Header Ads

Breaking News
recent

سفید چھڑی کی ضرورت ریاست کو ہے

سندھ اسمبلی نے لگ بھگ دس ماہ پہلے خصوصی افراد (معذور)کے روزگار، بحالی و بہبود سے متعلق ایکٹ مجریہ دو ہزار چودہ منظور کیا۔ اس ایکٹ نے خصوصی افراد کی بحالی و بہبود سے متعلق وفاقی ایکٹ مجریہ انیس سو اکیاسی کی جگہ لے لی۔ سندھ اسمبلی کا ایکٹ سابق وفاقی ایکٹ کے مقابلے میں زیادہ جامع اور فلاحی ہے۔

مثلاً انیس سو اکیاسی کے ایکٹ میں معذوروں کے لیے تعلیمی اور روزگاری اداروں میں دو فیصد خصوصی کوٹہ رکھا گیا۔ لیکن اگر کوئی اس کوٹے کو نہ بھرے تو اس کے خلاف کوئی واضح تادیبی کارروائی نہیں ہو سکتی تھی۔ تاہم حکومتِ سندھ نے اس اہم شق کو موثر بناتے ہوئے نئے ایکٹ میں نجی و سرکاری اداروں کو پابند کیا ہے کہ جو ادارہ بھی معذوروں کا دو فیصد ملازمتی کوٹہ نہیں بھرے گا یا جزوی بھرتی کرے گا اسے بطور ازالہ خالی آسامیوں کی تنخواہ کے برابر رقم معذوروں کے بحالی فنڈ میں جمع کرانی ہو گی۔

حکومتِ سندھ کے اس ایکٹ کے تحت خصوصی طلبا و طالبات کو پچھتر فیصد تک فیس معافی ملے گی۔ خصوصی افراد کو ماہانہ گرانٹس ملیں گی اور ان کے بچوں کی شادی اخراجات کا ایک حصہ بھی حکومت برداشت کرے گی۔ خصوصی افراد کو معاشی خودکفالت کی خاطر چھوٹے کاروبار قائم کرنے کے لیے بلاسودی قرضے دیے جائیں گے۔ انھیں گھر بنانے کے لیے سرکاری اسکیموں میں پلاٹ رعائتی نرخوں پر ملیں گے۔
آپ نے دیکھا حکومتِ سندھ کس قدر انسان دوست ہے اور اسے اپنے معذور شہریوں کی ضروریات کا کتنا خیال ہے؟ بس ایک چھوٹی سی اڑچن آڑے آ گئی ہے۔ یعنی ایکٹ منظور ہونے کے دس ماہ بعد بھی وہ ذیلی ضابطے نہیں بن سکے جن کے ذریعے اس ایکٹ کا نفاذ ہو سکے۔ چونکہ ذیلی قوانین نہیں بن سکے اس لیے مختلف طبقہ ہائے زندگی کے نمایندہ معزز افراد پر مشتمل وہ کونسل بھی تشکیل نہیں پا سکی جو اس ایکٹ پر عمل درآمد کی نگرانی کرے۔ لہٰذا خصوصی افراد فی الحال یہی سوچ سوچ کے خوش ہو سکتے ہیں کہ ایکٹ کی پیدائش کاغذ پر تو ہو چکی مگر جب دادا مریں گے تب ہی بیل بٹیں گے۔

بس یہی المیہ ہے پاکستان جیسے ممالک کا جہاں قوانین تو ترقی یافتہ دنیا کے ہم پلہ ہیں لیکن عملی نفاذ کے لیے نسل در نسل انتظار بھی ناکافی ہے۔ یہ انتظار معذور اور غیر معذور میں مساوی بٹا ہوا ہے۔

کچھ سہولتیں دینے کے لیے کسی قانون یا ڈنڈے کی بھی ضرورت نہیں صرف کامن سینس استعمال کر کے معذوروں کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ مگر کیا کریں کہ کامن سینس بھی بہت مہنگی ہے۔ مثلاً جب بھی سرکار کوئی فٹ پاتھ بناتی ہے تو ٹھیکیدار کو یہی تو کہنا ہے کہ بھائی فٹ پاتھ جہاں سے شروع اور جہاں پے ختم ہوتی ہے وہاں اینٹوں کو تھوڑا سا اور زمین میں دبا کے سلوپ سا بنا دو تا کہ وھیل چئیرز آسانی سے فٹ پاتھ پر چڑھ اتر سکیں۔ ایسا کرنے سے فٹ پاتھ کے بجٹ میں ایک پائی کا بھی اضافہ نہیں ہو گا مگر وہیل چئیرز استعمال کرنے والوں کی نقل و حرکت آسان ہو جائے گی۔ لیکن اس طرح سے سوچے کون؟

کسی بھی صوبے یا شہر کی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بس یہی تو کہنا ہے کہ جب بھی کوئی پبلک یا کمرشل عمارت بنائی جائے تو بیرونی سیڑھیوں کے برابر میں یا سیڑھیوں کے درمیان ایک سلوپ بھی بنا دیا جائے تا کہ معذور افراد آسانی سے بلڈنگ کے اندر آ جا سکیں۔ اگر آپ نے چار واش روم نارمل لوگوں کے استعمال کے لیے بنائے ہیں تو پانچواں خصوصی افراد کی ضروریات کے حساب سے بھی بنا دیں۔ یہ سہولت دینے میں آخر کتنے اضافی پیسے لگیں گے۔ اگر کسی کثیر منزلہ عمارت میں لفٹ نہیں تو بجائے یہ کہ نابینا یا چلنے پھرنے سے معذور یا بیمار شہری اوپری منزلوں تک آنے جانے کے لیے کسی مددگار کو تلاش کرتے پھریں کیوں نہ گراؤنڈ فلور پر ہی ایک اہلکار بٹھا دیا جائے جو ان کے دستاویزی و دیگر مسائل حل کر دے اور معذور افراد کو اوپر جانے کا مشورہ دینے کے بجائے ان کی فائلیں اوپر بھیج دے۔ اس انتظام میں ادارے کے کتنے اضافی پیسے خرچ ہو جائیں گے؟ کیا بسوں اور ٹرینوں میں معذور افراد کے لیے چند سیٹیں خالی رکھنے سے کمپنی یا ادارے پر بہت بڑا مالی بوجھ پڑ جائے گا؟ کیا پارکنگ لاٹ میں ایک سیکشن معذوروں کی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے مخصوص کرنے سے پارکنگ لاٹ کا منتظم دیوالیہ ہو جائے گا؟

شناختی کارڈ ہر پاکستانی کا حق ہے اور کہنے کو پاکستان میں معذوروں کی آبادی ڈھائی فیصد کے لگ بھگ ہے۔ لیکن ایک موقر انگریزی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اس سال جنوری تک نادرا نے نو کروڑ کے لگ بھگ جو شناختی کارڈ جاری کیے ان میں معذوروں کو جاری ہونے والے شناختی کارڈوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی کم تھی۔ سب سے گنجان صوبہ پنجاب جہاں معذوروں کا تناسب بھی آبادی کے اعتبار سے زیادہ ہونا چاہیے وہاں جاری ہونے والے شناختی کارڈوں میں سے صرف صفر اعشاریہ صفر آٹھ فیصد کارڈ معذورں کو دیے گئے، بلوچستان میں یہ شرح صفر اعشاریہ صفر نو، سندھ میں صفر اعشاریہ پندرہ اور خیبر پختون خوا میں صفر اعشاریہ چھیالیس فیصد رہی۔ (ہو سکتا ہے پچھلے دس ماہ کے دوران اس تعداد میں تھوڑا اضافہ ہو گیا ہو)۔

شناختی کارڈ کے بغیر کوئی سفری و غیر سفری دستاویز نہیں بن سکتی، تصدیق نہیں ہو سکتی، بینک اکاؤنٹ نہیں کھل سکتا، موبائل سم جاری نہیں ہو سکتی۔ جائداد خریدی بیچی نہیں جا سکتی، کرائے پر دی اور لی نہیں جا سکتی۔ اس تناظر میں صرف ایک فیصد سے بھی کم شناختی کارڈ اگر معذوروں کو جاری ہوں تو سوچئے ان کے پہلے سے موجود مسائل میں کتنے گنا اضافہ ہو جائے گا۔

لیکن معاملہ صرف شناختی کارڈ تک ہی تھوڑا ہے۔ ہر سرکار اپنے جوہر میں لکیر کی فقیر ہوتی ہے لہٰذا اسے معذوروں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کوئی ٹھوس کاغذی ثبوت درکار ہوتا ہے۔ وھیل چئر پر بیٹھا یا بیساکھی ٹیکتا یا سفید چھڑی ہلاتا شخص سرکار کو تب تک دکھائی نہیںدیتا جب تک اس شخص کے ہاتھ میں ڈسٹرکٹ اسیسمنٹ بورڈ کا جاری کردہ سرٹیفکیٹ نہ ہو کہ یہ شخص درحقیقت معذور ہے (کوئی بہروپیا نہیں) اور رعائتی تعلیمی سہولتوں یا روزگاری کوٹے کا مستحق ہے۔

اگر اسے کسی اسپتال میں رعائتی علاج کرانا ہو تو صرف اسیسمنٹ بورڈ کا سرٹیفکیٹ کافی نہیں جب تک متعلقہ اسپتال کا سرجن یہ نہ لکھ دے کہ یہ شخص واقعی معذور ہے (کوئی اداکار نہیں)۔ مگر آپ کسی بھی شہری سے پوچھ لیں بھائی یہ ڈسٹرکٹ اسیسمنٹ بورڈ کہاں بیٹھتا ہے؟ کوئی ٹھیک سے بتا دے تو میرا یہ قلم آپ کا۔ نتیجہ یہ ہے کہ عام لوگ تو خیر روزمرہ مسائل کے حل کے لیے جوتیاں چٹخاتے ہی ہیں مگر معذور متعلقہ سرٹیفکیٹ کے حصول کے لیے یہاں سے وہاں تک سفید چھڑی اور بیساکھی گھس لیتے ہیں۔

نتیجہ کیا ہے؟ اس وقت پاکستان میں اگر سو معذور افراد ہیں تو ان میں سے صرف چودہ کوئی کام کاج یا روزگار کر رہے ہیں۔ باقی اپنی روزمرہ زندگی کے لیے یا تو خاندان کے دستِ نگر ہیں یا پھر بھیک مانگنے سمیت ہر وہ کام کرنے پر مجبور ہیں جو عزتِ نفس کو کرچی کرچی کر کے سرمہ بنا دے۔

صرف دو فیصد معذور بچوں کی خصوصی تعلیمی اداروں تک اور باقی دو فیصد کی عمومی تعلیمی اداروں تک رسائی ہے۔ باقی چھیانوے فیصد کا اللہ حافظ ہے۔ گھر والے بھی معذور بچے کو کسی عام اسکول میں داخل کرنے سے ہچکچاتے ہیں کیونکہ انھیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں تضحیک کا نشانہ نہ بن جائے۔ خود اسکول کی انتظامیہ بھی ایسے بچوں کے داخلے کے لیے زیادہ پرجوش نہیں ہوتی۔ والدین کو پہلا مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ آپ اسے کسی اسپیشل اسکول میں کیوں نہیں داخل کراتے۔ حالانکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ ایسے بچے عام بچوں کے مقابلے میں زیادہ محنت کرتے ہیں اور زیادہ اچھے نمبر لاتے ہیں۔

اور جب یہ معذور تنگ آمد بجنگ آمد اپنے ان حقوق کے لیے کوئی مظاہرہ کرتے ہیں کہ جن کا وعدہ حکومت نے کیا تھا تو کوئی ان کی بات ہمدردی سے سننے کے لیے اپنے دو منٹ ضایع کرنا بھی پسند نہیں کرتا۔ اس ناالتفاتی پر معذور زیادہ برہم ہو جائیں تو پولیس کے ڈنڈے نابیناؤں کے سر اور وہیل چئرز پر پڑتے ہیں۔
البتہ ہر حکمران معذوروں کے عالمی دن (تین دسمبر) پر ایک قومی پیغام خوشی خوشی جاری کر دیتا ہے اور یہ حوالہ دینا بھی نہیں بھولتا کہ ریاستِ پاکستان اقوامِ متحدہ کے عالمی کنونشن برائے معذوران کی دستخطی ہونے کے ناتے اپنے خصوصی شہریوں کی ہر ممکن مدد کر رہی ہے۔ یہ پیغام اس ریاست کو چلانے والے جاری کرتے ہیں جہاں آج تک یہی آفیشل ڈیٹا نہیں بن سکا کہ اس ملک میں کتنے لوگ کس کس طرح کی معذوری میں مبتلا ہیں۔

تو کیا یہ کہنا زیادتی ہو گی کہ سفید چھڑی کی ضرورت کسی نابینا سے زیادہ ریاست کو ہے۔

وسعت اللہ خان
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس 

No comments:

Powered by Blogger.