہمی اور غیر ملکی احتیاج سے نجات کی خاطر پوری سنجیدگی سے اس بات کی فکر کرنی چاہیے کہ اگر یہ شعبہ سال بہ سال ترقی کی مطلوبہ شرح کی بجائے روبہ زوال ہے تو اس کے دوررس منفی اثرات سے بچنے کیلئے جن ٹھوس تدابیر کی ضرورت ہے ان کو ترجیحی بنیادوں پر پختہ عزم کے ساتھ رو بہ عمل لایا جائے ۔

 ظاہر ہے زرعی شعبہ کے ترقی کی راہ پر گامزن ہونے سے جہاں دیہات میں خوشحالی کا دور دورہ نظر آئیگا وہاں ٹیکسٹائل ، رائس شیلرز، شوگر، آئل ، فلور ملز اور لیدر جیسی صنعتوں کا پہیہ سارا سال رواں دواں رکھنے میں مدد ملے گی۔ زرعی خام مال کو مشینری سے گزار کر قیمتی اشیاء (Value added) میں تبدیل کرنے سے در آمدات میں کمی اور برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ سے غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدن کو بڑھاوا(Boost) ملتا ہے دوسری طرف زراعت کے انحطاط پذیر ہونے پر اس کا منفی پہلو بھی پوری شدت سے سامنے آتا ہے۔

 دیہی آبادی میں مالی بدحالی کے نتیجہ میں مایوسی اور اضمحلال پیدا ہونے سے آبادی کے شہروں میں منتقل ہونے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے جس سے وہاں پر انتظامی سماجی اور معاشی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ زرعی پیداوار کے بحران کا شکار ہونے پر صرف صنعتوں کی پیداواری صلاحیت ہی متاثر نہیں ہوتی شہروں میں تجارتی سرگرمیاں بھی ماند پڑ جاتی ہیں ۔ دیہی آبادی اپنی زرعی اشیائے ضرورت کے علاوہ صحت تعلیم لباس جیسی بنیادی ضروریات کیلئے شہروں میں جا کر خریدوفروخت کرتی ہے اس لئے اس کی آمدن بری طرح متاثر ہونے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بازار میں دوکاندار ہاتھ پر ہاتھ دھرے گاہکوں کی راہ تکتے رہ جاتے ہیں جو اپنی تنگدستی کے باعث بازار کا رخ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔

زرعی پالیسی ۔۔ منفی اثرات:
بدقسمتی سے پچھلے دو تین سال سے ملک کے بیشتر حصوں میں یہ انتہائی منفی اور ناخوشگوار صورتحال کارفرما ہے ۔ دو بڑی فصلیں کپاس اور چاول سنگین بحران سے دوچار ہیں ان کی پیدواری لاگت (Cost of Production) میں اضافہ پیداوار میں کمی اور قیمت میں اتنی گراوٹ آچکی ہے کہ کسان اگلی فصل کی کاشت کے تقاضے پورا کرنے کی سکت نہیں رکھتے اور بہت سے یہ آبائی پیشہ ترک کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں جبکہ کوئی متبادل روزگار بھی دسترس میں نظر نہیں آرہا۔
دوسری طرف ملک کی معیشت کا جو نقشہ سامنے آرہا ہے وہ انتہائی تاریک مستقبل کا آئینہ دار لگتا ہے خدانخواستہ۔ سٹیٹ بنک اور دوسرے مالیاتی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ملک 181ارب ڈالر کا مقروض ہے جس کی اقساط ادا کرنے پر قومی بجٹ کا بڑا حصہ صرف ہوجاتا ہے جبکہ دفاع کے علاوہ تعلیم صحت و دیگر بنیادی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں سخت مشکلات کا سامنا ہی نہیں کرنا پڑتا کڑی سیاسی و اقتصادی شرائط پر مزید قرضہ لینے پر بھی مجبور ہونا پڑتا ہے۔ موجودہ تشویش ناک حالات برقرار رہنے کی صورت میں 65/70 فیصد دیہی آبادی کا 90فیصد حصہ شدید مالی بد حالی کا شکار ہونے کے باعث دیوالیہ پن کے قریب پہنچ جائے گا جس کے دوررس سماجی انتظامی اور سیاسی اثرات مرتب ہوں گے۔

کپاس اور چاول کا بحران:
اس وقت ملک کی بڑی فصلیں شدید بحران سے دوچار ہیں ۔ پچھلے سال کپاس کی فصل انتہائی خراب رہی فی ایکڑ پیداوار بوجوہ بہت کم رہی ۔ برداشت کے موقع پر مارکیٹ شدید مندے کا شکار ہوئی جس سے کاشتکاروں کو بھاری خسارہ اٹھانا پڑا۔ اب ٹیکسٹائل کی صنعت کا پہیہ چالو رکھنے کیلئے بھارت سے روئی در آمد کی جارہی ہے۔ جبکہ ملکی جننگ فیکٹریاں بری طرح متاثر ہوچکی ہیں۔ دوسری بڑی غذائی و بر آمدی جنس، چاول کا حال اس سے بھی دگر گوں ہے۔ گزشتہ تین سال سے چاول کالاکھوں ٹن سٹاک گوداموں میں پڑا سڑ رہا ہے ۔

 سرمایہ منجمد ہونے سے برآمد کنندگان اور ڈیلر بری طرح زیربار ہیں ۔ اس کیفیت کے نتیجہ میں جہاں ملک کی دو ڈھائی ارب ڈالر کی سالانہ آمدن متاثر ہوئی ہے وہاں چاول کی کاشت اور کاشتکاروں پر شدید منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ حالیہ سیزن میں نرخوں میں 50 فیصدگراوٹ سے کسانوں کے اخراجات کاشت بھی پورے نہیں ہوئے ۔ گنے کے کاشتکاروں کا بھی بری طرح استحصال کیا جا رہا ہے۔ 

گنے کی قیمت میں مناسب اضافہ سے انکار کے ساتھ قیمت کی ادائیگی سے 
مہینوں بلکہ سالوں تک محروم رکھا جاتا ہے ۔ شوگر ملیں کروڑوں اربوں روپوں کی نادہندہ ہیں۔ کسان سراپا احتجاج ہیں اور حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی جبکہ بیشتر شوگر ملیں حکمران کی اپنی ملکیت ہیں۔ گندم کی حالت یہ ہے کہ لاکھوں ٹن غلہ سرکاری گوداموں میں پڑا تلف ہورہا ہے۔ پاسکو، محکمہ خوراک زیر بار ہے لیکن حکومت اسے برآمد کرنے کیلئے کوئی اقدام کرنے کی جیسے ضرورت ہی محسوس نہیں کر رہی۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ گزشتہ سال وافر سٹاک ہونے کے باوجودیو کرائن سے 7لاکھ ٹن گندم درآمد کر لی گئی جو کافی عرصہ تک معمہ بنی رہی ابھی تک یہ سکینڈل بے نقاب نہیں ہوسکا۔

زرعی تحقیق کا فقدان۔
ایک المیہ:ہمارے ملک میں زراعت کا ایک بڑا المیہ یہ رہا ہے کہ اس شعبہ کو دور حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے تحقیق (Research) کے پہلو کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ تحقیق اور جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر متعدد ممالک نے جہاں زیادہ پیداوار دینے والے بیج تیار کئے وہاں پیداواری لاگت (Cost of Production) میں نمایاں کمی کے طریقے دریافت کرنے پر فوری توجہ دی۔ پھر اس تحقیق کے ثمرات سے بہرہ ور ہونے کیلئے کسانوں کو اس کی مکمل آگاہی دینے کے ساتھ بیج کھاد پانی ادویہ جیسی ضروریات کاشت (Input) کی بآسانی فراہمی کو بھی یقینی بنایا ۔

اس طرح امریکہ و یورپ ہی نہیں مشرق وسطی جنوبی ایشیا اورمشرق بعید کے ممالک نے بھی کسان کی انفرادی اور ملک کی مجموعی آمدن میں کئی گنا اضافہ کیا ہے۔ ہماری سرحد کے اس پار بھارت ترقی دادہ بیجوں اور کھاد بجلی ادویہ کی ارزاں نرخوں پر فراہمی سے نہ صرف خوفناک قحط کی صورتحال سے نکل چکا ہے بلکہ عالمی منڈی میں مقابلہ کی بہتر پوزیشن میں ہونے کی وجہ سے اس کی برآمدی اجناس بھاری زرمبادلہ حاصل کر رہی ہیں۔ جبکہ ہم جو کبھی کپاس اور چاول جیسی فصلوں کی برآمد کے سلسلے میں عالمی منڈی میں ممتاز مقام رکھتے تھے بین الاقوامی مارکیٹ سے باہر ہو چکے ہیں اور پیاز ٹماٹر جیسی سبزیاں بھارت سے در آمد کرنے میں عار محسوس کرتے ہیں نہ ہی اپنی کوتاہیوں کے ازالے کیلئے سنجیدہ دکھائی دیتے ہیں ۔ اس پرکسان سراپا احتجاج ہیں۔

کسانوں پر کمر توڑ بوجھ:
یہ معاشی المیہ زرعی پالیسی کی مکمل ناکامی کا ثبوت ہے۔ ہم اپنے چاول ’’ سپر باسمتی‘‘ کے اعلیٰ بیج سے محروم ہو چکے ہیں کائنات یا انڈین باسمتی کے نام سے جو بیج کاشت کیا جا رہا ہے وہ بھی اپنی پیداواری صلاحیت کھورہا ہے۔ اسی طرح چارہ سبزیات کے ترقی دادہ بیج امریکہ و یورپ کے علاوہ بھارت سے بھی در آمد ہورہے ہیں جو ہمارے ارباب بست و کشاد کیلئے بڑا چیلنج ہے:

ا یک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے
ہماری حکومتیں زرعی تحقیق کے سلسلے میں مجرمانہ غفلت کی مرتکب ہونے کے ساتھ ساتھ پیداوار کی قیمت کو لاگت کے ساتھ منسلک کرنے کی بھی قطعی روا دار نہیں حتیٰ کہ اپنی ہی مقررہ امدادی قیمت پر کسانوں کی جنس خریدنے میں اداروں کی بے حسی اور کرپشن کے باعث کاشتکاروں کی زبردست حوصلہ شکنی کی جاتی ہے ۔ ستم بالا ئے ستم یہ کہ زراعت پر فکسڈ زرعی ٹیکس کے ساتھ اب کمر توڑ زرعی انکم ٹیکس بھی لگا دیا گیا ہے جو مرے کو مارے شاہ مدار کی عملی تفسیر ہے۔

اصلاح احوال کے تقاضے:
وطن عزیز معاشی مشکلات اور قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے عالمی اداروں اور بعض حکومتوں کے سخت دباؤ میں ہے جس سے نجات کیلئے لازم ہے کہ زراعت کی بحالی و ترقی کیلئے ہنگامی منصوبہ پر کام کیا جائے ۔ تحقیقی اداروں کو پوری طرح فعال کر کے چاول گندم کپاس گنا چارہ سبزیوں کے ترقی دادہ بیج اور پیداواری لاگت کم کرنے کے طریقے دریافت کرنے کا ٹاسک دیا جائے اور مکمل وسائل مہیا کئے جائیں۔

اس طرح ایک طرف ہم غذائی خود کفالت حاصل کرنے کے ساتھ عالمی منڈی میں مقابلہ کی بہتر پوزیشن میں آنے پر چاول کپاس گندم اور پھلوں سے بھاری زرمبادلہ بھی حاصل کر سکیں گے تو دوسری طرف خام مال ارزانی و فراوانی سے میسر آنے پر صنعتیں سارا سال چلتی رہنے سے برآمدات کے علاوہ روزگار کے مواقع میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا جو قرضوں کی لعنت اور عالمی اداروں کی کڑی شرائط سے نجات اور عالمی برادری میں باوقار اور خوشحال قوم کے طور پر اپنا مقام بنانے کا باعث بنے گا۔

امان اللہ چٹھہ

No comments:

Powered by Blogger.