Header Ads

Breaking News
recent

یہ ہے نیا روشن پاکستان

ہلاکو کی 50 ہزار فوج 1258 کی سردیوں میں بغداد کے دروازے پر تھی اور عباسی خلیفہ مستعصم کے درباری منطق بازوں میں گھمسان کی بحث چھڑی ہوئی تھی کہ سوئی کے ناکے میں سے بیک وقت کتنے اونٹ گذر سکتے ہیں۔
پاکستان کے اطراف و اکناف میں سیاسی و عسکری نقشہ تیزی سے بدل رہا ہے۔ مشرقی ہمسائے بھارت سے لفظی جنگ زوروں پر ہے، مغربی ہمسائے افغانستان میں طالبان آخری لڑائی کا عزم لیے ایک انگڑائی کے ساتھ اٹھ کھڑے ہیں۔ داعشی عفریت کے پیٹ کے نیچے شام اور عراق ہیں تو دم یمن تک تھپیڑے مار رہی ہے۔ ایک پنجہ ترکی پر گڑنے کو بیتاب ہے تو دوسرا پاکستان میں جمنے کے لیے جگہ تلاش کر رہا ہے۔

 اور پاک سرزمین کا عالم یہ ہے کہ اگر فوج ایک ہاتھ سے خارجہ اور دوسرے ہاتھ سے داخلہ پالیسی سنبھالے ہوئے ہے تو ویہلے سیاستدانوں نے بھی مستعصم باللہ کا دربار سجا رکھا ہے اور بحث یہ ہو رہی ہے کہ لاہور کے حلقہ این اے 122 کے ناکے سے کونسا اونٹ گذر سکتا ہے۔

کون یہودی ایجنٹ ہے، کون کرپٹ ترین ہے، کس نے سب سے زیادہ بیرونی فنڈنگ حاصل کی، کون اسامہ بن لادن کے بھی پیسے کھا گیا، کس کا سورج راوی کی خشک لہروں میں ڈوبنے والا ہے اور کس کا سورج گڑھی شاہو سے چڑھنے والا ہے۔ مجھ پر ایک پیسے کی کرپشن بھی ثابت ہوجائے تو سیاست چھوڑ دوں گا، اس پہ ثابت ہوجائے تو سڑکوں پر گھسیٹوں گا۔

اس وقت قانون کی بالادستی کے نوحہ خوانوں نے اپنے ہی ہاتھوں الیکشن کمیشن کے ضابطہِ اخلاق کو جس طرح ٹشو پیپر بنا دیا اس کے بعد سے الیکشن کمیشن وہ شریف آدمی ہوگیا ہے جس کے لیے اس وقت سب سے بڑا امتحان انتخابی خرکاروں سے جانگیہ بچانا ہے۔

آج ہی ضمنی انتخاب اوکاڑہ کے قومی اسمبلی حلقہ 144اور پنجاب اسمبلی کے حلقہ 147 میں بھی ہوا۔ مگر مجال ہے لاہور سے صرف 70 کلو میٹر پرے کے ان حلقوں کا حال کسی نے پوچھا ہو۔
 
اس وقت مچھلی بازار میں واقع جمہوری چنڈو خانے کو کسی ماورائے آئین خدشے سے زیادہ منہ کی بواسیر سے خطرہ ہے
ساری میڈیا ریٹنگ، سب ٹی وی کیمرے، رنگ برنگی گالم گلوچ، نجی و سرکاری پیسہ اور وسائل حلقہ 122 کے ہوئے۔

ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرے میں کام کرنے کی تلقین کرنے والے سب کے سب خود آپے کے دائرے سے باہر ہیں۔ جیت کے بعد عام آدمی کی جھولی چاند ستاروں سے بھرنے والے بڑک بازوں کی اپنی انتظامی اوقات اور قوتِ برداشت بس اتنی ہے کہ صرف ایک حلقے کا ضمنی انتخاب بھی فوج کی مدد طلب کیے بغیر منعقد کرانے سے معذور ہیں اور اس پر فخر بھی کر رہے ہیں۔

میں سوچ رہا ہوں کہ جب جلسوں میں ایک دوسرے کی ماں بہن ایک کرنے والے زہر فشاں مقررین رات گئے اپنے گھروں کو لوٹتے ہوں گے تو اپنی ماؤں بہنوں اور بزرگوں کا سامنا بھی کیا اسی منہ سے کرتے ہوں گے اور اپنے چھوٹے بچے کا ہوم ورک چیک کرتے ہوئے یہ سبق کیسے یاد کراتے ہوں گے کہ ہمیشہ سچ بولو، دوسروں کی عزت کرو، ہر ایک سے نرمی اور شائستگی سے پیش آؤ اور اجنبیوں سے حسنِ سلوک کرو۔

آج ہی دفتر آتے ہوئے ایک رکشے کے پیچھے لکھا دیکھا ’زندگی مال سے نہیں اعمال سے ہے۔‘
جو بات رکشے والا جانتا ہے وہ اس رکشے والے کی قسمت بدل دینے کے دعویٰ دار مداریوں کو چھو کے بھی نہیں گذری۔
اگر یہ ہے نیا یا روشن پاکستان تو پرانے اور تاریک پاکستان میں کیا خرابی ہے ؟

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

No comments:

Powered by Blogger.