Header Ads

Breaking News
recent

سانحہ پیرس اور مسلمان تارکین وطن

پیرس میں دہشتگردی کی وجہ سے جو سانحہ پیش آیا اس کے اثرات پورے یورپ اور امریکہ میں محسوس کئے جارہے ہیں۔ تارکین وطن کی ہر جگہ شامت آئی ہوئی ہے۔سب سے زیادہ مسلم دشمن انتہا پسند رجحانات امریکہ کے دائیں بازو کے حلقوں میں پائے جا رہے ہیں۔ اس کے باوجود صورت حال ایسی نہیں کہ کہیں بھی کسی مسجد پر حملہ کیا گیا ہو یا مسلمانوں کو گروہی سطح پر پریشان کیا جا رہا ہو۔ اس کےبرعکس پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جارہا ہے۔ 

اگر پاکستان یا دوسرے مسلمان ملکوں میں اقلیتوں کے ساتھ یہی سلوک جاری رکھا گیا تو وہ دن دور نہیں جب دوسرے ملکوں میں بھی ہمارے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا۔اب اگر پاکستان میں ایسے ہی رویے اپنائے گئے تو ہمارے نام نہاد دانشور کس منہ سے ہندوستان کی مودی سرکار کی مسلم کُش پالیسی کے خلاف شور مچا سکیں گے؟

امریکہ میں مسلمان مخالف رجحانات رپبلکن پارٹی کے کچھ صدارتی امیدواروں کے بیانات سے سامنے آرہے ہیں۔ مثلاً صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں سب سے آگے ڈونلڈٹرمپ ہیں جنہوں نے کہا ہے کہ مسلمانوں کی علیحدہ رجسٹری ہونی چاہئے اور ان کے لئے خصوصی شناختی کارڈ جاری کئے جائیں جس پر ان کا مذہب بھی لکھا ہوا ہو (امریکہ میں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ یا کسی سرکاری دستاویز میں کسی شخص کے مذہب کی نشاندہی نہیں کی جاتی) ۔انتہا پسند ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر وہ صدر بن گئے تو بہت سی مساجد کو تالے لگادیں گے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں میں مقبولیت کے لحاظ سے سیاہ فام بن کارسن دوسرے نمبرپر ہیں۔ وہ نسلی پہلو سے خود اقلیتی گروہ سے تعلق رکھتے ہیں لیکن وہ مسلمان دشمنی میں سفید فام امیدواروں کو پیچھے چھوڑدینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے سب سے پہلے تو یہ انتہائی بیان دیا کہ امریکی آئین میں یہ بھی شامل کیا جائے کہ کوئی مسلمان امریکہ کا صدر نہیں بن سکتا۔ سانحہ پیرس کے بعد شامی پناہ گزینوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے مزید اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ مہاجرین ایسے ہی ہیں جیسے گلی میں کوئی بائولا کتا آجائے اور کوئی ایسے باولے کتے کو اپنے گھر یا گلی میں گھسنے نہیں دیتا۔
رپبلکن پارٹی میں تیسر ے مقبول ترین امیدوار مارکوروبیو ہیں۔ وہ تو جوش خطابت میں یہاں تک بڑھ گئے کہ انہوں نے کہا کہ نہ صرف مذہبی مراکز کو بلکہ ہر اس جگہ (کیفے، ہوٹل وغیرہ) کو بند کر دینا چاہئے جہاں دہشت گردی کی سازش بن سکتی ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں کے کاروباروں پر بھی پابندی لگا دینی چاہئے۔

 ایک اور صدارتی امیدوار کا کہنا ہے کہ حکومت کو ایسا محکمہ قائم کرنا چاہئے جو اس امر کو یقینی بنائے کہ امریکہ میں ہر شہری عیسائی اور یہودی اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کا پابند ہو۔ غرضیکہ صورت حال اس قدر بھیانک ہے کہ اب صدر بش کو معتدل مزاجی کے نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ صدر جارج ڈبلیو بش نے نو گیارہ کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمیں چند دہشتگرد وں کا بدلہ عام امریکی مسلمان سے نہیں لینا چاہئے۔

پیرس سانحے کے بعد قدامت پرست امریکیوں میں مسلمان مخالف جذبات کافی ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ رپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدواروں کی مسلمان دشمن بیان بازی اسی جذبے کے حامل ووٹروں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہے اور وہ اس میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ شامی مہاجرین کے داخلے پر پابندی کی قرارداد کانگریس میں کافی بھاری اکثریت سے منظور کی گئی۔ لہٰذا یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ امریکہ میں چودہ سال پہلے ہونے والے نو گیارہ کے سانحے کے بعد جس طرح کی مسلمان دشمنی کی سطح تھی اس میں اضافہ ہوا ہے:پیرس سانحے کے بعد امریکہ میں مسلمانوں کے خلاف جوش و جذبات پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔

پیرس سانحے سے ایک دن پہلے بیروت میں داعش نے اسی طرح کی دہشتگردی کی تھی ۔ نائیجیریا میں بوکو حرام (داعش کی اتحادی) اسی طرح کی دہشتگردی کا ہر دوسرے دن ارتکاب کرتی ہے۔ اب مالی کے ایک ہوٹل پر دہشتگرد حملہ کرکے دو درجن کے قریب بے گناہوں کوقتل کردیا گیاہے۔ ہمارے دانشوروں کا یہ اعتراض بھی قابل فہم ہے کہ مسلمان ممالک میں دہشت گردی میں بے گناہوں کی شہادت پر مغرب میں وہ واویلا نہیں مچتا جو پیرس سانحے کے بعد سامنے آیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پیرس سانحے کے بعد فرانسیسی قوم نے جس طرح سوگ منایا اور دہشتگردی کا شکار ہونے والوں کے ساتھ اظہار یک جہتی کیا ویسا مسلمان ممالک میں نہیں ہوتا۔مثلاً بیروت سانحے کے بعد لبنان سمیت کتنے مسلمان ملکوں میں اس کا سوگ منایا گیایا اس کے خلاف آواز اٹھائی گئی؟

 بشکریہ روزنامہ 'جنگ

ڈاکٹر منظور اعجاز

No comments:

Powered by Blogger.