Header Ads

Breaking News
recent

عالمی سازشوں کا شکار پاکستان

امریکا میں رواں برس کے دوران مختلف مقامات پر ساڑھے تین سو کے قریب فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ ان سارے واقعات میں اسلحے کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔تشدد کے ان واقعات میں کئی سو افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان میں بھی زیادہ تر ہلاکتیں صرف تین درجن واقعات میں ہوئیں۔
  
جون کو بلیک چرچ حملے میں 9 افراد مارے گئے۔16 جولائی کو ملٹری ریکروٹمنٹ پر حملہ ہوا اس میں5 افراد قتل ہوئے۔ یکم اکتوبر کو ایک کمیونٹی کالج کو فائرنگ میں نشانہ بنایاگیا۔ اس حملے میں 9 افراد قتل ہوئے۔ لاراڈواسپرنگ پر حملے میں6 افراد قتل کردیے گئے۔ 15اکتوبر کو ایک سکول میں فائرنگ کی گئی جس میں کم سن بچوں کے ساتھ ان کے اساتذہ کو نشانہ بنایا گیا۔ریاست شمالی کیرولینا میں تین مسلمان طلبہ نشانہ بنے۔

اس طرح کے واقعات امریکا میں روز کا معمول ہیں۔ امریکا کی ریاست کیلی فورنیا میں گذشتہ ہفتے پیش آنے والے واقعے نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ڈرامائی انداز میں پاکستان کو اس میں براہ راست ملوث کیے جانے کی سازش کی جارہی ہے جس کے باعث پاکستانیوں کے لیے حالات کی سنگینی بڑھ گئی ہے۔ فائرنگ کے اس واقعے میں چودہ امریکی مارے گئے تھے۔

اس واقعے میں دو میاں بیوی رضوان فاروق اور تاشفین ملک پر ملوّث ہونے کا الزام عاید کیا جارہا ہے۔ رضوان پیدائشی امریکی ہیں جبکہ تاشفین پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں۔ اس برس پیش آنے والے ایک دو واقعات کو چھوڑ کر یہ سارا فساد انہی گورے اور کالے امریکیوں کا برپا کیا ہوا تھا جن کا تعلق نہ تو اسلام سے تھا اور نہ ہی وہ مسلمان تھے۔ الٹاان واقعات میں مسلمان بڑی تعداد میں متاثر ہوئے۔

ان میں چند ماہ قبل شمالی ریاست کیرولینا میں پیش آنے والے واقعے کا دنیا بھر میں بہت چرچا رہا۔ ریاست کیرولینا کے تین مسلمان طلبہ کو سر میں گولیاں مار کر قتل کردیاگیا۔مقتولین میں 23 سالہ ضیاءبرکات، ان کی 21 سالہ بیوی یسر اور 19 سالہ بہن رزان شامل تھیں۔ان کا چھیالیس سالہ کریگ ہکس نامی قاتل اسلام اور مسلمانوں سے شدید نفرت کرتا تھا۔ وہ کس قسم کا آدمی ہے، اس کے فیس بک پیج پر اس کے خیالات اور سرگرمیوں سے بخوبی پتا چل جاتاہے۔ مقتولین ایک ڈاکٹرفیملی سے تعلق رکھتے تھے۔

 ضیاءکے والد نفسیات کے ڈاکٹر ہیں جبکہ اس کی بڑی بہن سوزین برکات بھی ڈاکٹر ہے۔انہیں"مذہبی منافرت" کی بنیاد پر قتل کیا گیا تھا۔ ضیاءاور یسر کو ان کے پڑوسی کی جانب سے اس سانحے سے قبل دھمکیاں مل چکی تھیں لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ حالات یہاں تک بھی جا سکتے ہیں۔
مقتولین کے والد کا کہنا تھا کہ” مجھے یقین ہے کہ میری دو بیٹیوں اور داماد کو اسلام سے نفرت کی وجہ سے قتل کیا گیا''۔ جبکہ امریکی میڈیا نے شہریوں پر بار بار اسلامی دہشت گردی کے لفظ کی یلغار کرکے انھیں مسلمانوں سے خوف زدہ کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ شدت پسند ہمیں نشانہ بنارہے ہیں۔“مذکورہ سانحے میں جس انداز میں امریکی میڈیا نے اس واقعے کو رپورٹ کیا اس سے ایسا ظاہر کیا گیا کہ جیسے ایک معزز شہری کو غلطی سے ان تینوں کی اموات کے جرم میں گرفتار کیا گیا ہو۔

امریکی اور مغربی میڈیا کی بے حسی اور جان بوجھ کر نظر انداز کرنے کی پالیسی پر دنیا بھر میں شدید تنقید کی گئی۔ اس کہانی کا شرمناک اور افسوسناک پہلویہ ہے کہ امریکی اور پورے مغربی میڈیا نے اپنے روایتی تعصب کے باعث اس ہولناک واقعے کو چھپانا چاہا۔ جب یہ سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں پھیل گیا،تب بھی میڈیا اس واقعے کے اصل محرکات کو مٹانے کے چکروں میں رہا۔

مغربی میڈیا کی افسانہ طرازی

اس طرح کے تشدد کے کسی بھی واقعے کے بعد بین الاقوامی میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔مغربی ذرائع ابلاغ جو دکھانا چاہیں اور جس انداز میں کسی واقعے کو پیش کرنا چاہیں یہ ان کی مرضی پر منحصر ہوتا ہے۔ سب سے پہلے یہ تلاش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ واقعے میں کوئی مسلمان ملوّث ہے کہ نہیں۔ پھر اس کے تانے بانے دہشت گردی سے جوڑے جاتے ہیں۔ ایسے واقعات کو میڈیا میں نمایاں انداز میں پیش کیا جاتا ہے جن میں کسی بھی طرح مسلمانوں کے ملوّث ہونے کے امکانات ہوں۔ دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات تلاش کیے جاتے ہیں ۔ تراش خراش کے بعد ایک مکمل افسانہ ترتیب دیا جاتا ہے جو اپنے نتائج کے اعتبار سے بھرپور اثرات رکھتا ہے۔

حالیہ واقعہ بھی اس کی واضح مثال ہے۔ آغاز میں اس واقعے کو اسلام اور دہشت گردی سے منسوب کر کے ایجنڈا سیٹ کیا گیا۔اس کے بعد میڈیا کو اس کھوج میں لگا دیا گیا کہ وہ مخصوص دائرہ کار کے اندر رہ کرحقائق تلاش کریں۔ وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کی پریس کانفرنس اور حقائق کی وضاحت کے باوجود پاکستانی میڈیا بھی اسی کھوج میں لگا رہا کہ کوئی ایسی خبر تلاش کی جائے جس میں دہشت گردی کے تانے بانے پاکستان سے جوڑے جا سکیں۔ رفتہ رفتہ اس کے بارے میں سازشی تھیوریز کو مہمیز دی گئی۔

بین الاقوامی نشریاتی اداروں نے اس واقعے کو جس انداز میں رپورٹ کیا وہ بھی دل چسپی سے خالی نہیں۔ ان کا سب سے بڑا قابل اعتماد ذریعہ ذرائع ابلاغ ہیں۔ وہ جہاں بھی کوئی ایسی بات کہنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے میڈیا کا ایجنڈا سیٹ کیا جا سکتا ہو اس کے لیے وہ ایک جملہ استعمال کرتے آ رہے ہیں کہ'' ذرائع کا کہنا ہے''۔اس ابلاغی ذریعے میں کس قدر صداقت ہے،اس کی تحقیق نہیں کی جاتی۔
سب سے پہلے کہا گیا کہ امریکی فورسز کی مبینہ جوابی کارروائی میں ماری گئی خاتون بہت زیادہ مذہبی رجحان رکھتی تھی۔

اس کے ثبوت کے طور پر جو تصاویر میڈیا پر بار بار دکھائی گئی ہیں،ان میں اس کا چہرہ حجاب میں دکھایا گیا ہے حقیقت یہ ہے سعودی عرب کے ماحول میں پرورش پانے کے باوجود وہ مغربی تہذیب و ثقافت میں رچ بس گئی تھی۔اس کی ماڈرن اور لبرل تصاویر میڈیا نے نہیں دکھائی ہیں۔ حجاب اسلامی استعارے کے طور پراستعمال ہوتا ہے اس لیے اس کا مذاق اڑایا گیا۔پہلے کہا گیا کہ خاتون تاشفین ملک نے فیس بک کے ایک دوسرے اکاؤنٹ کے ذریعے عراق اور شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ (داعش) کے رہنما کی بیعت کے بارے میں پوسٹ کی تھی۔ اس اکاﺅنٹ کی تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

ایک صحافی بھائی دور کی کوڑی لایا کہ شادی کے بعد تاشفین نے کہا تھا کہ ’انھیں امریکا جا کر کوئی اہم کام کرنا ہے۔ پھر کہا گیا کہ تاشفین اور اس کے شوہر رضوان فاروق نے حملہ کرنے سے قبل ''بھرپور منصوبہ بندی'' کی تھی۔ چند گھنٹوں کے بعد ایک اور بیان سامنے آیا کہ حملہ آور جوڑے نے حملے سے قبل نشانہ بازی کی مشق کی تھی۔

تاشفین ملک کا تعلق لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز سے بھی جوڑنے کی کوشش کی گئی کہ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ اس کی تصویر ملی ہے۔ مولانا عبدالعزیز نے کسی بھی ایسی خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے کبھی اپنی اہلیہ یا بیٹی کے ساتھ کوئی تصویر نہیں بنوائی۔

وزیرداخلہ چودھری نثارعلی خان نے پریس کانفرنس میں تاشفین ملک کے حوالے سے بتایا کہ اس کا تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا۔تاہم وہ کئی برس پہلے اپنے والدین کے ساتھ سعودی عرب چلی گئی تھیں۔ تاشفین کی شادی بھی سعودی عرب میں ہوئی اور وہیں سے وہ امریکا گئیں۔ دوسری جانب خود امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کہتا ہے کہ ایسے شواہد نہیں ملے ہیں کہ ان دونوں حملہ آوروں نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے کہنے پر حملہ کیا ہو۔امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) نے کہا کہ فائرنگ کے ملزم رضوان فاروق اور ان کی اہلیہ تاشفین ملک کے خلاف اس سے قبل کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی ان کا نام شدت پسندی کے حامل افراد کی فہرست میں تھا۔

نقال پاکستانی میڈیا

بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی تقلید اور نقالی کے باعث پاکستان میں تحقیقاتی اور پیشہ ورانہ صحافت تو جیسے دم ہی توڑ گئی ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی اداروں کے اپنے مفادات ہیں۔ان کی تکمیل کے لیے ان کا اپنا ایجنڈا ہوتا ہے اور پروپیگنڈے کے وسیع جال کے ذریعے وہ اس پر کام کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کا خوبصورت تصور آخر کیوں اجاگر کریں گے۔ بلا تحقیق ان اداروں کی خبروں پر یقین کر لینے کا واضح مطلب ان کے مفادات کی تکمیل کے لیے خود کو رضاکارانہ طور پر پیش کرنا ہے۔

بریکنگ نیوز کے چکر میں صحافتی اقدار کا مذاق معمول بن چکا ہے۔ پاکستانی میڈیا اس دوڑ میں صحافتی اخلاقیات کو فراموش کر دیتا ہے۔ ہمیں اس رویّے پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستانی میڈیا اب کسی طرح یہ ثابت کرنے کی کوشش میں ہے کہ ان دونوں افراد کا تعلق کسی بھی حوالے سے داعش یا القاعدہ سے رہا ہے۔ اس واقعے کے ذریعے پاکستان میں داعش کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے اور پاکستان کو دوبارہ کسی عالمی سازش میں پھنسا کر تعمیر و ترقی کے سفر کو روک دینا اس سارے منصوبے کا بنیادی مقصد نظر آتا ہے۔

دہشت گردی کے واقعات تو دنیا بھر میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں پیش آتے ہیں لیکن دنیا بھر میں کوئی میڈیا ایسا نہیں ہو گا جو بلا تحقیق ملکی وقار کو داﺅ پر لگا کر دنیا کو تباہی کے دہانے پر لے جانے والی طاقتوں کو ایسا موقع فراہم کرے کہ وہ ملک کی بربادی اور تاراج کرنے کے عمل میں اپنا کردار ادا کریں۔

میڈیا رائے سازی میں انتہائی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں بھی شدت پسند رہ نما ابھر رہے ہیں لیکن ان شدت پسند رہ نماﺅں کا تو میڈیا میں کوئی تذکرہ نہیں ہوتا۔ ہر جگہ بلا سوچے سمجھے شدت پسندی کے سابقے اور لاحقے مسلمانوں پر چسپاں کر دیے جاتے ہیں۔ امریکا میں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند بین کارسن نے کہا ہے کہ امریکا کا صدر کسی مسلمان کو نہیں ہونا چاہیے۔اسی پارٹی کے ایک دوسرے مضبوط صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناہے کہ امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عاید ہونی چاہیے۔

قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس قدر متعصب اور شدت پسند رہ نما نہ صرف مقبول ہیں بلکہ امریکی ان خرافات پر یقین بھی رکھتے ہیں۔ جب اس طرح کے بیانات آئیں گے اور اسلحہ کنٹرول کا کوئی واضح قانون بھی نہیں لایا جاسکے گا تو دہشت گردی کے اس طرح کے واقعات بھی ہوتے رہیں گے۔ ایسی صورت حال میں صرف مسلمانوں ہی کو موردِ الزام ٹھہرانا کہاں کا انصاف ہے؟

سیّد عابد علی بخاری

No comments:

Powered by Blogger.