Header Ads

Breaking News
recent

نئے لکھنے والوں کیلئے

اپنے احساسات اور جذبات کو قلم بند کرنا، قابلِ دید عمل ہے۔ کالم نگاری اخبار میں ہو یا انٹرنیٹ پر، دونوں میں مکمل عبور ہونا ضروری ہے کیونکہ کسی اخبار یا ویب سائٹ کی شہرت اور مقبولیت کا انحصار آپ کے طرزِ بیان پر منحصر ہوتا ہے۔ تحریریں صدیوں تک اپنا اثر چھوڑتی ہیں ،اس لیے کالم کہانی یا کوئی کتاب لکھنے کیلئے کچھ باتیں ذہن نشینی رکھنا ضروری ہیں۔

 نئے لکھنے والوں کیلئے کچھ ہدایات تجاویز کروں گی، جن پر عمل کر کے وہ اپنی تحریر کو مؤثر اور منفرد بنا سکتے ہیں: 1۔ کسی بھی موضوع پر لکھنے کیلئے اس موضوع کے بارے میں مکمل علم ہونا ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اگر آپ منتخب شدہ موضوع کے بارے میں مکمل معلومات سے نا آشنا ہیں تو کئی ابہام باقی رہ جاتے ہیں، تا ہم ایسے موضوع پر تحریر کیا جائے، جس پر آپ کو مکمل دسترس حاصل ہو۔ 2۔ آرٹیکل کے عنوان کے انتخاب کے بعد موضوع کے متعلقہ تمام معلومات کو فرضی طور پر یکجا کر لیا جائے، پھر اس کے بعد ان نقاط کو تفصیل سے تحریر میں لائیں۔ 3۔ تعارفی پیراگراف آرٹیکل میں پہلا تاثر ہوتا ہے۔ 
اگر تعارفی پیراگراف بہتر اور منفرد ہو تو پڑھنے والا آپ کی تحریر کو توجہ سے پڑھنے پر مجبور ہو جائے گا، لہٰذا تعارفی پیراگراف پر اثر انداز میں لکھیں۔ 5۔ اگر کوئی تنقیدی آرٹیکل ہو تو تمام قسم کے ریڈرز کو مدِ نظر رکھتے ہوئے تحریری انداز اپنائیں تا کہ پڑھنے والے اکتاہٹ اور بیزاری محسوس نہ کریں۔ 6۔ اپنے خیالات کا اظہار نہایت واضح الفاظ میں کریں۔

 زبان نہایت سادہ ہونی چاہیے تا کہ ہر حلقہ کے لوگ آپ کی تحریر سمجھ سکیں۔ 7۔ لمبے اور مشکل پیراگراف کی بجائے مختصر اور آسان فہم پیراگرافوں پر توجہ دیں کیونکہ اس سے پڑھنے والے پر اچھا تاثر پڑتا ہے۔ 8۔ اپنی رائے کے اظہار و خیالات کے ساتھ مناسب مثال ضرور دیں تا کہ پڑھنے والا آپ کے خیالات کو مکمل طور پر سمجھ سکے۔ 9۔ آرٹیکل میں معلومات درست دیں کیونکہ آپ کی دی گئی معلومات پڑھنے والوں پر اثر چھوڑتی ہے۔ 10۔ آرٹیکل پر مکمل بحث کے بعد اس کو بہتر انداز میں کسی نتیجے پر پہنچائیں۔

 مختصراً یہ کہ آرٹیکل، کالم یا کتاب تحریر کرنے کیلئے بہت محنت درکار ہوتی ہے کیونکہ لاکھوں لوگ مختلف تحریریں پڑھ چکے ہوتے ہیں اس لیے آپ کو نیا اور منفرد انداز اپنانا چاہیے، لہٰذا ہمیشہ اپنی تحریری مہارتوں کو مثبت انداز میں استعمال کرتے ہیں تا کہ لوگ آپ کی تحریریں سے مستفید ہو سکیں۔

سنیا گیلانی



No comments:

Powered by Blogger.