Header Ads

Breaking News
recent

شام کے پھولو! ہم شرمندہ ہیں

کل رات جب میں اپنے بچوں کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا تو کسی نے مجھے شام کے ایک خاندان کی ویڈیو واٹس ایپ کی۔ دورانِ کھانا اسی وقت میں نے دیکھنا شروع کر دی۔ بس نہ پوچھیے کہ یہ ویڈیو دیکھ کر مجھ پراور میرے بچوں پر کیا گزری؟ اس ویڈیو میں ایک پاکستانی نژاد شامی خاندان کا المیہ تھا۔ دو معصوم بچے اور بچوں کا والد کھلے آسمان تلے ایک ساتھ سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ باپ کے ہاتھ میں صرف ایک خشک روٹی تھی اور اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو گر رہے تھے۔

 دونوں معصوم بچے اپنے بابا کے ہاتھ تھامے انہیں تسلی دینے کی کوشش کر رہے تھے کہ بابا جانی نہ روئیں۔‘‘ یہ حقیقت ہے جس نے بھی شام کے ان پھول سے بچوں اور بچیوں کی دل دہلا دینے والی تصویریں دیکھیں وہ بے بسی پر آنسو بہائے بغیر نہ رہ سکا۔

اس وقت میرے سامنے شام کے 96 زخمی بچوں کی تصاویر رکھی ہیں۔ یہ تصویر ایک معصوم سی بچی کی ہے جس کی عمر بمشکل دس یا بارہ برس ہوگی۔ اس بچی کے سر، ناک اور منہ سے خون بہہ رہا ہے۔ اس کی دونوں ٹانگیں شدید زخمی ہیں اور یہ ایک تباہ حال گھر کے سامنے اینٹوں، بجری اور ریت کے ڈھیر پر پڑی ہے۔ بچی کی دونوں آنکھیں کھلی ہیں اور اس کا لباس تار تار ہے۔ بچی کی یہ تصویر زبانِ حال سے دنیا کے حکمرانوں کو بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ ایک تصویر میں دو سال کے گلاب سے بچے کی گردن سے خون بہہ رہا ہے۔

 اس کے والدین اسپتال لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ان پر میزائل داغا گیا جس میں زخمی بچہ، ماں باپ سمیت شہید ہو جاتا ہے۔ یہ لاش عالمی ضمیروں سے سوال کناں ہے: ’’میرا جرم کیا ہے؟‘‘ ایک اور تصویر میں اسکول پر فضائی بمباری سے شہید ہونے والے 3 بچوں کی سفید کپڑوں میں لپٹی لاشیں رکھی ہیں۔ کفن سے بچوں کا منہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ ان کے چہرے اتنے خوبصورت ہیں کہ پیار کرنے کو جی چاہتا ہے۔
ان شامی بچوں کی لاشیں دنیا کے 245 آزاد ممالک سے انسانیت کے ناتے پوچھ رہی ہیں ہمیں کیوں مارا گیا؟ ایک کتے اور بلے کے مارے جانے پر احتجاج کرنے والی انسانی حقوق کی تنظیمیں کیوں لب بہ مہر ہیں؟
ایک تصویر میں دس سالہ بچے کی میت کو دفنانے کے لیے لے جایا جا رہا ہے۔ 

اس کے دوستوں نے میت کاندھوں پر اُٹھا رکھی ہے۔ اس کے کلاس فیلو احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک پلے کارڈ پر درج ہے: ’’اقوامِ متحدہ نے دونوں آنکھیں کیوں بند کی ہوئی ہیں؟‘‘ ایک تصویر میں ایک بوڑھی خاتون، اپنی گود میں دو زخمی بچیوں کو لئے پریشان وحیران کھڑی ہیں۔ پس منظر میں بمباری سے وسیع علاقے میں آگ لگی ہوئی ہے۔ اس کے گھر سے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ بوڑھی خاتون بڑی حسرت سے اپنے گھر کو دیکھ رہی ہے جو جل رہا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے اس کا سارا خاندان شہید ہو چکا ہے۔ صرف یہ دو نواسیاں یا پوتیاں باقی رہ گئی ہیں۔ وہ بوڑھی خاتون زبانِ حال سے کہہ رہی ہے: ’’منصف ہو تو اب حشر اُٹھا کیوں نہیں دیتے؟‘‘ ایک تصویر ہسپتال کی ہے، لیکن بمباری سے یہ اسپتال بھی تباہ ہو گیا اور نتیجے میں بیمار بچے بھی شہید ہوگئے۔

انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والو! بتائو تو سہی کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ بیمار اور معذوروں پر بمباری کر کے انہیں شہید کیا گیا ہے؟ کس کس تصویر کا رونا روئیں؟ سیکڑوں ہزاروں شامی بچے موت کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس کا اعتراف خود اقوام متحدہ نے بھی کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال ’’یونیسیف‘‘ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں یہ ہولناک انکشاف کیا ہے کہ شام میں جاری تنازع کی وجہ سے وہاں کے 80 لاکھ بچوں کو بلاواسطہ یا بالواسطہ خطرات لاحق ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2011ء سے اب تک صدر بشارالاسد کی حکومت کے بیرل بم حملوں اور گولہ باری سے 11 ہزار سے زائد بچے شہید ہو چکے ہیں۔
شامی بچوں کو تشدد، قید و بند، اغوا اور جنگ میں جبری طور پر استعمال کئے جانے سمیت پونے 3 ہزار قسم کے مظالم کا سامنا ہے۔ 20 لاکھ بچے ایسے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں، جہاں لڑائی کی وجہ سے امداد کی فراہمی بہت مشکل ہے۔ پورے ملک میں بچوں کے لیے کوئی جگہ محفوظ نہیں ہے۔ لاکھوں بچے جانی خطرات سے دوچار ہیں تو ان کی تعلیم اور صحت وغیرہ کے معاملات کا کیا ذکر کرنا؟ اگر بچوں کی شہادتوں کا سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو ان کی تعداد اب لاکھوں تک پہنچ جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ 

ایک طرف تو یہ صورت حال ہے، جبکہ دوسری طرف ملک کے تاریخی اور مقدس مقامات کو بے دردی سے شہید کیا جا رہا ہے۔ یاد رکھیں! شام دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ شام کا دارالحکومت دمشق دنیا کا واحد قدیم ترین شہر ہے جو مسلسل آباد چلا آ رہا ہے۔ صدیوں تک ملک شام آسیری، بابلی، مصری اور ایرانی حملہ آوروں کی آماجگاہ رہا ہے۔ 333ق م میں اسکندر اعظم کے زیر تسلط آ گیا تھا۔ 62ق م میں دمشق رومی سلطنت کا صوبائی دارالحکومت بھی رہا۔

بعدازاں رومی سلطنت دو ٹکڑے ہوئی تو یہ بازنطینی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ دمشق میں حضرت ایوبؑ، حضرت یحییٰؑ ، حضرت ذوالکفلؑ جیسے جلیل القدر انبیائے کرام کی قبریں بھی موجود ہیں۔ یہاں اسلام کی آمد 6 ہجری میں ہوئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم ’’ہرقل‘‘ کے نام دعوتِ اسلام کا نامہ مبارک بھیجا۔ حضورؐ کے وصال کے بعد خلافت صدیقی کے دوران مجاہدین اسلام نے رومیوں کو شکست دینے کے بعد ’’یرموک‘‘ میں انہیں محصور کر لیا۔ محاصرہ جاری تھا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کا انتقال ہو گیا۔ 

حضرت عمر فاروقؓ کے دور میں معرکہ یرموک نے رومیوں کی کمر توڑدی۔ ’’ہرقل‘‘ بھاگ کر روم چلا گیا۔ شام حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں سلطنت اسلامیہ کے 11 صوبوں میں سے ایک صوبہ تھا۔ اموی خلفا کے زمانے میں دمشق دارالخلافہ بنا دیا گیا۔ 1616ء سے 1918ء تک شام خلافت عثمانیہ کا حصہ رہا۔ 1920ء میں معاہدۂ سان ریمو کے تحت یہ فرانس کے زیر کنٹرول آ گیا۔ 1941ء میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران فرانسیسی اور برطانوی افواج نے اس پر قبضہ کر لیا۔ لبنان جوکہ اس کا ایک حصہ تھا الگ ملک بنا دیا گیا۔ 1944ء میں مصر اور شام کو ملاکر ’’متحدہ عرب جمہوریہ‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا اور جمال عبدالناصر اس کے صدر منتخب ہوئے۔ 1961ء میں فوج نے بغاوت کر دی۔

   فوجی حکومت کا تختہ اُلٹ دیا گیا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں شام کے جنوب میں گولان کی پہاڑیوں پر اسرائیل نے قبضہ کرلیا۔ 1974ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی شام نے بھرپور حصہ لیا۔ 1976ء میں شامی افواج لبنان میں عیسائیوں اور مسلمانوں کی خانہ جنگی کے بہانے داخل ہوگئیں۔ 1980ء میں روس اور شام کے مابین تعاون اور دوستی کا 20 سالہ معاہدہ ہوا۔ 1987ء میں عیسائی ملیشیا اور شامی فوجی دستوں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ 6 جون 1982ء کو اسرائیل نے لبنان میں وادی بقاع پر حملہ کرکے 5 دن تک شامی فوج کو شدید نقصان پہنچایا۔ 11 جون 1982ء کو اسرائیل کے ساتھ بیٹھنے پر مجبور ہوگیا۔ 
   کویت پر عراقی حملے کی شام نے مذمت کی اور اتحادیوں کے ساتھ اپنی افواج بھی خلیج بھیجیں۔ 

عرب اسرائیل امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے شام نے 1991ء کی امریکی تجاویز قبول کر لیں۔ 1992ء میں شام نے یہودی آبادی پر سفری پابندیاں ختم کردیں۔ 16 جنوری 1994ء میں شام نے جولان کی پہاڑیوں کے حوالے سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جو بے نتیجہ رہے۔

سعد حریری کے والد، لبنان کے مرحوم وزیراعظم اور بیروت کی تعمیر نو کرنے والے رفیق حریری کو 2005ء میں قتل کر دیا گیا۔ حالات جیسے تیسے چلتے رہے، تاآنکہ 2011ء سے شروع ہو چکنے والی تحریک ’’عرب بہار‘‘ سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں خزاں چھاچکی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایک ملک کے بعد دوسرے میں خانہ جنگی شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں ان ملکوں میں مقیم پرامن عوام خصوصاً خواتین اور بچوں کا انتہائی برا حال ہے۔ اس وقت شام کے پھول بے دردی سے مسلے جارہے ہیں۔ شام کے پھولو! ہم شرمندہ ہیں ہمیں معاف کردینا، ہم تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتے 

 بشکریہ روزنامہ "جنگ"

 انور غازی

No comments:

Powered by Blogger.