Header Ads

Breaking News
recent

قابلِ معافی حرم زدگیاں....وسعت اللہ خان

اتنے ممالک میں اتنے لوگوں کو سزائے موت دینے کے باوجود یہ ثابت نہیں ہو سکا کہ جن ممالک میں سزائے موت کا قانون موجود نہیں وہاں سنگین جرائم کا تناسب ان ممالک سے زیادہ ہے جہاں سزائے موت کا قانون موجود ہے۔ بہرحال مجھ جیسے لوگوں کی تقابلی پسند ناپسند کی ریاستی فہم و فراست کے آگے کیا اوقات۔

اگر سزائے موت اتنی ہی اچھی ہے تو پھر غدار ، قاتل ، ریپسٹ ، دہشت گرد اور منشیات کا اسمگلر ہی کیوں۔ان سے بھی زیادہ خوفناک مگر مچھ صرف اس لیے کیوں زندہ پھر رہے ہیں کیونکہ ان کے سنگین جرائم سزائے موت کی مروجہ قانونی فہرست و تشریح کے روایتی دائرے میں شامل نہیں۔ حالانکہ انھی سنگین جرائم کے مرتکبین کو دراصل ایک عادل معاشرے میں سب سے کڑی سزا کے دائرے میں ہونا چاہیے۔

مثلاً وہ فرد یا گروہ جو جعلی ادویات بناتا اور بیچتا اور کھلاتا ہے کسی منشیاتی اسمگلر سے کتنا مختلف ہے ؟ وہ شخص جو کوالیفائیڈ طبیب نہ ہونے کے باوجود بے شمار زندگیوں سے کھیلتا ہے جنہوں نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا۔ ایسا مجرم کسی بھی سیریل قاتل سے کس قدر مختلف ہے۔

اس ریسٹورنٹ کا مالک جو اپنی نہ ختم ہونے والی لالچ کا بلیک ہول بھرنے کے لیے مشکوک ، مضرِ صحت یا مردار گوشت مضرِ صحت مصالحوں اور تیل میں پکوا کر بے خبر گاہکوں کو معیاری اور صحت مند کھانے کا دھوکا دے کر من مانے پیسے وصول کرتا ہے اس میں اور کسی خاموش قاتل میں کیا فرق ہے۔

مسافروں سے بھری بس پر بم مارنے والے ایک دھشت گرد اور اس گوالے میں کیا فرق ہے جو خالص دودھ کے فریب میں گاہکوں کو وہ کیمیکل زدہ آمیزہ پلاتا ہے جو رفتہ رفتہ ان گنت شیر خواروں اور ان کے اہلِ خانہ کی زندگیاں سکیڑتا چلا جاتا ہے اور جو زندہ رہ جاتے ہیں، وہ طرح طرح کے سرطانوں یا جلدی و اندرونی امراض میں مبتلا زندہ لاش ہوجاتے ہیں  اور پھر ان ڈاکٹروں اور اسپتالوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جن میں سے بہت سے محض ایسی دوا ساز کمپنیوں کے دلال ہیں جن کا منشور ہی یہ ہے کہ جتنے امراض اور مریض بڑھیں گے، اتنی ہی چاندی ہو گی، اتنی ہی سی ٹی سکین مشینیں لگیں گی، اتنی ہی پیتھالوجیکل لیبارٹریز پھلیں پھولیں گی ، اتنے ہی جا بے جا آپریشن کرنے کو ملیں گے ، اتنے ہی پروموشنل ٹورز اور قیمتی تحائف کا ڈھیر لگے گا اور اتنا ہی دکھی انسانیت کا نام و کام روشن ہوتا چلا جائے گا۔

کسی کا گھر بارود سے اڑا دینے والے دشمن اور اس بلڈر میں کیا فرق ہے جو ’’ اپنا گھر پیارا گھر ’’کے نعرے پر ہر وہ خواب بیچتا ہے جس کی کوئی بھی بے گھر سفید پوش تمنا کر سکتا ہے اور پھر ایسا بلڈر اپنے شکار کو ریت اور مٹی کے وہ شاندار قید خانے منہ مانگی قیمت پر تھما دیتا ہے جو ایک اوسط درجے کے جھٹکے ، زلزلے یا طوفان کا تیسرا جھٹکا بھی برداشت نہیں کرپاتے اور خوابوں کے اس جعلی محل کے مکین اپنی ہی کمائی اور قرضوں سے خریدی گئی رہائشی قبر پر سر پکڑے بیٹھ جاتے ہیں۔

وہ عدالتی نظام جو جیل میں بند کسی بھی منتظرِ انصاف کو پندرہ ، بیس اور پچیس برس سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے بعد ایک دن اچانک بے گناہی اور بریت کا مژدہ سنائے اور اس خرکار میں کیا فرق ہے جو بغرضِ تاوان و جبری مشقت سادہ لوح بے گناہوں کا خون چوسے اور آخر میں گنے کے پھوک جیسا ایک زندہ پنجر راستے پے پھینک دے۔

عام ٹارگٹ کلر تو اپنے بہیمانہ جرم کی سزائے موت پائے مگر پولیس مقابلوں کے نام پر ٹارگٹ کلنگ کرنے والا ریاستی شاباشی ، انعام و اکرام اور ترقی کا مستحق ٹھہرے۔گھر کے تمام بچوں اور خواتین کو رسوں سے باندھ کر پورا گھر صاف کرنے والا ، یا کنپٹی پر پستول رکھ کے کار چھیننے والا تو ڈاکو کہلائے مگر مالیاتی اداروں کو کروڑوں اربوں سے محروم کرنے اور پھر یہ کروڑوں اربوں رائٹ آف کروانے والے محسنینِ قوم ہونے کی داد سمیٹیں اور دو ارب کی شفاف ڈکیتی میں سے ایک ارب واپس کر کے اور معزز ہو جائیں۔

ناانصافی، استحصال اور ظالمانہ نظام کے خلاف ہتھیار اٹھانے والا تو غیر ملکی ایجنٹ ، وطن دشمن ، غدار اور دہشت گرد کہلائے اور سولی کا حقدار ہوجائے۔مگر ملکی اقتدارِ اعلی سینہ ٹھونک کر رہن رکھوانے والا ، آیندہ نسلوں کو گروی کروا کے خون چوس ساہوکاروں سے لیے گئے قرضوں کو آمدنی سمجھتے ہوئے حسب ِخواہش و منشا اڑانے والا یا قومی زیور کہلانے والے اداروں کو دادا جی کا مال سمجھ کر اونے پونے اپنے من پسند غیر ملکیوں یا ملکیوں کو بیچنے والا نجات دھندہ کا تمغہ پائے۔
دورِ انگریزی میں رواج تھا کہ جو جو برادریاں ، طبقات اور قبائل قابو میں نہ آتے یا انگریز بہادر کے خیال میں ان کا کردار مشکوک ہوتا ۔ ان سب کو اجتماعی بلیک لسٹ کر کے حقہ پانی بند کردیا جاتا۔ تاکہ وہ راہ راست پر آنے کی انگریزی تعریف پر پورے اترنے پر آمادہ ہوجائیں۔ مثلاً سندھ میں پوری حر جماعت دہشت گرد قرار پائی ، بلوچستان کا مری قبیلہ سالم باغی گردانا گیا۔ فاٹا کے کئی قبائل پر سیاہ نشان لگا دیا گیا ۔ میواتیوں کے بارے میں مشہور کیا گیا کہ میواتی ہو اور ڈاکو نہ ہو تو کیسا میواتی۔ روہیلے ناقابلِ اعتبار ٹھہرے۔ وسطی پنجاب میں ماجھے کے کئی قبائل کو رسہ گیری کا تمغہ پہنایا گیا ۔

دور بدلا تو کردار و انداز بھی بدل گئے۔ وہ دن گئے جب سیاست میں ایک گندی مچھلی کو باقی مچھلیوں سے الگ کرکے دیکھنے کا رواج تھا ۔ اب سیاست دان من حیث الطبقہ گھٹیا ، غبی، مشکوک اور بد دیانت بتائے جاتے ہیں ۔ مشکوک قبائل کی فہرست وقت کے ساتھ ساتھ گھٹنے کے بجائے اور لمبی ہو گئی۔ غیر ملکی ایجنٹوں کی تعداد راتوں رات دوگنی تگنی ہوگئی۔

مگر جن شخصیات و طبقات و تنظیموں اور اداروں نے ’’ سرِ تسلیم ِ خم کیا ہے، جو مزاجِ یار میں آئے ’’ کو اپنا منشورِ نجات بنا لیا ان کو سات خون ، سات غداریاں ، سات عوام دشمنیاں، سات جعلسازیاں، سات دو نمبریاں، سات مالی و اخلاقی بے اعتدالیاں اور سات بہت کچھ معاف ۔ ان کا ہر جرم خطا ، دوسروں کی ہر 

 خطا جرم۔۔۔

تین بار امریکی صدارت پے فائز رہنے والے فرینکلن ڈی روز ویلٹ سے جب یہ شکوہ کیا گیا کہ ویسے تو آپ کے دل میں سارے جہاں کا درد ہے لیکن نکاراگوا پر حکمران سموزا خاندان کی زیادتیاں اور سیاسی ، معاشی و انتظامی حرم زدگیاں آپ کو کیوں نظر نہیں آتیں۔روز ویلٹ نے بہت ایمانداری سے جواب دیا کہ یہ درست ہے کہ سموزا خاندان باسٹرڈ ہے مگر وہ ہمارا باسٹرڈ ہے۔

مشتاق یوسفی کے بقول حرام زدگی پیدائشی ہوتی ہے مگر حرم زدگی زورِ بازو سے کمائی جاتی ہے۔

آج کے لیے بس اتنا ہی۔ مجھے احساس ہے کہ میں کہیں سے کہیں نکل گیا لیکن میں اکیلا تو نہیں جو کہیں سے کہیں نکل گیا؟
 

No comments:

Powered by Blogger.