Header Ads

Breaking News
recent

تعطیلات کے نقصانات

نومبرکو مصورپاکستان ڈاکٹر محمد اقبال کا دن منایا گیا۔ وفاقی حکومت نے یومِ اقبال کو ہمیشہ کی طرح باوقار طریقے سے منانے کا فیصلہ کیا مگر عام تعطیل کا فیصلہ منسوخ کردیا۔ عمران خان ہمیشہ اصولوں کی سیاست کرتے ہیں، ہر دم کرپشن کے خاتمے اور اچھی طرزِ حکومت کا درس دیتے ہیں،انھیں وزیر اعظم نواز شریف کا یہ فیصلہ پسند نہیں آیا اور صوبہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلیٰ کو فوری ہدایت کی کہ 9 نومبر کا دن مختلف ہے ،اس بناء پر پختون خواہ میں عام تعطیل ہونی چاہیے۔

وہ قومی اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب کے لیے ووٹ دینے اسمبلی میں آئے، ووٹ دینے کے بعد علامہ اقبال کا مشہور شعر ’’جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی‘‘ بے ربط پڑھا اور فرمایا کہ یہ ان کا پسندیدہ شعر ہے۔
وفاقی حکومت کے یومِ اقبال کی تعطیل ختم کرنے کا مختلف صوبوں میں مختلف نوعیت کا اثر ہوا۔ سندھ میں حکومت نے بار بار واضح کیا کہ 9نومبر کو تعلیمی ادارے کھلے رہیں گے مگر سوشل میڈیا پر پہلے تو حکومت کا جعلی نوٹیفکیشن گشت کرتا رہا جس میں عام تعطیل ختم کرنے کا نوٹیفکیشن منسوخ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی مذمت شروع کردی۔

اس فیصلے کو تقریباً ملک سے غداری کے مترادف قرار دیا گیا۔ بعض ٹی وی چینلز کو بھی ایک نیا موضوع ہاتھ آگیا۔ ان چینلز کے ٹاک شوز اور دیگر پروگراموں میں تحریک ِانصاف والوں نے اس فیصلے کی خوب مذمت کی، یوں عوام کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع ضایع نہ ہوا۔

پاکستان کا شمار دنیا کے غریب ممالک میں ہوتا ہے۔ ملک کی آدھی سے زیادہ آبادی خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارتی ہے۔اس آدھی آبادی کے پاس تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات پوری کرنے کا تصور نہیں ہے۔ یہ لوگ محض خیرات میں ملی ہوئی امداد سے زندگی گزارتے ہیں۔ مہینے کے کچھ دنوں میں کوئی چھوٹا موٹا کام ملتے ہی روزانہ 2 ڈالر سے کم رقم حاصل کرتے ہیں یا تو آبادی کا بیشتر حصہ انتہائی کم آمدنی میں زندگی گزارتا ہے۔

یہ لوگ غیر رسمی صنعت سے منسلک ہوتے ہیں یا عارضی نوعیت کے کام کرتے ہیں۔ شہروں اورگاؤں میں ان کے بچے زیادہ تر مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں جہاں رہائش اورکھانا آسانی سے میسر آتا ہے۔ حکومتوں کی کوششوں کے باوجود اسکول جانے والے طلبہ کی تعداد میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کے تعلیم حاصل کرنے کی شرح کم ہے، یوں ملک میں چائلڈ لیبر کی شرح بھی کم نہیں ہوپا رہی ہے۔

بجلی اورگیس کے شدید بحران نے صنعتی ترقی کو تقریباً روک دیا ہے اور دہشت گردی کی صورتحال نے روزگارکے مواقعے کم کردیے ہیں۔ اب ماحولیات میں ہونے والی تبدیلیوں سے ملک کے غریب براہِ راست متاثر ہوتے ہیں۔گزشتہ دنوں صوبہ پختون خواہ، قبائلی علاقوں اورگلگت بلتستان میں شدید بارشوں، بے وقت برفباری اور زلزلے کے جھٹکوں نے ہزاروں افراد کی زندگی کو اجیرن کردیا ہے۔

کراچی میں جون کے مہینے میں ڈیڑھ ہزار افراد کی موت ماحولیات میں ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں ہوئی اور اس بارے میں توجہ نہیں دی گئی تو اگلے سال کراچی میں گرمیوں کے مہینوں میں پھر قیامت کا سماں پیدا ہوسکتا ہے۔ایک معتبر روزنامہ کی خبر ہے کہ ہر قومی تعطیل کے باعث ملکی معیشت کو 82 ارب روپے کا نقصان ہوتا ہے،تنخواہ دارطبقہ قومی تعطیل کی بھی تنخواہ وصول کرتا ہے لیکن پیداواری اور برآمدی یونٹس نقصان اٹھاتے ہیں۔

ملک کی اس صورتحال کے تدارک کے لیے اچھی طرز حکومت بنیادی شرط ہے مگر برسراقتدار آنے والی حکومتوں کے لیے اچھی طرز حکومت بنیادی ترجیح نہیں ہے۔ سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں توانائی کے بحران کے حل کے لیے ایک نیا فارمولا پیش کیا گیا۔ یہ فارمولا یہ تھا کہ ہفتے کو بھی عام تعطیل کی جائے۔ ماہرین نے بازار سرشام بند کرنے، شاہراہوں پر روشن رہنے والی ہورڈنگز پر پابندی لگانے، سرکاری دفاتر میں صبح 11 بجے تک ایئرکنڈیشنر کے استعمال پر پابندی عائد کرنے اور گریڈ 20 سے کم عہدے کے افسروں کے کمروں میں ایئرکنڈیشنر ہٹانے کے فیصلے شامل تھے۔

ملک بھر کے تاجر سرشام بازار بندکرنے کے خلاف متحد ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ان کا کاروبار متاثر ہوگا۔ ان تاجروں نے اس بات پر زور دیا کہ کراچی، اسلام آباد اور لاہور میں کاروبار دیر سے شروع ہوتا ہے۔ لوگوں کو اپنے کاموں سے دیر سے فرصت ملتی ہے اس لیے وہ شام کے بعد ہی خریداری کے لیے وقت نکالتے ہیں۔

حکومت تاجروں کے دباؤ میں آگئی۔ اسی طرح سرکاری دفاتر میں کچھ دن تک تو 11 بجے تک ایئرکنڈیشن کے استعمال پر پابندی پر عمل ہوا، پھر سب بھول گئے۔ مگر سرکاری شعبہ میں ہفتے کو تعطیل کے فیصلے پر علمدرآمد شروع ہوگیا۔ یوں اب کئی برسوں سے ہفتے کو تمام دفاتر، بینک اور تعلیمی ادارے بند رہتے ہیں۔ صرف سندھ میں سرکاری اسکول و کالجوں میں ہفتے کو چھٹی نہیں ہوتی۔ اسی طرح سرکاری اسپتالوں میں بھی کام ہوتا ہے۔ ہفتے کی چھٹی عام آدمی کے لیے عذاب بن گئی ہے۔

سرکاری دفاتر میں صبح10بجے تک کام شروع ہوتا ہے، پھر ظہر کی نماز اور کھانے کے وقت کے بعد بہت سے ملازمین غائب ہوجاتے ہیں۔ چند دفاتر میں 4بجے تک باقاعدہ کام ہوتا ہے۔ جمعہ کا دن تقریباً چھٹی کا دن ہوتا ہے۔ جمعے کی نماز کے بعد کم ہی کام ہوتا ہے۔ بہت سے ملازمین تو جمعے کو اپنے دفاتر میں آتے ہی نہیں ہیں۔ اسی طرح عام آدمی کے لیے جمعرات ہی آخری ورکنگ ڈے ہوتا ہے۔ پھر اگر بدھ، جمعرات اور جمعہ کو تہوارآجائے یا قومی تعطیل ہوجائے تو پھر تقریباً پورا ہفتہ بغیرکام کے گزرتا ہے۔ اس صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر دیگر شہروں سے آنے والے افراد ہوتے ہیں جنھیں کراچی، لاہور، اسلام آباد، پشاور یا کوئٹہ میں ضروری کام کے لیے جانا پڑتا ہے۔ ان لوگوں کے لیے دوبارہ آنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

اس طرح اگلے ہفتے کام کی تکمیل ان کو مالیاتی بوجھ اور سیکیورٹی کے مسائل سے دوچا ر کردیتی ہے۔ کراچی میں وفاقی اردو یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دینے والے ایک استاد کاکہنا ہے کہ ہفتے کی تعطیل کی بناء پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے طے کردہ کریڈٹ آورز پورے نہیں ہوتے۔ جمعے کو بہت کم اساتذہ یونیورسٹی آتے ہیں اور جمعے کی نماز کے بعد کلاسوں کے انعقاد کی کوئی روایت نہیں ہے۔اس بناء پرکورس طریقہ کارکے مطابق مکمل نہیں ہوتا ہے۔
اس کا سارا نقصان طلبہ کو ہوتا ہے۔ سندھ حکومت چھٹیاں دینے کا کام فراخ دلی سے کرتی ہے۔ پہلے محرم میں ایک چھٹی ہوتی تھی اب 3 ہوتی ہیں۔ عیدالفطر اور عید الاضحی پر 4سے 5 چھٹیاں ہوتی ہیں۔ اسی طرح مختلف بزرگوں کے عرس کے موقعے پر بھی تعطیل ہونا بھی ضروری ہے۔

وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ نے اس سال ایک ہی سخت فیصلہ کیا۔ وہ فیصلہ یہ تھا کہ سیلاب کے ممکنہ امکانات کی بناء پر صوبوں کے تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی تعطیلات میں 11 دن کی توسیع کی گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ نے حکم جاری کیا تھا کہ جو نجی اسکول ان تعطیلات میں کھلا ہوا پایا گیا اس کے مالکان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ اس سال سندھ میں سیلاب نہیں آیا مگر وزیر اعلیٰ نے اسکولوں کو جبری طور پر بند کراکے صوبے میں اپنی رٹ قائم کی۔ اچھی طرز حکومت کے لیے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاستی اداروں میں زیادہ کام کرنے سے عوام کو مدد مل سکتی ہے۔

مذہبی امور کے ماہر پروفیسر سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ کسی قومی شخصیت کا دن منانے کے لیے چھٹی ہونا ضروری نہیں، اصولی طور پر اس شخصیت کے کارنامے بیان کرنے کے لیے سیمینار ،کانفرنس اور جلسے منعقد ہونے چاہئیں، یوں قومی شخصیات کے کارناموں کا تنقیدی جائزہ بھی نئی نسل کی ذہن سازی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔کام کرنے کے لیے کم تعطیلات کا ہونا ضروری ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے دوسرے دورِ حکومت میں جمعے کی تعطیل ختم کر کے اور اتوار کی تعطیل بحال کر کے پاکستان کا بین الاقوامی مارکیٹ سے رابطہ بحال کیا تھا۔ اب اگر حکومت ہفتے کی تعطیل ختم کردے اور قومی تعطیلات کے بارے میں فیصلہ کرنے کے لیے قومی کمیشن قائم کرے اور سب اس کے فیصلے کی پابندی کریں تو خطِ غربت کے نیچے زندگی گزارنے والی آبادی کے لیے کچھ بہتر ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر توصیف احمد خان

No comments:

Powered by Blogger.