Header Ads

Breaking News
recent

شکوہ، جواب شکوہ

شکوہ، جواب شکوہ ہو چکا۔ آئی ایس پی آر کے بیان پر حکومتی ترجمان کے محتاط ،مگر سخت جواب نے کئی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ بعض ایسے بھی ہیں جو صورت حال کو اپنے حق میں کیش کرانے کے لئے من چاہی تاویلیں کررہے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے کئی غیر سرکاری اور خودساختہ ترجمانوں میں سے ایک کا کہنا ہے ’’فوج پرعزم دکھائی دیتی ہے کہ براہ راست اقتدار نہیں سنبھالے گی، لیکن اگر اس کا احتجاج بے سود رہا؟ بے حسی اگر اسی شان سے باقی رہی تو ظاہر ہے کہ آویزش بڑھے گی اور کوئی فیصلہ انہیں صادر کرنا ہو گا‘‘۔

اس تجزیے یا اطلاع کو اگر درست مان لیا جائے تو کیا آپشن باقی ہیں؟ کیا پھر سے کوئی دھرنا وغیرہ دلوایا جائے گا؟ بظاہر ایسا دکھائی تو نہیں دیتا۔ حالیہ بیان بازی کے حوالے سے یہ تاثر بھی پایا جارہا ہے کہ عمران خان اور ان کی جماعت کو اب زیادہ کارآمد تصور نہیں کیاجارہا ہے۔ براہ راست بیان جاری کرنے کا ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کپتان کو اب ’’لنگڑا گھوڑا‘‘ تصور کیا جارہا ہے۔ اگر دھرنا بھی نہیں ہو گا تو کیا محض سیاسی حکومت کے میڈیا ٹرائل کے ذریعے ہی اس کی خبر لی جاتی رہے گی۔ یہ سلسلہ جاری بھی رہا تو حکمرانوں کو کس حد تک دباؤ میں لایا جا سکتا ہے؟ یہ بھی حقیقت ہے کہ میڈیا کا ایک بڑا اور مؤثرحصہ اسٹیبلشمنٹ کا ماتحت بننے پر تیار نہیں۔
لڑائی آخر ہے کیا؟ وہی سول ملٹری تعلقات کا الجھا ہوا پرانا مسئلہ، جمہوریت کا تسلسل بعض حلقوں کے مفادات کے یکسر منافی ہے۔ سیاسی حکومتیں خواہ کمزور ہی کیوں نہ ہوں اسی انداز میں آگے بڑھتی رہیں تو ہو سکتا ہے کہ کم رفتار سے ہی سہی آئین کی بالادستی یقینی ہونے لگے۔ اس صورت میں من مانیوں کے مواقع محدود ہوتے جائیں گے۔ سو بہتر یہی ہے کہ وقفے قفے سے جھٹکے دئیے جاتے رہیں، لیکن اب شاید آسانی سے ایسا کرنا بھی ممکن نہیں۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ سیاسی جماعتیں یا سول ڈھانچہ غیر معمولی طور پر مضبوط ہو گیا ہے۔ یوں سمجھا جائے کہ حالات کی ستم ظریفی نے طاقتوروں کے لمبے ہاتھوں کو روک رکھا ہے۔کور کمانڈروں کی کانفرنس کے بعد سول انتظامیہ کو پریس ریلیز کے ذریعے گڈگورننس کی ’’ہدایت‘‘ کیوں کی گئی۔ یہ معاملات تو باہمی ملاقاتوں اور اپیکس کمیٹیوں کے ذریعے بھی اٹھائے جا سکتے تھے۔

 کیا عوام کو یہ پیغام دینا مقصود تھا کہ ’’ہم ایک پیج پر نہیں‘‘ یا پھر ضرورت محسوس کی گئی کہ ضمنی اور بلدیاتی انتخابات میں کامیابیاں سمیٹنے والی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ’’ڈوز‘‘ دی جائے، جو بھی ہوا وہ مناسب نہیں تھا۔ سول حکومت کے پاس اور راستہ ہی کیا بچا تھا کہ کھل کر جواب دے۔ سو حکومتی ترجمان نے واضح کردیا کہ تمام ادارے آئینی حدود میں رہیں۔ ہو سکتا ہے کہ حکومتی ردعمل بعض سٹیک ہولڈروں کو گراں گزرا ہو، لیکن اسے یکسر جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ کامن سینس کی بات تو یہ ہے کہ اس مرحلے پر یہ کیسے تصور کر لیا گیا کہ حکومت کی سرعام’’کلاس‘‘ لی جائے گی اور وہاں سے کوئی چوں چراں بھی نہیں کرے گا۔

مانا کہ سول ڈھانچہ بالخصوص دھرنوں کے بعد خود کو بے حد دباؤ میں محسوس کررہا ہے ،لیکن یہ بھی سوچا جائے کہ اگر کسی کو دھکیل دھکیل کر دیوار کے ساتھ ہی لگا دیا جائے تو کسی نہ کسی صورت میں ردعمل تو دے گا، اس معاملے میں ایسا ہی ہوا۔ اب طرح طرح کے تبصرے ہورہے ہیں ،یہ بھی کہا جارہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں کرپایا ،سو آنے والے حالات کا اندازہ لگاتے ہوئے کارگل کی طرح یہ معاملہ بھی سول حکومت کے سر پر تھونپنے کی کوشش کی جارہی ہے، لیکن یہ بھی تو سوچا جائے کہ خدانخواستہ ایسی کوئی صورت بنی تو کوئی اور اس کا بوجھ کیوں اٹھائے گا ؟

یہ بات بالکل درست ہے کہ دہشت گردی کے خلاف آپریشن پوری قوم کا مشترکہ فیصلہ تھا اور ہے۔ اس کے نتائج کی ذمہ داری بھی پوری قوم اور تمام اداروں کو لینا ہو گی۔ زمینی حقائق سے تونہیں لگتا ہے کہ کوئی بھی سٹیک ہولڈر اس حوالے سے لاپروائی یا غفلت کا مرتکب ہورہا ہے۔ پارلیمنٹ نے فوجی عدالتیں بنانے کی منظوری دی تو سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی توثیق کر دی۔ کراچی سے پشاور تک پولیس سمیت تمام ادارے پوری طرح سے برسرپیکار ہیں۔ فوجی آپریشن کا دائرہ وسیع ہوتا گیا حتیٰ کہ سیاسی جماعتیں بھی لپیٹ میں آ گئیں۔ اس سے پہلے صرف مذہبی انتہا پسندوں کو نشانہ بنایا جارہا تھا۔ ان ساری کارروائیوں کے حوالے سے تمام ادارے ایک ہی پیج پر نظر آئے اس سے زیادہ تعاون اور کیا ہو سکتا ہے کہ سابق صدر پاکستان اور سندھ کی حکمران جماعت کا سربراہ مفروری کے عالم میں بیرون ملک مقیم ہے۔ خود سندھ حکومت کے بعض وزراء بھی روپوش ہو چکے ہیں۔

فوجی آپریشن پر پھر بھی زیادہ اعتراضات نہیں اٹھے۔ معاملہ خواہ کوئی بھی ہو اس کی ایک حد تو ہوتی ہی ہے۔ آپریشن بے شک جاری ہے ،لیکن اس کی آڑ میں نظام کو تو لپیٹا نہیں جا سکتا۔احتساب ضروری ،بلکہ لازمی ہے ،لیکن یہ شرمناک حقیقت سب کے سامنے ہے کہ آئین توڑنے سمیت کئی سنگین جرائم کرنے والے جنرل(ر) پرویز مشرف کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کر سکا۔ کرپشن کے مختلف مقدمات میں ملوث فوجی افسروں کو انتہائی معمولی نوعیت کی سزائیں سنا کر انصاف اور احتساب کی درجہ بندی کی گئی۔

 ایسے میں بولنے والی زبانوں کو روک کون سکتا ہے؟ ایم کیو ایم جیسی جماعت کو پارلیمنٹ سے فارغ کر کے جمہوری نظام کیسے چلایا جا سکتا ہے۔ استعفے قبول کرنے کی روش اختیار کر لی جاتی تو سسٹم زمین بوس ہو جاتا۔ بعض چغد یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ سیاستدانوں کو ملک لوٹنے کی کھلی چھوٹ دے دی جائے اگر ان کی بات کو درست مان لیا جائے تو اس سوال کا جواب کون دے گا کہ فوجی آمریتوں کے ادوار میں کیا لوٹ مار بند ہو جاتی ہے۔

 خود ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ کے مطابق لوٹ مار کے حوالے سے پاکستان میں جنرل مشرف کا دور بدترین تھا۔ چینلوں پر بیٹھے یہ چغد کیا یہ چاہتے ہیں کہ بڑی سیاسی جماعتوں کی حکومتیں غیرآئینی طریقے سے ختم کر کے اقتدار سیاسی یتیموں اور تانگہ پارٹیوں کے سپرد کردیا جائے۔ ان مبصرین کی رائے مناسب لگتی ہے جن کا کہنا ہے کہ آئی ایس پی آر کو ایسا بیان دینا ہی نہیں چاہیے تھا، انہیں سوچنا چاہیے کہ اگر فوج سمیت دیگر اداروں کی سول قیادت ماتحتوں کے حوالے سے میڈیا میں ہدایات جاری کرے تو انہیں کیسا لگے گا۔ 

اگر سیکرٹری دفاع، وزیر دفاع یا وزیراعظم یہ بیان جاری کریں کہ فورسز اپنی کارکردگی بہتر بنائیں تو ردعمل کیا ہو گا؟ کوئی یہ کہہ دے کہ آپریشن ضرب عضب تو ڈیڑھ مہینے کے لئے تھا، لیکن یہ تو ڈیڑھ سال بعد بھی ختم ہوتا نظر نہیں آرہا تو یہ سچا تبصرہ تکلیف دہ ہو گا یا نہیں؟ مانا کہ قبائلی علاقوں میں پاک فوج بے پناہ قربانیاں دے رہی ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق ہر ہفتے 20سے 25افسر اورجوان اپنی جانیں قربان کررہے ہیں۔ مانا کہ ہم ایک بڑی لڑائی میں پھنس چکے ہیں، لیکن اسے ادھورا تو چھوڑا نہیں جا سکتا۔ ایسے میں سب کا بھلا تو اسی میں ہے کہ ایک ہی پیج پر رہا جائے ورنہ گڑبڑ روکنا مشکل ہو گی۔ خصوصاً ان حالات میں کہ افغانستان کے اندر بھی طالبان کے دو بڑے گروپ بن کر آپس میں لڑپڑے ہیں۔ ایسے میں وہ گروپ بھی کمزور ہو سکتا ہے جو پاکستان کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتا ہے۔اگر ایسا ہو گیا تو پھر ہمارے پاس بیچنے کے لئے کیا سودا رہ جائے گا۔حیرانی تو اس بات پر ہے کہ اس سنگین علاقائی منظر نامے کے باوجود جناب وزیراعظم نواز شریف ہولی کے رنگ میں رنگنے کے لئے بے تاب ہورہے ہیں۔

 لبرل ازم کا بھوت ان کے سر پر سوار ہو چکا ہے۔ روشن خیالی کی شعاعیں ان کی آنکھوں سے آشکار ہیں۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ کے یوم ولادت کی چھٹی منسوخ کر کے اپنی نیت بھی ظاہر کر چکے۔ اب یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کسی روز قرارداد مقاصد کو آئین سے نکالنے کی کوئی قرارداد بھی آتی ہی ہو گی۔ اس صورتحال پر عام پاکستانی شدید اضطراب کا شکار ہے۔

 فوج سمیت دیگر اداروں سے بار بار ٹکرانے کا ریکارڈ رکھنے والے نواز شریف اس مرتبہ اپنی نظریاتی اساس کو ہی اکھاڑ پھینکنا چاہتے ہیں تو یہ بھی یاد رکھیں کہ پکڑ ہوتے دیر نہیں لگتی۔ آپ کی بدن بولی بتارہی ہے کہ آپ بھی قائدؒ اور اقبالؒ کے پاکستان کو روشن خیال بنانے پر تل چکے ہیں۔ اس حوالے سے آپ میں اور مشرف میں فرق ہی کیا رہ جائے گا؟عرض صرف یہ ہے کہ عمر کے اس حصے میں روشن خیالی سے عشق کرنا کسی بھی طرح سودمند نہیں۔ بڑھاپے کا عشق ویسے بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ آپ کو یقین نہیں آتا تو عمران خان کا حال دیکھ لیں۔

نوید چودھری
 بشکریہ روزنامہ 'پاکستان'

No comments:

Powered by Blogger.