Header Ads

Breaking News
recent

دورہ واشنگٹن ۔ وزیر اعظم کے لئے ایک اور چیلنج

یہ ایک مثبت بات ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے واشنگٹن روانگی سے قبل ہی قومی اسمبلی حلقہ 122 کے ضمنی انتخاب کا معرکہ سرکرلیا ہے اور وہ عمران خان کے ہاتھوں اپنی حکومت اور پارٹی کو درپیش سیاسی، معاشی، انتخابی اور نفسیاتی دبائو سے نکل کر امریکی صدر اوباما سے ملاقات اور پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں پاکستان کے نمائندے کے طور پر مذاکرات کے لئے آرہے ہیں۔ گو کہ امریکی صدر اوباما اب صرف 15ماہ کی مدت کے لئے وہائٹ ہائوس کے ایسے مکین ہیں جنہیں امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی سیاسی مخالف ری پبلکن پارٹی کی اکثریت کے ہاتھوں زبردست سیاسی، اختیاراتی، انتخابی اور نفسیاتی دبائو کا سامنا بھی ہے اور پھر وہ جلد ہی ’’لنگڑی بطخ‘‘ یعنی غیرموثر یا نیم موثر صدر کا روایتی رول اور حیثیت بھی اختیار کرنے والے ہیں لیکن یہ تمام صورتحال عالمی سپر پاور امریکہ کے صدر کیلئے پاک امریکہ تعلقات کے امور سے ڈیل کرنے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کررہی ہے۔

البتہ اگر انہوں نے کوئی اہم سمجھوتہ، معاہدہ یا ڈیل پاکستان کے ساتھ طے کی تو موجودہ صورتحال میں امریکی کانگریس سے منظوری یا 2016ء کے ساتھ ہی اوباما صدارت ختم ہونے کے بعد اسکی عملی افادیت کو نئی امریکی انتظامیہ اور کانگریس ہی طے کرے گی۔ ہاں! خطے میں امریکہ کی ترجیحات اور مفادات کی تبدیلی، بھارت کے لئے ترجیحی سلوک اور ہر طرح کے معاشی، صنعتی، فوجی اور ٹیکنالوجی کے امریکی تعاون نے پاکستان کے لئے جو ناگوار صورتحال پیدا کردی ہے اس کے تناظر میں وزیراعظم نواز شریف کا اگلے ہفتے دورہ واشنگٹن صرف اہم نہیں بلکہ بہت بڑا چیلنج ہوگا سیاسی مخالفین لاکھ اختلاف کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف بطور وزیراعظم پاکستان کے نمائندہ کے طور پر ملاقات اور مذاکرات کریں گے جن کے نتائج و اثرات کا پاکستانی عوام اور مستقبل کے پاکستانی حکمرانوں کو سامنا کرنا ہوگا۔
کیا ہی اچھا ہو کہ عمران خان سمیت پاکستانی سیاستدان بھی امریکی فیشن کی طرح امریکی سیاست کی یہ روایت اپنالیں۔ امریکی سیاسی نظام میں ڈیموکریٹک اور ری پبلکن پارٹیاں ایک دوسرے کی سیاسی مخالف اور مختلف نظریات کی حامل ہیں اور ہر جگہ ایک دوسرے کی مخالفت کرتی ہیں لیکن جب کبھی امریکی سیکورٹی کو یا پھر امریکی عالمی برتری قائم رکھنے میں کوئی مشکل یا چیلنج پیش آئے تو تمام اراکین کانگریس سیاسی و نظریاتی اختلافات بالائے طاق رکھ کر صرف ’’وفادار محب وطن امریکی‘‘ بن کر فیصلے اور عمل کرتے ہیں اسی طرح ری پبلکن جارج بش جونیئر اور ڈیموکریٹ الگور کے درمیان امریکی صدر کے لئے انتخابات میں جب ریاست فلوریڈا میں ووٹ پر سوراخ کرنے والی مشین سے سوراخ مکمل نہ ہوئے تو ایسے ووٹوں کی تعداد اتنی اہم تھی کہ اگر شمار کرلئے جاتے تو تاریخ میں جارج بش کی بجائے الگور صدر منتخب ہوسکتے تھے مگر ریاست کے قانون کا نفاذ کرنے والے ریپبلکن سیکرٹری آف اسٹیٹ نے ان ووٹوں کو مسترد کردیا بعد ازاں صورتحال پیچیدہ ہوئی الگور اگر ڈٹ جاتے تو ایک سیاسی بحران کھڑا ہوجاتا مگر ملک اور سیاسی نظام کے مستقبل اور وقار کی خاطر ڈیموکریٹ الگور نے ری پبلکن جارج بش کو منتخب صدر تسلیم کرلیا۔

اگر مشکلات، بحران اور اپنی بقا کو لاحق خطرات سے دوچار پاکستان کے قائدین ایسی روایات کو امریکی سیاست کا ’’فیشن‘‘ سمجھ کر ہی اپنالیں تو تصادم کی سیاست سے نجات مل جائے گی اگر ’’مفاد کے تضاد‘‘ کا امریکی قانون بھی اپنالیں تو کرپشن کی روک تھام بھی ہوسکتی ہے۔ 27 ستمبر کو اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے 25ویں فلور پر وزیراعظم نواز شریف اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان جو تفصیلی ملاقات ہوئی تھی اس کے خد و خال اور ذرائع بتاتے ہیں کہ ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ جاری ہے اور امریکی مزید اصرار کے ساتھ ’’ڈومور‘‘ کی فہرست میں اضافی مطالبات کریں گے۔

وزیراعظم نواز شریف کے دورہ ٔ واشنگٹن کے دوران پاکستانی ترجمانوں کے لئے بھی ایک مشکل نظر آرہی ہے۔ ’’ملاقات بہت مفید یا خوشگوار رہی۔ مذاکرات میں باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو رہی۔ دورہ بڑا کامیاب رہا ’’جیسے روایتی جملوں کی گنجائش کم نظر آتی ہے کیونکہ امریکہ کی جانب سے دو ٹوک انداز اور افغانستان اور دہشت گردی کے حوالے سے ’’ڈومور‘‘ پر اصرار، پاک بھارت کشیدگی پر دو طرفہ ڈائیلاگ اور بھارت کی شرائط پر خطے میں امن کی ترغیب 14 سال تک افغانستان اور دہشت گردی کی جنگ میں امریکہ کے غیرمشروط اتحادی پاکستان کو سنائے جانے کا امکان ہے۔ خطے میں امریکہ نے اپنی ترجیحات تبدیل کرکے اپنی تمام نوازشات، تعاون، سرمایہ کاری، جنگی سازو سامان کی تیاری سے لے کر صنعتی تعاون تک بھارت کے پلڑے میں ڈال دی ہیں۔ کوئی 25 سال قبل جنوبی ایشیا کے ممالک کو نئی دہلی کے ذریعے اور منظوری سے واشنگٹن سے ڈیل کرنے کا جو تصور پیش کیا گیا تھا آج اس کا عملی خاکہ مرتب کرنے کا رجحان نظر آرہا ہے ۔

مختصراً تبدیل شدہ ترجیحات پاکستان کے لئے مشکل صورتحال لئے ہوئے ہے۔ ہم نے چین کے ساتھ تعلقات کو استوار کرتو لیا ہے لیکن امریکہ کو بھی ناراض نہیں کرسکتے۔ انگیج کرنا ہماری لازمی ضرورت ہے۔ چین سے ہمارے تعاون اور تعلقات کی نئی شکل نئی دہلی اور واشنگٹن کو یکساں پسند نہیں کیونکہ ہمارا یہ اقدام ’’چین کے گھیرائو‘‘ کی راہ میں اہم رکاوٹ ہے لہٰذا نتیجہ رویوں کی تبدیلی ہے۔ ہماری افواج کا انحصار بیشتر امریکی سازو سامان پر رہا ہے اب متبادل ذرائع سے اپنی ضروریات پوری کرنے کا آپشن اختیار کرلیا گیا ہے۔ بدلتے حالات میں پاکستان کے یہ چند اہم فیصلے بھی بھارتی پریشانی کا سبب ہیں جس کی جھلک واشنگٹن کے مذاکراتی لہجے اور رویئے میں نظر آنے کی توقع ہے افغانستان میں امریکہ اور نیٹوفورسز کو دشواریوں اور ناکامیوں کا سامنا رہا ہے مگر ہم سے نہ صرف ’’ڈومور‘‘ کا مطالبہ ہے بلکہ طالبان حقانی نیٹ ورک اور دیگر حوالوں سے الزامات کا سامنا ہے۔

پاکستان کے آپریشنز کی زبانی تعریف ضرور مگر عملی تحسین ندارد ہے۔ اس مشکل تناظر اور تبدیل شدہ صورتحال میں وزیراعظم نواز شریف کا دورہ واشنگٹن ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لئے ہر مکتبہ فکر اور سیاسی منشور رکھنے والے پاکستانی کی حمایت سے آنا ضروریہے کیونکہ اس دورے میں اعتماد کے ساتھ پاکستانی موقف بیان کرنے کی ضرورت ہے۔ روایتی نہیں تخلیقی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے کہ پاکستانی مذاکراتی ٹیم کوقوم کی دعائوں اور حمایت سے مذاکرات کرنے اور حالات کا سامنا کرنے کی جرأت ہو۔ نواز شریف کے لئے یہ حلقہ 122 کے انتخابی چیلنج سے کہیں زیادہ بڑا چیلنج ہے۔ 20 اکتوبر کو واشنگٹن پہنچ کر 22 اکتوبر کو صدر اوباما سے ملاقات، چند دیگر ملاقاتیں اور مذاکرات اور پھر 23 اکتوبر کو پاکستانی کمیونٹی سے خطاب کے بعد پاکستان واپسی تک کے عرصےمیں کیا ہو تا ہے؟ یہ آپ کے سامنے آنے کو ہے شکاگو کا دو روزہ دورہ اور اہم مصروفیات کی منسوخی کی وجوہات جاننے کے لئے شکاگو کی مایوس پاکستانی کمیونٹی خواہشمند ہے۔

لاہور کے انتخابی معرکے میں نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو سیاسی تقویت ملی ہے۔ مگر پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں مذاکرات کے لئے پاکستانی قوم کے نمائندے کو قومی حمایت اور اعتماد سے تیاری کرکے واشنگٹن آنے کی ضرورت ہے۔

 عظیم ایم میاں
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ‘‘

No comments:

Powered by Blogger.