Header Ads

Breaking News
recent

سولہ دسمبر 1971...داستان خونچکاں…...

مشرقی پاکستان میں 1970 کے انتخابات میں بنگالی نیشنل ازم کو فتح ہوئی۔ مولانا عبدالحمید خان بھاشانی نے جنوری 1971 میں خودمختار مشرقی پاکستان کا مطالبہ کیا اور مغربی پاکستان کو ’’خداحافظ‘‘ کیا۔ صدر جنرل آغا محمد یحییٰ خان نے یکم مارچ 1971 کو ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے ہونے والے 3 مارچ1971 کے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے منسوخ کردیا۔ اس سے پہلے ہی مغربی پاکستان میں اکثریتی پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو نے ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کردیا۔

 قومی اسمبلی کے اجلاس کے التوا کے اعلان سے پورے مشرقی پاکستان میں ’’زندہ آتش فشاں‘‘ پھٹ پڑا۔ شدید خونریز ہنگامے شروع ہوگئے۔ ڈھاکہ اسٹیڈیم میں مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے کرکٹ میچ کے کھلاڑیوں پر حملہ کردیا گیا۔ پورے مشرقی پاکستان کا مکمل کنٹرول شیخ مجیب الرحمن نے اپنے ہاتھ میں لے لیا اور صوبہ کو مکمل طور پر مفلوج کردیا اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ محب وطن غیر بنگالیوں اور پاکستانی افواج پر حملہ کرنا شروع کردیا گیا۔
مارچ 1971 کو شیخ مجیب الرحمن نے اعلان کیا کہ ہماری یہ تحریک آزادی اور بنگلہ دیش کے قیام کی تحریک ہے۔ آزادی اور بنگلہ دیش کے قیام کی تحریک ہے۔ آزادی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں پاکستانیوں  اور غیر بنگالیوں کو ختم کردو۔ مشرقی پاکستان مکمل طور پر آگ اور خون کے دریا میں نہا گیا۔ غذا، پانی اور بجلی کی ترسیل مکمل طور پر بند کردی گئی۔ گھروں کو لوٹ کر آگ لگانے اور قتل کرنے کا عمل شروع کردیا گیا۔

 گورنر ایڈمرل احسن نے استعفیٰ دے دیا۔ جنرل ٹکا خان آگئے۔ ہر شعبہ زندگی میں مکمل اسٹرائیک اور بلیک آؤٹ تھا اور شاہراہیں، پلوں کو تباہ کردیا گیا۔ ٹیلی فون اور دیگر کو ختم کردیا گیا تھا۔ ہر علاقہ ایک دوسرے سے کٹ گیا تھا۔ بغاوت بلند کردی گئی۔ پاکستانی پرچم کو جلا کر اس کی جگہ بنگلہ دیش کا پرچم بلند کردیا گیا۔ صرف غیر بنگالی محب وطن پاکستانیوں کے علاقوں میں اور کنٹونمنٹ ایریاز میں پاکستانی پرچم آویزاں رہا۔ مکتی باہنی، لال باہنی اور باغیوں نے غیر بنگالیوں اورعسکری اداروں پر پورے مشرقی پاکستان میں حملے کرکے شہید کرنا شروع کردیا جس کی تعداد لاکھوں میں ہے۔
شمالی مشرقی پاکستان کا شہر سانتا ہار، جیسور، لال منیر پاٹ، دیناج پور، کھلنا نے شہری علاقے جمال پور، کشتیا، راج شاہی کے نواحی علاقے سراج گنج گھاٹ، ناٹور، بوگرہ گائے بندھا، مغربی شہر میحن سنگھ، ڈھاکہ کے نواحی علاقے، پہاڑتلی، چٹاگانگ کے علاوہ چھاؤتلہ، سردار بہادر اسکول کے نزدیکی علاقوں، وائرلیس کالونی، حالی شیر، کرنافلی، کپتائی پورٹ کالونی، فوجدار ہاٹ، ڈھاکہ کے واری نرائن گنج، سید پور وغیرہ کو نیست و نابود کردیا گیا۔ انھیں پاکستان کا ساتھ دینے کی سزا دی جا رہی ہے۔  پنجابیوں کو ’’حلال‘‘ کیا جا رہا تھا۔

 انھیں مغربی پاکستان کا ایجنٹ پکارا جا رہا تھا۔ بنگلہ دیش کی آزادی کے لیے غیر بنگالی عرف عام بہاریوں کا صبح کا ناشتہ اور شام کا کھانا کھایا جائے۔ حالات سنگین ہوتے جا رہے تھے۔ صدر پاکستان جنرل یحییٰ خان 15 مارچ1971 کو شیخ مجیب الرحمن سے سمجھوتہ  کرنے کے لیے ڈھاکہ آئے اور بعد میں بھٹو اور دیگر سیاسی رہنما اور قائدین بھی پہنچ گئے۔ شیخ مجیب نے چھ نکات کے علاوہ کسی اور طرح سے معاملات طے کرنے کی مخالفت کی۔ سمجھوتہ ناکام ہوا۔ صدر یحییٰ خان 25 مارچ کی رات واپس مغربی پاکستان کے لیے روانہ ہوگئے۔ اس حکم کے ساتھ کہ 26 مارچ کی صبح ایک بجے  ایکشن کردیا جائے۔پاکستانی افواج نے انسانی جانوں اور ملک بچانے کے لیے اقدامات شروع کردیے۔

پورے مشرقی پاکستان کے چپے چپے پر پاکستانی افواج نے جان کا نذرانہ دے کر اور غیر بنگالیوں محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ مل کر کنٹرول سنبھالا۔ دوبارہ پاکستان کی حاکمیت قائم کی۔ 5 اپریل کو گورنر امیر عبداللہ خان نیازی ڈھاکہ آئے اور جنرل ٹکا خان واپس مغربی پاکستان چلے گئے۔ بڑی تعداد میں عوامی لیگی، اسٹوڈنٹس لیگ اور دیگر باغی ہندوستان فرار ہوگئے۔

 جہاں انھیں ہندوستان نے اچھی طرح سے پناہ گزین کیمپ میں رکھا اور عوامی لیگ ورکروں، جوانوں کو کلکتہ و دیگر علاقوں میں عسکری تربیت گاہوں میں بھیج دیا۔ جہاں انھیں گوریلا اور مکمل جنگی تربیت دی گئی۔عام معافی کا اعلان کیا گیا۔ ان شرپسند باغیوں کو جنھوں نے پاکستانی فوج اور غیر بنگالیوں پر حملے کیے  تھے وہ ہندوستان اور دیگر جگہوں سے آکر شہروں کے مرکزی علاقوں میں براجمان ہوگئے۔ داڑھی، ٹوپی رکھ لی، تکنیکی طور پر انھیں ہر قسم کا ہتھیار چلانے کی تربیت حاصل تھی اور دفاعی نقطہ نگاہ سے اپنی پوزیشن کو محفوظ بنانا شروع کردیا تاکہ آیندہ آنے والے حالات اور دنوں میں بھرپور کردار ادا کرکے پاکستانیاداروں کو تباہ و برباد کیا جاسکے۔

ذرایع نقل و حمل کو مزید تباہ کیا جاسکے۔ہندوستان نے حملہ کردیا۔ مشرقی پاکستان کے تمام علاقوں میں پاکستانی فوج بے جگری سے لڑتی رہی اور شہید ہوتی رہی۔ ان کے شانہ بشانہ غیر بنگالی بھی محاذ پر جانوں کا نذرانہ دیتے رہے۔ عوامی لیگ کے ورکروں نے ہندوستانی فوج سے تربیت لی تھی۔ اب اندرون شہر ریل گاڑی، پل، راستے، بجلی، پانی اور نقل و حمل کے سارے راستے ختم کردیے۔ جس کی وجہ سے ہر علاقہ ایک دوسرے سے کٹ گیا تھا اور غیر بنگالی پاکستانیوں کے رہائشی علاقوں کو گھیر لیا گیا۔

 درخت، خاردار تار اور دیگر چیزوں سے ان کے گرد گھیرا تنگ کردیا گیا تھا۔ حالات نازک سے نازک ہوتے جا رہے تھے۔ غیر بنگالی نوجوان پاکستانی افواج کے ساتھ سرحدوں اور دیگر تنصیبات کی حفاظت کے لیے گھر میں موجود نہیں تھے۔ جس کی وجہ سے ان کے علاقوں میں قیامت برپا تھی۔ ان کی عورتوں، لڑکیوں کی آبرو ریزی، بوڑھے مردوں اور بچوں کا قتل عام کیا جا رہا تھا۔ پولیس و دیگر بنگالی عسکری ادارے ان کے ساتھ تھے۔ ہندوستانی فوجوں کو اندر گھسنے کا موقع نہ مل سکا۔ ڈھاکہ کے گرد و نواح میں پیراشوٹ کے ذریعے اتر کر ڈھاکہ پر قبضہ کرلیا جب کہ سرحدوں پر جنگ جاری رہی۔

بالآخر 16 دسمبر 1971 کو خون آشام شام آگئی اور ڈھاکہ ہمیشہ کے لیے ڈوب گیا۔ پاکستانی فوج اور ان کے ساتھی ہندوستان منتقل کردیے گئے۔ غیر بنگالی پاکستانی شہید ہونے کے لیے محصور اور قید و بند ہوگئے۔ قیامت سے پہلے قیامت آگئی تھی۔ پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش میں معاہدہ ہوا۔ جس کے تحت ہندوستان کی جیل میں اسیران فوجی اور ان کے ساتھی پاکستان آگئے۔ بنگلہ دیش سے بھی محدود تعداد میں غیر بنگالی محب وطن پاکستان آئے۔ لیکن ڈھائی لاکھ کے قریب غیر بنگالی پاکستانیوں کو کربلا کا مسافر بنادیا گیا۔

 ان کا جرم صرف وطن سے محبت کرنا ہے۔ جنرل ضیا الحق مرحوم کے زمانے میں ’’رابطہ ٹرسٹ‘‘ بنا تھا جس کی ذمے داری تھی کہ وہ محصورین بنگلہ دیش کو لانے کا انتظام کرے۔ اس میں سعودی عرب نے کثیر رقم دی تھی جوکہ اب بھی جمع ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ٹرسٹ کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔ ملک میں اس بات کی اشد ضرورت ہے حب الوطنی کے جذبے کو فروغ دیا جائے۔ اس کی ابتدا 1971 میں مشرقی پاکستان میں دفاع پاکستان میں جان و مال کا نذرانہ پیش کرنے والے محب وطن محصور پاکستانیوں کو بنگلہ دیش سے پاکستان منتقلی کے آغاز سے کیا جائے۔

حسن امام صدیقی

No comments:

Powered by Blogger.