Header Ads

Breaking News
recent

وزیراعظم کا کتنے کروڑ کا دورہ ؟

کچھ روز پہلے مقامی ذرائع ابلاغ میں خبریں آئیں کہ وزیراعظم نواز شریف جب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سترہویں سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جائیں گے تو ان کے ہمراہ 73 افراد ہوں گے۔
وزیراعظم نواز شریف نیویارک روانہ ہوگئے اور 30 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

موجودہ سالانہ اجلاس کی تاریخی اہمیت یوں ہے کہ اقوامِ متحدہ کے 193 رکن ممالک انسانی ترقی کا دوسرا 15 سالہ ایجنڈا اپنائیں گے۔
پہلا ایجنڈا 2000 میں اقوامِ متحدہ ملینیئم گول کے نام سے اپنایا گیا تھا جس کے تحت آٹھ بنیادی اہداف مقرر کیے گئے۔

یعنی 2015 تک رکن ممالک انتہائی غربت کا خاتمہ کر دیں گے، پرائمری تعلیم تک سو فیصد بچوں کی رسائی یقینی بنائی جائے گی، عورت اور مرد کے درمیان حائل سماجی و معاشی خلیج اور امتیازات کا خاتمہ کیا جائے گا، نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں کم ازکم 50 فیصد کمی لائی جائے گی، ماں کی صحت کی بہتری کی شرح بڑھائی جائے گی، ایڈز، ملیریا اور دیگر امراض کے تدارک کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے، ماحولیاتی آلودگی میں 20 فیصد تک کمی ہو جائے گی اور عالمی انسانی ترقیاتی منصوبوں کی شراکت داری میں بھرپور حصہ لیا جائے گا۔

ان آٹھ اہداف میں سال بہ سال پیش رفت ناپنے کے لیے 60 معیارات مقرر کیے گئے۔ پاکستان نے 41 معیارات کے اہداف حاصل کرنے کے عزم کا اظہار کیا مگر صرف آٹھ میں ہی کسی حد تک پیش رفت کر سکا۔
اور اب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی پچھلے 15 برس کی مجموعی پیش رفت کی روشنی میں آئندہ 15 برس کے اہداف کی منظوری دے گی۔
ملینیئم اہداف حاصل کرنے میں مجموعی ناکامی کے باوجود پاکستان نیا 15 سالہ ایجنڈا اپنانے کے لیے پرعزم ہے، اور اس عزم کے اظہار کے لیے وزیرِاعظم 73 عدد گواہ نیویارک لیے جا رہے ہیں۔ یہ طائفہ آٹھ سے دس روز تک مغربی تہذیبی زوال کا مشاہدہ بھی کرے گا اور واپسی میں اگلے 15 سال کے ترقیاتی اہداف کا پلندہ بھی لائے گا۔

خصوصی چارٹرڈ طیارہ بشمول لینڈنگ و پارکنگ چارجز، روزویلٹ اور اولڈروف استوریا میں قیام و طعام، طرح طرح کے اجلاس، بریفنگز، دعوتیں اور کھابے، سائیڈ لائن ملاقاتوں کی آنیاں جانیاں، ہلکی پھلکی شاپنگ و دل پشوری سب ملا کر 15 کروڑ روپے کا خرچہ تو کہیں بھی نہیں گیا۔

مگر خرچے سے زیادہ پریشان کن یہ پریشانی ہے کہ آخر 74 لوگ دس روز پاکستان کے قومی مفاد کے کیا کیا پاپڑ کیسے کیسے کہاں کہاں بیلیں گے؟
اتنے اہم دورے پر جانے سے قبل وزیرِ اعظم کو یقیناً کلیدی وزارتوں کے ارسطوؤں نے بریفنگز بھی دی ہوں گی اور بلٹ پوائنٹس بھی سمجھائے ہوں گے اور تقریر نویس کی سہولت کے لیے ان نکات کی تین تین کاپیاں بریف کیس میں بھی یاد سے رکھوائی ہوں گی۔

اقوامِ متحدہ کے پاکستانی مشن کا عملہ اور واشنگٹن میں ملیحہ لودھی کی قیادت میں پاکستانی سفارت خانے کا ماہر سفارتی سکواڈ بھی وزیرِ اعظم کے ایک اشارہِ ابرو کے فاصلے پر چاروں شانے مستعد ہو گا۔
تو پھر اضافی 73 لوگ دو سو سے زائد نشستوں والے اڑن کھٹولے پر بٹھال کر لے جانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟

آئیے اس 74 رکنی وفد کو توڑ کے دیکھیں۔ ہو سکتا ہے کچھ پلے پڑ جائے۔
وزیرِ اعظم ایک عدد، وزیرِ اعظم ہاؤس کا مددگار عملہ 29 عدد، وزارتِ خارجہ و دیگر وزارتوں کے اہلکار 28 عدد اور پیشہ ور صحافی 16 عدد۔

مگر خرچے سے زیادہ پریشان کن یہ پریشانی ہے کہ آخر 74 لوگ دس روز پاکستان کے قومی مفاد کے کیا کیا پاپڑ کیسے کیسے کہاں کہاں بیلیں گے؟
اگر میں وزیرِ اعظم ہاؤس کے ساتھ جانے والے 29 رکنی عملے کے بارے میں سوچوں تو یہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ ایک پرسنل اسسٹنٹ ازبس ضروری ہے۔ ملٹری سیکریٹری بھی لازمی ہے۔ چار سادہ کمانڈو ٹائپ انگریزی کٹ محافظ بھی مناسب ہیں۔ ایک تقریر نویس کا ساتھ ساتھ چلنا بھی بنتا ہے۔ ایک من پسند باورچی بھی جزو لاینفک ہے۔ یہ تو ہوگئے وزیرِ اعظم سمیت نو۔ باقی 20 کیا کریں گے؟

سوائے اس کے کہ ایک دروازہ کھولے، ایک بند کرے، ایک وارڈروب کا نگراں ہو، ایک شیروانی کی استری نہ ٹوٹنے دے۔ ایک جوتا لشکائے رکھے، ایک واش روم میں ٹھنڈا گرم چیک کرتا رہے، ایک ناظم ِ تولیہ جات مقرر ہو، ایک کھانے میں نمک مرچ کا تناسب تکتا رہے، ایک موبائل فون اٹھائے اٹھائے پھرے اور دوسرا اس کا چارجر، ایک کمرے میں آنے والے مہمانوں سے چائے، کافی، شربت پوچھتا رہے، ایک وقت بے وقت ویٹر کو طلب کرنے پر مامور ہو، ایک کی ڈیوٹی ہو کہ ہوٹل کے صدر دروازے سے مہمانوں کو اوپر لانا ہے اور دوسری کی ڈیوٹی ہو کہ مہمانوں کو حسبِ مراتب لفٹ یا پھر کار تک چھوڑ کے آنا ہے یا سڑک پار پہنچانا ہے۔

یہ ہوگئے 29 میں سے 22۔ باقی آٹھ کو کہاں کھپاؤں؟ (کچھ آپ بھی تو مدد کریں)۔
اب آئیے وزیرِ اعظم کے ہمراہ جانے والی 28 رکنی بیورو کریٹک منڈلی کی جانب۔ وزارتِ خارجہ کا ایک اہلکار تو تقریر نویس کے مسودے کی پالیسی نوک پلک سنوارنے کے لیے ہونا ہی چاہیے۔ چلیے اقتصادیات اور انسانی وسائل سے متعلق چار پانچ وزارتوں کا ایک ایک قابل اہلکار بھی فائلوں سمیت ٹھیک ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر تذکرہ کیا، امریکہ میں سفارتی و غیر سفارتی عملے کی پہلے سے متعین چھوٹی سی فوج بھی پنجوں پہ کھڑی ہے۔
چنانچہ ساتھ جانے والے 28 میں سے 22 افسر کیا کریں گے جب کہ ان کی بیگمات و بچے بھی ساتھ نہ ہوں۔۔۔

رہے 16 عدد صحافی، تو ان کا کسی بھی غیرملکی دورے پر وزیرِ اعظم کے ہمراہ جانا خود وزیرِ اعظم کے دورے سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ دن بھر کی مصروفیاتی تھکاوٹ اتارنے کے لیے دربار داری، جگتوں، قصائد، غیبتوں، خوشامدوں اور ’سر جی تسی چھا گئے او‘ کے ورد کا بھاری پتھر ایک فن کار بھلا کہاں اٹھا سکتا ہے؟

اگر صحافی بھی اپنے ادارے کے خرچے پر جانے لگیں تو واپسی پر ’ایک انتہائی تاریخی، کامیاب، یادگار دورے‘ کی دل و جان سے شہدناک تشہیر کون کرے گا؟
اس لیے وزارتِ اطلاعات کے زندگی سے بیزار دو تین تھکے ہوئے افسروں کے مقابلے میں 16 شکرے صحافیوں کا ساتھ جانا کوئی بڑی بات نہیں، بلکہ 32 ہوں تو اور بھی اچھا ہے (ہو سکتا ہے بتیسویں ہمی ہوں)۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں وزیرِ اعظم کی 30 منٹ کی کسی اور کی لکھی تقریر کی صرف پڑھت ہی کی قیمت کم سے کم 15 کروڑ روپے بن رہی ہے یعنی 50 لاکھ روپے فی صفحہ۔

میں اوباما اور ڈیوڈ کیمرون جیسے کنگلوں کی کیا اوقات جو پائی پائی پھونک پھونک کے خرچتے ہیں اور آٹھ دس سے زیادہ بندے لے جانے کی اوقات بھی نہیں رکھتے مبادا جیب سے چائے پلانی پڑ جائے، اور پھر توقع رکھتے ہیں کہ دنیا انھیں عظیم بھی سمجھے۔۔۔

مگر 15 کروڑ کا سودا مہنگا نہیں۔ یہاں تو صرف ایک واپڈا سال بھر میں 980 ارب روپے بغیر ڈکار لیے پی جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دورۂ امریکہ پر پاکستانی خزانے کی چونی بھی نہیں لگی۔
نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کو یہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

 منگل کی شام کو وزیراعظم کے دفتر سے وضاحت آئی کہ وزیراعظم کے ساتھ 73 نہیں 34 افراد گئے۔ 

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

No comments:

Powered by Blogger.