Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان سالانہ 42 ہزار ہیکٹر جنگلات سے محروم ہو رہا ہے

پاکستان میں گزشتہ 2 عشروں کے دوران جنگلات کی تعداد میں خطرناک حد تک کمی آنے کا انکشاف ہوا ہے، اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنگلات مجموعی طور پر کل  16 لاکھ 17 ہزار ہیکٹر رقبے پر ہیں جو مجموعی ملکی رقبے کا محض 2.2 فیصد بنتا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی جنگلات کی تعداد میں سے کل 3 لاکھ 40 ہزار ہیکٹر رقبے پر مشتمل جنگلات پلانٹڈ ہیں، اس رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2010 کے دوران پاکستان میں سالانہ 42 ہزار ہیکٹر رقبہ جنگلات سے محروم ہو رہا ہے جو کل رقبے کا 1.66 فیصد بنتا ہے، ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا میں جنگلات کی شرح میں کمی والے کل143 ملکوں کی فہرست میں پاکستان 113نمبر پر موجود ہے۔
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی رپورٹ کے برعکس پاکستان فاریسٹ انسٹیٹیوٹ پشاور کی جانب سے 2011 کے دوران جاری سروے کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر کل45 لاکھ 49 ہزار507 ہیکٹر ارضی جنگلات پر محیط ہے جو پاکستان کے کل رقبے کا 5.1 فیصد بنتا ہے۔
اس سروے کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ جنگلات آزاد کشمیر میں 4 لاکھ 35 ہزار 138 ہیکٹر رقبے پر محیط ہیں جو آزاد کشمیر کے کل رقبے کا 36.9 فیصد بنتا ہے، خیبر پختونخوا میں 20.3 فیصد، اسلام آباد میں 22.6 فیصد، فاٹا میں 19.5 فیصد،گلگت بلتستان میں 4.8 فیصد، سندھ میں 4.6 فیصد، پنجاب میں2.7 فیصد اور بلوچستان میں محض 1.4 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔

شبیر حسین


No comments:

Powered by Blogger.