Header Ads

Breaking News
recent

کالاباغ ڈیم سالانہ 20 ارب یونٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے

سندھ طاس واٹر کونسل پاکستان کے چیئرمین محمد سلمان خان کا کہنا ہے کہ کالاباغ ڈیم سالانہ 20ارب یونٹ بجلی پیدا کرسکتا ہے، جس کی آئندہ 5 سال تک اوسط لاگت 3 سے 5 روپے فی کلو واٹ ہوگی ،جس سے سالانہ 300 ارب روپے کی بچت ہوگی جو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے خاتمے، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور روپے کی قدر مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔۔۔ ماہرین عرصہ دراز سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر زور دے رہے ہیں ،لیکن نہ تو سیاستدانوں نے اورنہ ہی حکومتوں نے اس پر کوئی توجہ دی ،جس کی وجہ سے ملک کی بقا داؤ پرلگی ہے۔

کالاباغ ڈیم وہ واحد پراجیکٹ ہے جس سے نہ صرف 5 سال کے قلیل عرصے میں انتہائی سستی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے ،بلکہ وسیع تر معاشی فوائد بھی حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ کالاباغ ڈیم کی مدد سے صوبہ سرحد کی 8لاکھ ایکڑ زمین کو زیرِکاشت لایا جاسکے گا جو دریائے سندھ کی سطح سے سو ڈیڑھ سو فٹ بلند ہے۔ یہ زمین صرف اسی صورت میں زیر کاشت لائی جاسکتی ہے، جب دریا کی سطح بلند ہو اور یہ کالاباغ ڈیم کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ اس کامتبادل ذریعہ دریا کے پانی کو پمپ کرکے اوپر پہنچانا ہے ،جس پر 5ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ لاگت آئے گی ،جبکہ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے بعد نہر کے ذریعے پانی ملنے سے یہ لاگت صرف 400روپے فی ایکڑ سالانہ رہ جائے گی۔

 سندھ میں آبپاشی کا نظام سکڑ رہا ہے، سندھ کے آبی قلت کے شکار علاقوں کو صرف کالاباغ ڈیم کے ذریعے ہی پانی کی فراہمی ممکن ہے۔ یہ اہم منصوبہ سندھ کی معیشت کو مستحکم کرنے، بڑے پیمانے پر روزگار کی فراہمی، زرعی پیداوار میں نمایاں اضافے اور دیہی علاقوں سے غربت کے خاتمے میں بہت اہم کردار ادا کرے گا۔
کالا باغ ڈیم بلاشبہ پاکستان کی ترقی، خوشحالی اور سلامتی کا ضامن منصوبہ تھا، لیکن اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے سپیشل ڈیسک قائم کر کے اربوں روپے کے فنڈز مختص کر دیے۔ اِس فنڈ کی مدد سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرنے والے سیاستدانوں اور خلاف لکھنے اور بولنے والے نام نہاد دانشوروں کی ’’ضروریات‘‘ پوری کی جاتی تھیں۔ یہ ماننے میں کوئی مرج نہیں کہ ہمارے سیاستدانوں اور دانشوروں کی کم عقلی اور ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے دشمن 30 سال سے اپنے مقصد میں کامیاب چلا آ رہا ہے اور کالا باغ ڈیم منصوبے کی پہلی اینٹ بھی نہیں رکھی جا سکی، بلکہ اس منصوبے کو ہی متنازعہ بنا دیا گیا 

  بھارتی خفیہ ادارے کے ٹکڑوں پر پلنے والوں نے اِسے پاکستان توڑنے سے ہی تعبیر کر دیا،یوں یہ منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ہی متنازع ہوکر ایسا اچھوت بن گیا ،جسے چْھونے سے اس کے حمایتی بھی خوف کھانے لگے، حالانکہ ماہرین آج بھی متفق ہیں کہ اگر یہ منصوبہ مکمل ہو جائے تواس منصوبے کے ذریعے 3600 میگاواٹ بجلی پیدا کر کے عوام کو محض ڈھائی روپے فی یونٹ میں فراہم کی جا سکتی ہے۔

 اس کے علاوہ کالا باغ ڈیم کی جھیل میں اتنا زیادہ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا کہ اس میں سے زرعی مقاصد کے لئے سندھ کو 4 ملین ایکڑ فٹ، خیبر پختونخوا کو 2.2 ملین ایکڑ فٹ، پنجاب کو 2 ملین ایکڑ فٹ اور بلوچستان کو 1.5 ملین ایکڑ فٹ پانی مل سکے گا۔ کالا باغ ڈیم کی جھیل کے پانی سے چاروں صوبے خوراک میں بھی خود کفیل ہو سکتے ہیں اور سیلاب کی تباہ کاریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔

ماہرین کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا موجودہ تخمینہ 9 ارب ڈالر کے لگ بھگ لگاتے ہیں ،جبکہ یہ لاگت 2010ء کے سیلاب میں ہونے والے ساڑھے نو ارب ڈالر اور 2014ء کے سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے 20 ارب ڈالر کے نقصانات سے کہیں کم ہے۔ بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لئے گاہے بہ گاہے جو پانی دریاؤں میں چھوڑتا ہے، وہی پانی پاکستان میں سیلاب کا باعث بن کر ہر دو تین سال بعد اربوں ڈالر کا نقصان پہنچاتا ہے۔

 ذرا سوچیں کہ اگر پاکستان کے پاس پانی ذخیرہ کرنے والے کالا باغ ڈیم جیسے آبی ذخائر موجود ہوں تو پاکستان محض بھارت کے چھوڑے ہوئے پانی کو ذخیرہ کر کے 50 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے اور بجلی کی یہ پیداوار ہماری موجودہ ضروریات اور بجلی پیدا کرنے کی موجودہ صلاحیت سے تین گنا زیادہ ہو گی۔ صرف یہی نہیں ،بلکہ اگر ہم پانی سے سستی بجلی پیدا کرنے کی کوشش کریں تو موجودہ حالات میں 220 ارب روپے سالانہ بچائے جا سکتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہم کالاباغ ڈیم منصوبے کی حفاظت نہ کر سکے ،یوں اس منصوبے سے حاصل ہو سکنے والے فوائد بھی محض خواب بن کر رہ گئے۔

پانی کو محفوظ کرنے کے لئے بڑے ڈیم تعمیر نہ کرنے کی وجہ سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ زمین بنجر ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود ہر سال خوراک کی درآمد پراربوں روپیہ ضائع کر رہا ہے۔ پانی کی شدید قلت کی وجہ سے بجلی کی پیداوار اتنی متاثر ہو چکی ہے کہ ملک میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 سے 20 گھنٹوں پر محیط ہو چکا ہے۔ بجلی کے بحران نے پاکستان کے اہم بڑے صنعتی یونٹوں سمیت ہزاروں کارخانوں و ملوں کو تالے لگوا دیئے ہیں۔ملوں و کارخانوں کی تالابندی نے نہ صرف غریبوں کے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ہیں ،بلکہ اس سے بیروزگاروں کی ایک بڑی فوج بھی تیار ہو چکی ہے جو باعزت روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ملک دشمنوں و دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ کر چند کوڑیوں کے عوض اپنے ہی وطن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ 

پانی زندگی ہے، جہاں پانی نہیں، وہاں زندگی بھی نہیں۔ جب کبھی زلزلوں نے دریاؤں کے رْخ موڑے تو ان کی پرانی گزرگاہوں کے دونوں اطراف میں سرسبز و شاداب لہلہاتے کھیت دیکھتے ہی دیکھتے بے آب و گیاہ صحراؤں میں بدل گئے۔ انسان آج بھی کرۂ ارض سے زندگی کی تلاش میں سرگرداں سیاروں پر کمند ڈالنے میں کوشاں ہے۔بجلی اور گیس کی قلت کی وجہ سے ملک کو بھاری نقصان کا سامنا ہے، لیکن بدقسمتی سے کالاباغ ڈیم کو سیاسی ایشو بنا دیا گیا ہے، حالانکہ یہ سیاسی ایشو نہیں ،بلکہ معاشی بقا کا معاملہ ہے۔ غربت کے خاتمے اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لئے کالاباغ ڈیم ناگزیر ہے ،لہٰذا اس کی فوری تعمیر کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں۔

ریاض احمد چودھری

No comments:

Powered by Blogger.