Header Ads

Breaking News
recent

ایٹم بم بمقابلہ ہائیڈروجن بم

ایٹم بم ہو یا ہائیڈروجن دونوں ہی نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی دو شکلیں ہیں۔ یوں کہہ لیجئے ہائیڈروجن بم ایسا خطر ناک ہتھیار ہے جو ایٹم بم سے بھی ہزار گنا زیادہ تباہی پھیلا سکتا ہے۔ رواں ہفتے شمالی کو ریا نے ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے کا اعلان کیا ہے۔البتہ عالمی برادری نے اس تجربے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس پر شکو ک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہناہے کہ وہ یہ بات ماننے میں تذبذب کا شکار ہیں کہ واقعی شمالی کوریا نے اس بم کو تیار کر لیا ہے۔ 

یہ بھی کہا گیا کہ اس تجربے کے بعد علاقے میں زلزلہ بھی آیا،جس کی شدت 5.1تھی۔ زلزلے کا مرکز 10کلو میٹر زیر زمین تھا۔ چین اور جنوبی کوریا کے حکام کی جانب سے کہا گیا کہ زلزلہ قدرتی نہیں تھا۔اس کے بعد دیگر ماہرین کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ہائیڈروجن بم کا تجربہ تھا یا ایٹم بم کا؟ کیونکہ 2013ء میں جب جنوبی کوریا نے ایٹم بم کا تجربہ کیا تھا تب بھی اس کی شدت اتنی ہی تھی،حالانکہ ہائیڈروجن بم، ایٹم بم کی نسبت زیادہ شدت کا حامل ہو تا ہے۔
 ایٹم بم سے ہونے والے نقصان کی شدت کا اندازہ ہم دوسری جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر کئے جانے والے حملوں سے لگا سکتے ہیں لیکن اب سوال یہ ہے کہ ہائیڈروجن بم کیا ایٹم بم سے بھی زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں؟ہائیڈروجن بم یا تھرمو نیو کلیئر بم ،ایٹم بم کی نسبت زیادہ طاقت ور ہوتے ہیں۔شمالی کوریا کی جانب سے ہائیڈروجن بم کے کامیاب تجربے پر ماہرین اس لئے بھی کنفیوژن کا شکار ہیں کہ اگر یہ ہائیڈروجن بم تھا تو پھر اس کی شدت دس گنا زیادہ ہونی چاہئے تھی۔ 

ایٹم اور ہائیڈروجن بم میں بنیادی فرق ہی ایٹم کی سطح سے شرو ع ہو تا ہے۔ہیروشیما اور ناگاساکی پر کئے گئے ایٹمی حملوں میں 15سے 20کلوٹن ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا جبکہ ایٹم بم کے مرکز کو تقسیم کرنے کے بعد نیوٹران حرکت میں آتے ہیں یوں ایک دھماکہ خیز ردعمل شروع ہو جا تا ہے جبکہ نومبر1952ء میں امریکہ میں پہلے ہائیڈروجن بم کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا تو اس میں 10,000کلوٹن این ٹی این کا استعمال کیا گیا تھا۔
اس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ اس کی تباہی کی نوعیت کیا ہو گی؟ہائیڈروجن بم بھی ایٹم بم ہی کی طرح کام کرتا ہے لیکن ایٹم بم میں یورینیم یا پلوٹینئم کی بڑی مقدار استعمال نہیں ہو تی جبکہ ہائیڈروجن بم میں دھماکے کو مزید طاقت ور بنانے کیلئے یورینئم کو بھی نمایاں طور پر استعمال کیا جا تا ہے۔ یورینئم ہائیڈروجن گیس پر اپنا دبائو بڑھا تا ہے تو ہائیڈروجن بم پھٹتا ہے ،اس دھماکے سے نیوٹران کی تقسیم ہوتی ہے جس سے پلوٹینئم کا ردعمل شروع ہو تا ہے،اس کی ریڈیو ایکٹیو شعاعیں زیادہ مہلک ثابت ہوتی ہیں۔

ایٹم اور ہائیڈروجن دونوں بم ہی روائتی ہتھیاروں کے بر عکس ان شعاعوں کی بدولت انسانی ہلاکتوں کا باعث بنتے ہیں جو ان کے اندر سے نکلتی ہیں۔ ایٹم بم میں تو بم کے اندرونی حصے ری ایکشن نہیں کرتے لیکن ہائیڈروجن بم میں اندرونی حصے بھی متحر ک ہو جاتے ہیں۔ہائیڈروجن بم چھوٹے سائز میں بنانا آسان ہیں ،لہٰذا انہیں میزائلوں میں آسانی سے نصب کیا جا سکتا ہے۔ایٹم بم کو دوسری جنگ عظیم میں استعمال کیا جا چکا ہے لیکن ہائیڈروجن بم کو بفضل خدا آج تک استعمال نہیں کیا گیا۔

حنا انور

No comments:

Powered by Blogger.