Header Ads

Breaking News
recent

یہ آخری جنگ ہو گی

انسویں صدی کے آواخر میں یورپ میں سیاسی و علاقائی صورتحال تیزی سے بدلنے لگی تھی، جرمنی کی صنعتی ترقی نے اسے یورپ کی بڑی قوت بنادیا تھا اور جرمنی کے خوف سے یورپ کی دوسری بڑی قوت برطانیہ نے مختلف علاقائی طاقتوں کے ساتھ مل کر آنے والے سالوں کیلئے پیش بندی کرنا شروع کردی تھی۔ یوں خطے میں مختلف قوتوں کے درمیان نئے علاقائی اتحاد بننے شروع ہوگئے۔ 

برطانیہ نے پہلا اتحاد جاپان کے ساتھ 1902 میں کیا، جس کے بعد 1904 میں برطانیہ اور فرانس کے مابین بھی ایک معاہدہ ہوگیا جو اگرچہ باقاعدہ اتحاد تو نہیں تھا تاہم قریبی تعلقات کے فروغ اور ایک دوسرے کی مدد کیلئے بے حد اہمیت کا حامل معاہدہ ضرور تھا۔ اسی طرح کا دوستی کا ایک معاہدہ برطانیہ، فرانس اور روس کے مابین 1907 میں  کے نام سے ہوا، جس سے یورپ دو گروپوں میں تقسیم ہوگیا تھا، اس تقسیم کے ایک طرف جرمنی، آسٹریا ، ہنگری، سربیا اور اٹلی جبکہ دوسری طرف روس، فرانس اور برطانیہ کھڑے تھے۔ بنیادی طور پر یہ پہلی عالمی جنگ کی پیش بندی تھی جو کسی بھی وقت چھڑ سکتی تھی۔
پہلی عالمی جنگ کو بیسویں صدی کا پہلا بڑا عالمی تنازعہ بھی قرار دیا جاتا ہے ، لیکن بنیادی طور پر یہ کسی عالمی تنازعہ سے زیادہ بیسویں صدی کی سب سے بڑی عالمی سازش تھی جو اگرچہ اگست 1914 میں ہبزبرگ کے ایک شہزادے فرانز فرڈنینڈ کے قتل سے شروع ہوئی، لیکن اس جنگ کی بنیاد یورپ کی دو گروپوں میں تقسیم کی صورت میں انیسویں صدی کے اختتام پر رکھی جا چکی تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادی قوتوں (برطانیہ، فرانس، سربیا اور روس، جاپان، اٹلی، یونان، پرتگال، رومانیہ اور امریکہ) کا مقابلہ محوری قوتوں (جرمنی  آسٹریا، ہنگری اور بلغاریہ) سے تھا۔ خوف اور طاقت کے نشے میں دنیا کے بیشتر ممالک بھی اس جنگ کا حصہ بنتے چلے گئے لیکن جنگ کا ابتدائی جوش و جذبہ اس وقت ماند پڑگیا جب لڑائی ایک انتہائی مہنگی اور خندقوں کی ہولناک جنگ کی شکل اختیار کر گئی کیونکہ مغربی محاذ پر خندقوں اور قلعہ بندیوں کا سلسلہ 475 میل تک پھیل گیا تھا۔

پہلی جنگ عظیم میں اپنے اتحادیوں کی مدد کیلئے روس کو بالکنز کے علاقے اور بحیرہ روم کو عبور کرکے آگے جانا تھا۔ روس کی جانب سے اپنے علاقوں اور سرحدوں کی خلاف ورزی پر سلطنت عثمانیہ کو مجبورااِس جنگ میں کودنا پڑا اور سلطنت عثمانیہ نے اپنے علاقے بچانے کیلئے محوری قوتوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کرلیا، پہلی عالمی جنگ کے دوران مشرقی محاذ پر وسیع تر علاقے کی وجہ سے بڑے پیمانے کی خندقوں کی لڑائی تو ممکن نہ ہوئی لیکن اس لڑائی کی شدت مغربی محاذ کے برابر ہی تھی۔
 یہ چونکہ جنگ سے زیادہ ایک سازش تھی، اس لیے جنگ (سازش) آہستہ آہستہ کرکے یورپ کے دیگر علاقوں سے سمٹتی ہوئی سلطنت عثمانیہ کے علاقوں میں محدود ہوکر رہ گئی، مغربی محاذ پر بنیادی طور پر پہلی عالمی جنگ 11 نومبر 1918 کو صبح کے 11 بجے ختم ہو گئی، جرمنی کے جنگ سے نکلنے کے بعد محوری قوتوں کے اتحادیوں کو بھی شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور جنگ کے بنیادی مقصد کے تحت اتحادی قوتیں سلطنت عثمانیہ کا شیرازہ بکھیرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ اسلامی دنیا پر اس معاہدہ کا بہت برا اثر پڑا۔ چونکہ سلطنت عثمانیہ جرمنی کی اتحادی تھی اس لیے اُسے اس جنگ کی بڑی بھاری قیمت چکانا پڑی۔

انگریزوں نے عربوں کو ترکوں کے خلاف جنگ پر اکسایا اور اِس طرح سلطنت عثمانیہ میں مسلمانوں کے مابین قومیت کی بنیاد پر جنگیں شروع ہوگئیں۔ اِن جنگوں میں بہت سے عرب علاقے ترک سلطان کے ہاتھ سے نکل گئے اور اسی جنگ کے اختتام پر مسلمانوں کی وحدت کی علامت عظیم خلافت عثمانیہ کا بھی خاتمہ ہو گیا۔ 96 برس قبل 28 جون 1919 کو فریقین کے مابین معاہدہ ورسائی کے بعد عالمی جنگ تو رُک گئی لیکن اس کے اثرات بین الاقوامی، سیاسی، اقتصادی اور سماجی شعبوں میں آنے والی کئی دہائیوں تک جاری رہے۔

پہلی عالمی جنگ ظلم و بربریت کی داستانوں کو بڑھاتی اور برداشت و رواداری کے جذبوں کو مزید کم سے کم تر کرتی چلی گئی۔ اتحادی اور محوری قوتوں سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں آہستہ آہستہ کرکے دنیا کی بیشتر اقوام بھی حصہ بنتی چلی گئیں اور یوں پوری دنیا اس جنگ کی آگ جھلستی چلی گئی۔ پہلی جنگ عظیم جدید تاریخ کی سب سے زیادہ تباہ کن لڑائی تھی، جس میں دنیا میں پہلی بار جدید ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، پہلی بار دنیا نے کیمیائی اور زہریلی گیس کا استعمال دیکھا،یہ پہلی جنگ تھی جو سمندر کے علاوہ پہلی مرتبہ فضا میں بھی لڑی گئی۔ جنگ عظیم میں دونوں فریقوں کے تقریباًدو کروڑ سے زائد فوجی اور عام لوگ کام آئے اور دو کروڑ افراد کے لگ بھگ ہمیشہ کیلئے معذور یا ناکارہ ہوگئے۔

قارئین کرام!! پہلی جنگ عظیم کی وحشت اور درندگی ایک دفعہ پھر نظر آنے لگی ہے۔ وہ عالمگیر جنگ جس کا سبب اور محرک محض ایک شہزادے کا قتل تھا اور اس قتل کو بنیاد بنا کر ایک جانب دو کروڑ سے زیادہ لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا گیا تو دوسری جانب جنگ سے گریز پا سلطنت عثمانیہ کو بھی جنگ میں گھسیٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا۔ پہلی عالمی جنگ میں بھی روس نے ترکی کی سرحدوں کی خلاف ورزی کی اور ترکی کو جنگ میں گھسیٹ لیا اور پہلی عالمی جنگ کی طرح اب پھر ترکی کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے محض ایک روسی طیارہ کو گرائے جانے کے واقعہ کو بنیاد بنا کر نا صرف تیسری عالمی جنگ کی باتیں کی جا رہی ہیں بلکہ اسلامی دنیا کی اپنی قدموں پر کھڑی ہوتی ہوئی طاقت (ترکی) کو دوبارہ نیچے گرانے اور مزا چکھانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔

یہ حقیقت ہے کہ ایک سو سال پہلے یورپ کا مرد بیمار (ترکی) جنگ لڑنے کے بالکل بھی قابل نہ تھا، یہی وجہ ہے کہ ترکی اتحادیوں کی سازشوں کا مقابلہ کر سکا نہ ہی اپنے علاقے بچا پایا، لیکن روس کو شاید معلوم نہیں کہ اب ترکی یورپ کا مرد بیمار نہیں ہے بلکہ جوہری طاقت نہ ہونے کے باوجود ترکی اپنی پالیسیوں اور معاشی استحکام کی وجہ سے اسلامی دنیا کا سرخیل ایک طاقتور ملک ہے۔ یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اب محض ایک واقعہ کو بنیاد بناکر تیسری عالمی جنگ نہیں چھیڑی جابسکتی، لیکن خدانخواستہ اگر ایسا ہوا تو یہ آخری جنگ ہوگی!
  
نازیہ مصطفیٰ
روزنامہ  نوائے وقت بشکریہ

No comments:

Powered by Blogger.