Header Ads

Breaking News
recent

عالم اسلام کی سب سے بڑی فوجی مشقیں

واللہ! نگاہیں خیرہ ہو گئیں۔ یہ امہ کی طاقت کاایک باجبروت مظاہرہ تھا، اکیس اسلامی ممالک کی افواج نے اس میں حصہ لیاا ور آخری روز کی مشقوں کا نظارہ ان ممالک کے راہنماﺅں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

ان مشقوں کا ایک ہی مقصد بتایا جارہا ہے کہ ہمیں اپنے مشترکہ دشمن کے خلاف بھر پور تیاری کرنی ہے،سر دست یہ مشترکہ خطرہ دہشت گردوں کی طرف سے در پیش ہے جو مختلف ناموں سے خون ناحق بہانے میںمصروف ہیں ، افریقہ میں ان کا نام بوکو حرام ہے ، مڈل ایسٹ میں داعش کا چہرہ سامنے کر دیا گیا ہے، دنیا کے لئے وہ القائدہ کے نام سے پہچانے جاتے ہیں اور پاکستان کے لئے انہوںنے ٹی ٹی پی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ، ہو سکتا ہے کہ ان کی ڈور ہلانے والا مرکز کوئی ایک ہی ہو۔یہ بھی امکان ہے کہ ان میں سے ہر کوئی آزادانہ طور پر سرگرم عمل ہو مگر دیکھا جائے تو بحیثیت مجموعی ان کا طرز عمل ایک جیسا ہے، غیر مسلموں کے خلاف چند ایک ایکشن مگرمسلمانوں کا خون روزانہ بہایا جا رہا ہے۔

بظاہر لگتا ہے کہ امریکہ ان کا اصل دشمن ہے مگر لیبیا اور اب شام میں القائدہ 
اور داعش کی سرپرستی امریکی اور نیٹو فورسز کے ہاتھ میں ہے۔ کرنل قذافی کو تو ایک نیٹو میزائل نے نشانہ بنایا۔ اور شام میں داعش کے لشکر کو باقاعدہ امریکی کانگرس کی طرف سے منظور شدہ مالی ا ور اسلحی امداد ملتی ہے۔ بشا رالاسد کو ہٹانے کے لئے امریکی سربراہی میں ایک فوجی ا تحاد سرگرم عمل ہے جس میں ترکی کا کردار پیش پیش ہے۔ یہی ترکی نیٹوفورسز کے ساتھ افغانستان میں بھی چودہ برس سے موجود ہے۔
میں پہلے ایک ا عتراض کا جواب دے لوں، پھر بات آگے بڑھاﺅں گا۔
عام طور پر اسلامی ممالک میں انتشار او افراق کا رونا رویا جاتا ہے، یہ سوال بھی پوچھا جاتا ہے کہ اوا ٓئی سی کہاں سو رہی ہے، آر سی ڈی یا ایکو کا اتحاد کس خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے اور عرب لیگ یاخلیج تعاون کونسل کس مرض کی دوا ہے۔ ان سوالوں کا ایک ہی مطلب ہے کہ مسلمان ملک باہم متحد کیوںنہیںہوتے اور اغیار کے مقابل اپنی قوت کو مجتمع کیوںنہیں کرتے۔

اور اب اگر سعودی عرب نے بتیس اسلامی ملکوں کے ایک فوجی ا تحاد کا اعلان کر کے ان ممالک کی ا فواج کے ساتھ مشترکہ مشقیں کی ہیں تو ان پر طرح طرح کے سوالات داغے جا رہے ہیں۔کوئی کہتا ہے کہ یہ ایرا ن کے خلاف اتحاد ہے ، کوئی کہتا ہے کہ اس اتحاد کا مقصد شام کو فتح کرنا ہے، کوئی کہتا ہے سعودی عرب اصل میںیمن کو زیر کرنا چا ہتا ہے، جتنے منہ اتنی باتیں۔

تو پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ کیا مسلمان ممالک آپس میں بٹے رہیں، ایک دوسرے سے دور دور رہیں، یا ان میں اتحاد ہونا چاہئے،اور انہیں باہم مل کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہئے۔
صاف ظاہر ہے کہ تنقید کرنےو الے کنفیوژن کا شکار ہیں یا جان بوجھ کر کنفیوژن پھیلا رہے ہیں۔

سعودی عرب نے بہر حال ایک انشی ایٹو لیا ہے اور یہ کمال کا انشی ایٹو ہے، اس اتحاد میں ملائیشیا بھی ہے، مصر بھی ہے، پاکستان بھی ہے،خلیجی ممالک بھی ہیں،سوڈان بھی ہے، ان ممالک کے سربراہان مملکت و حکومت نے ان مشقوں کا معائنہ کیا ہے، یہاں پاکستان کے نواز شریف بھی تھے، سوڈان کے عمر البشیر بھی تھے۔ یمن کے عبدالہادی بھی تھے، ا ور مصر کے جنرل السیسی بھی ۔
ذرا دیکھئے کہ ان مشقوں میں کس فائر پاور کا مظاہرہ کیا گیا، ساڑھے تین لاکھ فوجی،بیس ہزار ٹینک، ساڑھے چار ہزار لڑاکا اور بمبار طیارے،اور چار سو ساٹھ ہیلی کاپٹر اس میں حصہ لے رہے تھے۔ اتنی بڑی فوجی مشق آج تک نہیں ہوئی، کم از کم عرب خطے میںنہیں ہوئی اور اگر یہ ہو گئی ہے تو اس پر تنقید کاہے کو، شکوک و شبھات کیوں۔

اس مشق کے منتظمین نے کسی وقت بھی یہ نہیں کہا کہ یہ ایران یا شام کے خلاف ہے یا عراق کے خلاف ہے ۔
مگر دھول بہت اڑائی گئی۔

یہاں تک کہا گیا کہ ا تنی بڑی فوجی طاقت کی مشق صرف مشق تک محدود نہیں رہے گی ، یہ درا صل شام میں ایڈوانس کی تیاری ہے۔ اسی لئے شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے دھمکی بھی دے ڈالی کہ جس کسی نے سرحد پار کرنے کی کوشش کی، وہ لکڑی کے تابوت میں واپس جائے گا۔

یہ بھی کہا گیا کہ اگر ہزاروں ٹینکوں کی مدد سے شام پر یلغار شروع کر دی گئی تو روس اسے اعلان جنگ تصور کرے گا اور یہ دور کی کوڑی لائی گئی کہ ٹینکوں کے ا س طوفان کو روکنے کے لئے روس مجبور ہو گا کہ ان کا راستہ روکنے کے لئے ٹیکٹیکل ایٹمی اسلحہ استعمال کرے۔اور فضائی حملہ آوروں کو تباہ و برباد کرنے کے لئے روس اپنے ایس 300 او ر ایس400 میزائلوںکا بے دریغ استعمال کرے جو فضا میں اڑنے والی ہر شے کو خاکستر بنا ڈالیں گے۔

اصول کی بات یہ ہے کہ خطہ عرب میں نہ روس کو دخل اندازی کرنی چاہئے۔ نہ امریکہ ا ور نیٹو کو، اس علاقے کو ا سکے حال پہ چھوڑ دینا چاہئے ، تاکہ یہ اپنے مسائل کا حل خود تلاش کرے، بات چیت سے کر لے تو بہتر ہے ا ور اگر کوئی فریق دہشت گردی کا راستہ ترک کرنے پر آمادہ نہ ہو تو اسے طاقت سے کچل دیا جائے۔ سعودی عرب کی حالیہ مشقوں میں ا سی مہارت ا ور طاقت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

کیا مٹھی بھر دہشت گردوں کے بس میں ہے کہ وہ ساڑھے تین لاکھ فوج کو شکست دے سکیں، چوبیس ہزار ٹینکوں کو بھسم کر سکیں اور ساڑھے چار ہزار لڑاکااوربمبار طیاروں،اور چار سو ساٹھ ہیلی کاپٹروں کے بیڑے کے سامنے دم بھی مار سکیں۔ پاکستان کی فوج ا سکا عشر عشیر بھی نہیں لیکن اس نے دہشت گردوں کو کچل کر رکھ دیاہے ا ور اب ان کی آخری پناہ گاہوں کو راکھ کیا جارہا ہے،ا سکے لئے ہمیں مزید ایف سولہ کا ا نتظار ضرور ہے جوا مریکہ نے مستقبل قریب میں دینے ہیں مگر جن کی ڈیلوری پر بھارت واویلا مچا رہا ہے، بھارت کا واویلا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ اس کے تربیت یافتہ دہشت گردوں کا نام ونشان مٹ گیا تو پاکستان کو عدم استحکام سے دو چار کر نے کے لئے ا س کے سارے خواب مر جائیں گے۔

سعودی عرب میں الرعد الشمال نامی مشقوں میں جنرل راحیل شریف کی شرکت معنی خیز ہے، پوری دنیا میں ان کی دھاک بیٹھ چکی ہے کہ وہ دہشت گردوں کا قلع قمع کئے بغیر چین سے نہیں بیٹھتے،اور خاطر جمع رکھئے۔ اللہ اس عرب اتحاد کو سلامت اور برقرار رکھے، اس خطے میں کوئی دہشت گرد داخل ہوتے وقت کانوں کو ہاتھ لگائے گا کہ ان کا اصل مقابلہ جنرل راحیل شریف کی تربیت یافتہ فوج سے ہو گا۔
اسد اللہ غالب 


No comments:

Powered by Blogger.