Header Ads

Breaking News
recent

وزیراعظم کا دورہ ٔاقوام متحدہ ۔ مثبت اور منفی پہلو؟

وزیراعظم نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ کی کامیابی و ناکامی کے بارے میں کوئی بھی رائے قائم کرنے سے قبل شخصی پسندو ناپسند سے بالاتر ہو کر چند حقائق کو پیش کرنا لازمی ہے ۔

(1) صرف آٹھ منٹ کی امریکی فون کال سے خوف کھا کر کسی شرط و مذاکرات
کے بغیر ہی اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف نے افغانستان کے خلاف جس جنگ میں امریکی اتحادی بن کر شریک ہونے کا فیصلہ کیا اور قوم کو یہ خوشخبری دی تھی کہ اس جنگ کے نتیجے میں پاکستان ایک مضبوط، خوشحالی اور ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے گا۔ آج 14 سال سے ہم یہ جنگ لڑ رہے ہیں۔ اپنا سب کچھ دائو پر لگا چکے ہیں اور پھر بھی بھارت سے دہشت گردی کے الزامات اور امریکہ سے ’’ڈومور‘‘ کے مطالبات کا سامنا بطور ملزم کر رہے ہیں۔

(2) دہشت گردی کی جنگ میں ایک بھی گولی چلائے بغیر بھارت نے نہ صرف اس جنگ کے تمام فوائد سمیٹ لئے ہیں بلکہ وہ آج بھی خود کو دہشت گردی کے شکار ملک کے طورپر پیش کر کے مظلوم بنا ہوا ہے۔ امریکہ بھارت اتحاد کی شکل میں اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری، امریکی مکمل حمایت ، جدید ہتھیار سازی اور صنعت کے قیام کے ساتھ بھارت ایشیا کی بڑی طاقت کا روپ دھار رہا ہے۔ لہٰذا وہ دور چلاگیا جب دنیا کے دیگر ممالک بھارت اور پاکستان کو ایٹمی دوڑ میں ملوث دو ہم پلہ ملک سمجھ کر تنازعات حل کرنے پر زور دیتے تھے۔

اس تناظر میں وزیراعظم نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ سے بھارت کے نریندر
 مودی کے دورہ امریکہ کا تقابل کرنے کی سوچ غیر حقیقی اور غیرعملی ہوگی۔ گزشتہ 14 سال میں جنرل (ر) پرویز مشرف کی مہلک غلطیاں اور نیو یارک میں سابق صدر آصف زرداری کی بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ سے ’’جھپیاں‘‘ اور ’’احسان مندی‘‘ کے باعث ہم دہشت گردی اور داخلی حالات کی جس نہج کوپہنچے ہیں اس نے پاکستان کی افادیت ، عالمی حیثیت اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن کو منفی طور پر متاثر کیا ہے۔ آج ہماری فوج اور رینجرز انہی غلط فیصلوں کے منفی نتائج سے پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے دن رات مصروف ہے۔

میرا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ نواز شریف حکومت غلطیوں سے پاک ہے بلکہ یہ عرض ہے کہ نواز شریف حکومت کو اس کی غلطیوں کا ذمہ دار ضرور ٹھہرائیں لیکن مشرف اور زرداری دور کے فیصلوں اور عمل کے تباہ کن نتائج کے اثرات کا بھی ذمہ دار نواز شریف کو ٹھہرانا درست نہیں ہوگا۔ داخلی عدم استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ نواز شریف حکومت کو ورثہ میں ملی ہے۔ اس تناظر میں میرا مشاہدہ اور رائے ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کا دورہ اقوام متحدہ متوازن ، موثر اور ویسا ہی رہا جیسا کہ پاکستان جیسی صورتحال والے ملک کے نمائندہ کا ہونا چاہئے تھا۔ کسی بھی ملک کا نمائندہ اپنے وطن کے حالات ، مضبوطی ، معیشت ، سماجیات اور جغرافیائی اہمیت کے تناسب سے عالمی برادری میں اہمیت پاتا اور سنا جاتا ہے۔

اب آئیے وزیراعظم کے دورہ اقوام متحدہ کی مصروفیات ، معاملات اور ماحاصل کی جانب اور ساتھ ہی ساتھ ان پہلوئوں کی جانب جو مزید بہتر ہوسکتے تھے مگر کمی رہی ان کا ذکر کریں۔

(1) وزیراعظم کی تقریر سے قبل سرگوشیوں اور ا فواہوں کی صورتوں میں متعدد قیاس آرائیاں جاری تھیں جن کے بارے میں سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چوہدری اور سفیر ملیحہ لودھی ایک ہی جملہ کہتے سنے گئے کہ وزیراعظم کی تقریر خود ہی آپ پر واضح کردے گی اور پھر (30) ستمبر کی دوپہر وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جو خطاب کیا وہ مندرجہ بالاتناظر میں بڑا جرات مندانہ ، باوقار اور موثر یوں تھا کہ ایک طویل عرصہ سے اقوام سے خطاب کرنے والے پاکستانی حکمراں تنازع کشمیر کے بارے میں معذرت یا مکمل خاموشی پر مبنی رویہ اختیار کرتے تھے۔ اس بار وزیراعظم نواز شریف نے سیکرٹری جنرل بانکی مون سے ملاقات اور پھر اپنے خطاب میں تنازع کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے حوالے ’’انٹرنیشنلائز‘‘ کرنے کی بھرپور کوشش کی ۔

ایسے وقت میں کہ جب بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں کی تعمیل کا وعدہ کرنے کے باوجود مسلسل کئی عشروں سے ان قراردادوں پر عمل سے انکاری بھی ہے لیکن اس کے باوجود بھارت کو اسی سلامتی کونسل کا مستقل رکن بنانے کی مہم جاری ہے تو وزیراعظم کی کشمیر کے بارے میں جراتمندانہ نشاندہی نہ صرف عالمی حلقوں میں سلامتی کونسل کی توسیع کے مخالفین نے سنی ہے بلکہ بھارتی قیادت نے بھی توجہ سے سنی ہے۔ سلامتی کونسل کی قراردادوں کا نافرمان بھارت سلامتی کونسل کا رکن بن کر دوسرے ملکوں پر فیصلے نافذ کرنے کی پوزیشن کا اخلاقی اور قانونی طور پر حامل کیسے ہوسکتا ہے؟

(2) مسائل و مشکلات سے دوچار پاکستان کے وزیراعظم نے بھارت کو عالمی فورم پر کہا ہے کہ وہ پاکستان میں داخلی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں سے باز رہے اس واضح بیان کے ساتھ اگر وزیراعظم بھارتی مداخلت کے ثبوت بھی عالمی سطح پر فراہم کرتے تو یہ زیادہ بہتر ہوتا۔ فی الحال کراچی ، فاٹا اور بلوچستان کے حوالے سے بھارتی مداخلت کے ثبوتوں پر مبنی جو تین ’’ڈوزیے‘‘ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کئے گئے ہیں میرے نزدیک ان کی نہ کوئی سمت ہے اور نہ ہی کوئی منزل ہے کیونکہ وہ صرف بانکی مون کے علم میں ہیں۔ عالمی رائے عامہ اور دیگر ممالک کو کچھ علم نہیں ہے۔

 یہ ’’ڈوزیے‘‘ پہلے واشنگٹن میں امریکی حکومت کے حوالے کرنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو ہماری سفیر ملیحہ لودھی پیش کردیتیں اور اس کےساتھ ہی عالمی رائے عامہ کو بھی آگاہی کی مہم چلائی جاسکتی تھی۔ اقوام میں بھارتی اثرورسوخ سے کون واقف نہیں؟ پاکستانی عوام اور عالمی برادری تو ان تین یادداشتوں کے مندرجات سے لاعلم ہیں لیکن بھارتی اثرورسوخ نے کام کر دکھایا ہے۔ وزیراعظم کی بانکی مون کی جانب سے سربراہان حکومت و مملکت کے اعزاز میں استقبالیہ اور صدر اوباما کے استقبالیہ میں عدم شرکت بھی ایک موضوع بحث ہے جس کا سفیر ملیحہ لودھی سمیت وزیراعظم کے ترجمانوں نے کوئی معقول جواز نہیں بتایا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے وزیراعظم نواز شریف کی دونوں طرف سے مشیران کے ساتھ ملاقات اور پھر دونوں طرف کے کلیدی معاونین کے ساتھ ملاقات و گفتگو کے بھاری ماحول اور ’’ڈومور‘‘ کے مزید مطالبے کے بعد اوباما کے استقبالیہ میں وزیراعظم کی شرکت کی گنجائش کم تھی۔ وزیراعظم نے سلامتی کونسل کی توسیع کے معاملہ کو بھی اٹھایا ہے کہ جمہوری ، قابل احتساب اور ذمہ دارانہ انداز میں توسیع کی جائے۔ جمہوری بھارت سلامتی کونسل میں غیر جمہوری طریقے سے غیر مساویانہ حیثیت کی مستقل نشست چاہتا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے اٹلی کے وزیراعظم سے ملاقات میں ’’اتفاق رائے سے سلامتی کونسل کی توسیع‘‘ پر اتفاق رائے کرکے بھارت کا راستہ روکنے کا اقدام کیا ہے۔ اٹلی اور پاکستان دونوں ملکر اس فرنٹ پر عرصہ سے کام کررہے ہیں۔

 وزیراعظم نواز شریف نے جرمنی کی خاتون آہن چانسلر اینجلامر کل سے بھی ملاقات کی ، جرمنی خود بھی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کے حصول کا امیدوار ہے۔

میرا اندازہ ہے کہ اینجلا مرکل کی دلچسپی اس بات میں زیادہ تھی کہ پاکستان میں جرمن سرمایہ کاری کے مواقع کیا ہیں اور پاکستان سلامتی کونسل کی توسیع میں کتنی مستعدی کے ساتھ بھارت کا راستہ روکنے کی پالیسی رکھتا ہے؟ کیونکہ یہ جرمنی کی نشست کیلئے بھی رکاوٹ ہے جبکہ نواز شریف جرمنی سے تجارت اور بزنس کے خواہشمند ہیں۔ وہ اپنے ساتھ اپنے ماہر معاشیات و تجارت کو بھی لائی تھیں اور صورتحال سے خود بھی واقف ہیں۔ سینگال ، ترکی ، سری لنکا، سویڈن ، جنوبی کوریا ، صدر ورلڈ بینک اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے دوطرفہ ملاقاتوں کے علاوہ ’’امن دستوں‘‘ کیلئے صدر اوباما کی بلائی گئی سمٹ میں شریک میزبان کے طور پر شرکت کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور نواز شریف کے درمیان ہاتھ ہلانے کا متنازع واقعہ پیش آیا ہے جسے گزشتہ کالم کی نذر کردیا گیا۔

یہ کوئی اہم اور بڑا تنازع نہیں۔ سابق صدر (ر) جنرل مشرف نے تو نیپال میں سارک کانفرنس کے دوران خود بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کی نشست پر جاکر ہاتھ ملایا اور بھارتیوں کو حیرت زدہ اور دنیا سے تعریف حاصل کی۔ جی ہاں! وزیراعظم نواز شریف کے دورہ اقوام متحدہ میں متعدد لحاظ سے کمی بھی رہی۔ لیکن مجموعی طور پر مشکل علاقائی صورتحال اور چیلنجوں سے دوچار پاکستان کی نمائندگی کرنے والے نواز شریف کا دورہ اپنے قومی ، علاقائی اور عالمی حالات کے تناظر میں متوازن ، مناسب ، موثر اور بھارت سے تنازعات کے حوالے سے جرات مندانہ کہا جاسکتا ہے۔ -

عظیم ایم میاں
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.