Header Ads

Breaking News
recent

جاتی امرا، امرتسر سے جاتی امرا رائے ونڈ تک

’’کالعدم تنظیم‘‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جو اب عالمی سطح پر قبولیت کا درجہ رکھتی ہے۔ ہر ملک‘ خطے یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی کالعدم تنظیموںکی اپنی اپنی فہرستیں ہیں۔ امریکا کی جاری کردہ فہرست خاصی طویل ہے اور اس فہرست کو بنانے کے لیے اس نے صرف اور صرف اپنے مفادات کا دھیان رکھا ہے۔ اسے اس بات سے قطعاً کوئی سروکار نہیں کہ یہ تنظیم ہتھیار اٹھانے پر یقین رکھتی ہے یا نہیں‘ لیکن اگر صرف اس کے نظریات ہی اسقدر خطرناک ہیں کہ اس موجودہ کارپوریٹ سسٹم سے پیدا شدہ سیکولر جمہوری نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو ایسی تنظیم پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔ بلکہ بعض دفعہ تو ایسی تنظیموں پر اپنے ملک میں پابندی نہیں لگائی جاتی تا کہ خود کو انسانی حقوق کا علمبردار ثابت کیا جا سکے‘ لیکن اپنے زیر اثر اور کاسہ لیس ممالک سے کہا جاتا ہے کہ ان پر پابندی عائد کر دی جائے۔

بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ایسی تنظیم کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے جو ہتھیار اٹھانے پر یقین نہیں رکھتی‘ امریکا‘ برطانیہ اور یورپی ممالک اپنے ہاں پابندی نہیں لگاتے‘ لیکن وہ تمام مسلم ممالک اس پر پابندی لگاتے ہیں جو خلافت اسلامیہ کا مرکزی حصہ رہے ہیں۔ یہ مثال اس لیے دی کہ کوئی ایسی تنظیم جو خواہ کسی دوسرے ملک میں کام کر رہی ہو لیکن اس کا نظریہ امریکی اور مغربی مفادات کے لیے خطرہ سمجھا جائے تو اس پر پابندی لگوا دی جاتی ہے۔ ہر کسی کو اپنی مفادات کے مطابق اپنے دشمنوں کو واضح کرنا اور ان سے علیحدہ ہو کر قطع تعلق کرنا اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کا حق حاصل ہے اور ہر ملک ایسا کرتا ہے۔
ایک تنظیم ایسی ہے جو برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں سے نفرت کی بنا پر 27 ستمبر1925ء بھارت کے شہر ناگ پور میں قائم کی گئی۔
 اس تنظیم پر سب سے پہلی پابندی 24 جنوری 1947ء کو متحدہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ ملک خضر حیات ٹوانہ نے لگائی۔ یہ پابندی صرف چار دن کے لیے رہی کیونکہ انگریز سرکار نے خضر حیات ٹوانہ کو ان کی ’’جمہوری اوقات‘‘ یاد دلا دی کہ وہ خود کو ہرگز منتخب وزیر اعلیٰ نہ سمجھیں‘ آپ اس گدی پر انگریز کی مہربانی سے تشریف فرما ہیں۔ دوسری دفعہ اس تنظیم کو 4فروری 1948ء کو بھارتی حکومت نے کالعدم قرار دیا کیونکہ اس کے ایک رکن تنھورام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اس کالعدم تنظیم کو گاندھی کے قتل سے بری الذمہ قرار دے دیا لیکن آج تک یہ تنظیم گوڈسے کو ہیرو مانتی ہے اور اس کا یوم مناتی ہے۔

بھارت کی حکومت نے گیارہ جولائی 1949ء کو اس پر سے پابندی اٹھا دی۔ تیسری دفعہ جب اندرا گاندھی نے1975ء میں ملک میں ایمرجنسی لگائی تو اس کے خلاف ہنگامے کھڑے کرنے پر اس تنظیم کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔ یہ ایک زیر زمین سرگرمیوں میں ملوث گروہ بن گئی لیکن 1977ء میں جیسے ہی ایمر جنسی ختم ہوئی تنظیم بھی کالعدم نہ رہی۔ یہ ہے راشٹریہ سیوک سنگھ جسے تین بار کالعدم ہونے کا اعزاز حاصل رہا اور جسے برصغیر کی سب سے بڑی شدت پسند مذہبی متعصب تنظیم کہا جاتا ہے اور مغرب کے ماہرین اسے دنیا کی سب سے بڑی این جی او گردانتے ہیں۔ اس تنظیم کے افکار و نظریات سے متفق تقریباً 21 تنظیموں کو اس کا دست و بازو جنھیں انگریزی میں  کہتے ہیں کا اعزاز حاصل ہے ان میں سب سے بڑی تنظیم ایک سیاسی پارٹی‘ بھارتیہ جنتا پارٹی ہے۔

یہ راشٹریہ سیوک سنگھ کے افکار و نظریات کا سیاسی چہرہ ہے۔ اسی لیے اس سیاسی پارٹی سے آج تک کسی ایسے شخص کو لیڈر‘ رہنما‘ وزیر اعلیٰ یا وزیر اعظم نامزد ہی نہیں کیاگیا جس کی جوانی یا ایک طویل عمر راشٹریہ سیوک سنگھ کے رضا کار کے طور پر نہ گزری ہو۔ اٹل بہاری واجپائی اور نریندر مودی دونوں راشٹریہ سیوک سنگھ کے کئی دہائیوں تک رضاکار رہے ہیں اور ان کا اوڑھنا بچھونا اس کے نظریات ہیں۔ راشٹریہ سیوک سنگھ کے نظریات کیا ہیں۔ یہ ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ آپ ان کی ویب سائٹ پر جا کر انھیں دیکھ سکتے ہیں۔ یہ تنظیم پاکستان‘ بنگلہ دیش‘ نیپال اور سری لنکا کو ایک ہندو بھارت کا حصہ سمجھتی ہے جسے وہ اکھنڈ بھارت کہتے ہیںاور ان تمام کو دوبارہ ایک کرنے کی کوشش کرنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتی ہے۔

یہ تنظیم بھارت کے ترنگے پرچم کو نہیں مانتی کیونکہ وہ سمجھتی ہے کہ اس میں صرف ایک زرد رنگ ہونا چاہیے جو ہندو مذہب کی علامت ہے۔ یوں تو اس تنظیم کو کیشو بلی رام ہیگڑے نے قائم کیا لیکن اس کے خدوخال اور ہندو تعصب سے بھرپور ملٹری ونگ کی نشوونما مد سریش گول والکر نے کی جو اس وقت سربراہ تھا جب مہاتما گاندھی کو قتل کیا گیا۔ اس نے 1937ء سے 1939ء تک ہندو نوجوانوں کے ٹرینگ کیمپ قائم کیے اور انھیں ملٹری ٹرینگ دی۔ 1938ء میں اس کی مشہور کتاب راشٹرا ممنسا کا ہندی اور انگریزی میں ترجمہ شایع ہوا جس میں اس نے ’’ہم اور ہماری قومیت‘‘ کی تعریف کی تھی۔

یہ نظریات ہندو توا یعنی ہندو بھارت کے نظریات تھے۔ اس وقت اس تنظیم کے ایک لاکھ رضا کار تھے لیکن اس وقت اس نظریے پر جان دینے اور اس کے لیے بندوق اٹھانے والوں کی تعداد بیس لاکھ کے قریب ہے۔ گول والکر کے نظریات ہی اس وقت راشٹریہ سیوک سنگھ کے مینی فیسٹو کا حصہ ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیادی اساس ہیں اس کے نظریات کی بنیاد یہ نعرے ہیں جو راشٹریہ سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی  کی بنیادی اساس ہیں اس کے نظریات کی بنیاد یہ نعرے ہیں جو راشٹریہ سیوک سنگھ اور بھارتی جنتا پارٹی  کے لیے اساس رکھتے ہیں اور دونوں تنظیمیں انھیں اپنا نصب العین سمجھتی ہیں۔ میں گول والکر کے انگریزی ترجمہ کو یہاں درج کر رہا ہوں کیونکہ اصل کتاب مراٹھی اور مینی فیسٹو  مراٹھی میں ہے۔ یہ ترجمہ بھی آر ایس ایس کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔

The Non- Hindu People of Hindustan must either adopt Hindu Culture and Language,must  respect and hold in reverence the Hindu religion, must entertain no idea but  those of glorification of Hindu race and culture. They may stay in this contry, wholly subordinated to Hindu Nation,claiming nothing, deserving no privileges,not even Citizen Rights.

ہندوستان کے غیر ہندو افراد ہندو ثقافت اور زبان کو اختیار کریں۔ ہندو مذہب کی عزت و تکریم کرنا سیکھیں‘ اپنے ذہن میں ہندو ثقافت اور ہندو نسل کی ستائش کے علاوہ کوئی خیال نہ لائیں۔ وہ یہاں رہ سکتے ہیں لیکن مکمل طور پر ماتحت اور کم درجہ میں‘ ہندو قوم کے محکوم‘ کوئی حقوق نہیں مانگ سکتے‘ یہاں تک کہ شہری ’’حقوق بھی‘‘ نہیں۔ یہاں گزشتہ پچاس سالوں میں راشٹریہ سیوک سنگھ‘ سنگھ پریوار اور بجرنگ دل کے مظالم بیان نہیں کرنا چاہتا۔ بابری مسجد کے واقعے سے لے کر گجرات میں قتل عام تک کچھ بیان نہیں کرنا چاہتا۔ صرف دو چھوٹی سی عرضداشتیں رکھنا چاہتا ہوں۔

مسلمانوں کو دنیا میں تعصب کے حوالے سے بدنام کیا جاتا ہے لیکن کیا کسی بھی مسلمان ملک میں ایسی متعصب‘ ظالم‘ دہشت گرد تنظیم جس پر بار بار پابندی بھی لگی ہو‘ صرف اپنے متعصب نظریات کی بنیاد پر الیکشن جیت کر حکومت بنا سکتی ہے لیکن بھارت کی سیکولر جمہوریت  میں ہندو متعصب  جتتا بھی ہے اور قتل عام بھی کرتا ہے۔ دوسرا سوال نریندر مودی کے پاکستان آمد پر خوبصورت تبصرے کرنے والوں سے ہے۔ ایک جاتی امرا امرتسر میں بھی ہے جس کی نقل پر جاتی امرا یہاں بنایا گیا ہے۔ جاتی امرا رائے ونڈ کے مکین اگر آج امرتسر والے جاتی امرا میں ہوتے شاید نریندر مودی ان کے ساتھ سالگرہ کا کیک نہ کاٹتا‘  اس سرزمین پر جس نے آپ کو اللہ کے مقدس نام پر امن عطا کیا‘ عزت دی‘ سکون دیا۔ اسی سرزمین پر آپ ایک ایسے شخص کی آمد پر خوش ہیں جس کی ساری زندگی آپ کو برباد کرنے کی جدوجہد میں صرف ہوئی۔ اللہ کے نام پر حاصل کیے اس ملک کا اس طرح تمسخر اڑائیں گے تو اللہ کے غضب کو ہی آواز دیں گے پھر سوال نہ کریں کہ زلزلے کیوں آتے ہیں۔

اوریا مقبول جان

No comments:

Powered by Blogger.