Header Ads

Breaking News
recent

منی کا حادثہ، مسئلہ جبر اور سیاست

کیا منیٰ کا سانحہ مسلمانوں کے باہمی اختلافات کی دھند میں کھو جائے گا؟ کیا یہ تقدیر کا لکھا تھا؟ کیا ہم اس واقعے کا ، بطور حادثہ تجزیہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے؟

یہ محض اتفاق ہے کہ جس دن یہ حادثہ ہوا، اسی روز انٹرنیشنل نیو یارک ٹائمز میں ایک مضمون شائع ہوا جو اسی سوال کو موضوع بناتا ہے۔ مسلمان ہر وقفے کو تقدیر کا لکھا قرار دیتے ہیں اور اس سے انکی مراد یہ ہوتی ہے کہ اسکا عالم اسباب سے کوئی تعلق نہیں۔ اس مضمون میں کرین حادثے کو بنیاد بناتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ پہلی بات اس نوعیت کے واقعے کی تحقیقات ہوئیں تو معلوم ہوا کہ اسکی ذمہ دار تعمیراتی کمپنی ہے جس نے ان حفاظتی ہدایات کا خیال نہیں رکھا جنکا احترام اس پر لازم تھا۔ مضمون نگاریوں متوجہ کرتا ہے کہ عالم اسلام میں ہر معاملے کو قسمت اور تقدیر کا لکھا قرار دینے سے خود احتسابی کی روایت آگے نہیں بڑھی اور یوں ایسے حادثات کا اعادہ ہوتا رہتا ہے۔ اسکے برخلاف جدید دنیا میں عالم اسباب میں جھانکا جاتا ہے اور یوں آنے والے دنوں میں حادثات کی تکرار نہیں ہوتی۔ مضمون کا عنوان ہے: اسلام کا المناک فلسفہ جبر 
 
بدقسمتی سے منیٰ کے حادثے کے بعد بھی اسی فلسفہ جبر کی صدائے بارگشت سنی گئی۔ سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ نے حج کمیٹی کے سربراہ شہزادہ محمد بن نائف سے کہا: ‘‘ جو امور انسانی بس میں نہیں ہیں، ان کیلئے آپ کو الزام نہیں دیا جا سکتا۔ قسمت اور تقدیر کے لکھے کو ٹالنا ناممکن ہے۔‘‘ سب مسلمانوں کا اس پر ایمان ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کس واقعے پر اسکا اطلاق ہوتا ہے اور کس پر نہیں؟ اگر اس کو بلاامتیاز مان لیا جائے تو پھر دنیا اور آخرت میں جواب دہی کا قانون بے معنی ہوجاتا ہے۔ تقدیر کے معاملات مالکِ تقدیر پر چھوڑتے ہوئے، ہمیں پانی ذمہ داری ادا کرنا پڑے گی۔ کرین کے حاثے کو بھی تقدیر پر چھوڑا جا سکتا تھا، مگر شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز السعود نے تحقیقات کا حکم دیا۔ تعمیراتی کمپنی کو بلیک لسٹ قرار دیا۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ حادثہ انسانی غفلت کا نتیجہ تھا۔

جبر و قدر مذہب اور فلسفے کے معرکتہ ال آرا مضامین میں شامل ہے۔ ایک کالم میں اسکی گتھیاں سلجھائی نہیں جا سکتیں اور میں اس کی صلاحیت بھی نہیں رکھتا۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ اس فلسفے کو ہم رویہ نہیں بنا سکتے۔ جبر کی سرحد وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں انسانی اختیار کی سرحد ختم ہوتی ہے۔ یہ ہم نہیں جانتے کہ اختیار اور کوشش کی یہ حد کہاں تک ہے۔ یوں ہم تا دم مرگ کوشش کے پابند ہیں۔ مریض کی سانس جب تک آ جا رہی ہے، ڈاکٹر کا اختیار ختم نہیں ہوتا۔ وہ کوشش کا پابند ہے۔ وہ موت کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ موت کا فیصلہ عالم کا پروردگار کرت اہے اور یہاں سے جبر کا آغاز ہو جاتا ہے۔ منیٰ میں حادثہ کیوں ہوا؟ نائجیریا کی حکومت اس بات کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ اسکے حجاج اسکے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ اس کو تقدیر کا معاملہ قرار دینے سے پہلے عالم اسباب میں اسکی وجوہ تلاش کی جائیں۔

انتظامات حج کے باب مین سعودی حکومت کی کارکردگی غیر معمولی ہے۔ حجاج کو سہولتیں فراہم کرنے کا کام مسلسل جاری رہتا ہے اور اس میں شبہ نہیں کہ حج آسان سے آسان تر ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود یہ ایک انسانی کاوش ہے جس میں اصلاح کا امکان ہر وقت باقی ہے۔ حجاج کی غلطیاں اپنی جگہ لیکن میرا خیال ہے کہ منیٰ جیسے حادثات متقاضی ہیں کہ انکی تحقیقات ہوں۔ ان میں علماء کے ساتھ گورننس کے ماہرین کو شامل کیا جائے اور اس بات کو ممکن حد تک یقینی بنایا جائے کہ مستقبل مین ہم ایسے حادثات سے محفوظ رہیں۔

 جیسے جمعرات کو ستون کے بجائے اب دیوار کی صورت دے دی گئی اور اس کی کئی منازل بھی بنا دی گئی ہیں۔ قربانی کی عملی مشکلات کو دیکھتے ہوئے، اس معاملے میں بھی اجتہاد کیا گیا ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظت کیلئے اس عمل کو مزید آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسکے ساتھ میرا خیال ہے کہ حجاج کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ بھی توجہ چاہتا ہے۔ چونکہ سعودی معیشت کو اس سے غیر معمولی فائدہ ہوتا ہے، اس لیے حجاج کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پر بھی غور کیا جانا چاہیے کہ سعودی حکومت اتنے افراد ہی کو اجازت دے جسکا انتظام کرنا اس کے لیے ممکن ہے۔

اس حادثے پر سارا عالم اسلام افسردہ ہے، مگر ایرانی حکومت نے جس طرح اسے باہمی سیاست کی نذر کیا ، اسے افسوسناک ہی کہنا چاہیے۔ اس واقعے کو غیر ضروری طور پر اقوام متحدہ میں اٹھایا گیا۔ میرا خیال ہے کہ اس سے گریز کیا جاتا تو بہتر تھا۔ اس حادثے میں جیسے سیاست اور فرقہ واریت کو گھولا گیا، وہ میرے لیے تو تشویش کی بات ہے۔ تاہم اس سے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ فرقہ واریت اور سیاسی اختلافات کی جڑیں اس امت کی نفسیات میں کتنی گہری ہیں۔ انکے ہوتے ہوئ ےامت کو ایک سیاسی وحدت میں بدلنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ جو لوگ اس کے اسباب خارج میں تلاش کرتے ہیں انہیں سعودی عرب اور ایران کی اس چپقلش کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔

ایرانی حکومت نے اس حادثے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنا دیرینہ مطالبہ دہرایا ہے کہ حج کے انتظامات عالم اسلام کی مشترکہ ذمہ داری قرار دی جائے۔ اس مطالبے کی تائید مشکل ہے۔ یہ معاملات کو مزید پیچہدہ بنانا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت کی الجملہ ان معاملات کو خوش اسلوبی سے سرانجام دے رہی ہے۔ کسی مسلمان ملک کو اگر کوئی شکایت ہے یا اس کے پاس انتظامات کی بہتری کی کوئی تجویز ہے تو اسے سعودی حکومت تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح اسے او آئی سی کے فورم پر بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ اسے اقوام متحدہ کے فورم پر اٹھانا جگ ہنسائی کا باعث بنے گا۔ اگر مسلمان ممالک سیاست اور مذۃب کو الگ الگ رکھ سکیں تو اس میں ہی مسلمانوں کا بھلا ہے۔

سیاست اور مذۃب کے اس ملاپ سے مسلمانوں کو بہت نقصان ہوا ہے۔ جب ان میں علیحدگی کی بات کی جاتی ہے تو میرے نزدیک اسکا مفہوم یہ نہیں ہوتا کہ سیاست و ریاست میں اسلام کی تعلیمات سے رہنمائی نہیں لینی چاہیے یہ انہیں فیصؒہ کن حیثیت نہیں دی جانی چاہیے۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اور دنیاوی معاملات کو دنیاوی طریقے سے حل کرنا چاہیے اور مذہب کو اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ بدقسمتی سے بعض لوگ یہ کام ایک ریاست کے اندر گروہی طور پر کرتے ہیں اور بعض اسے ریاستی حکمت عملی کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ جیسے اب حج کے نام پر سیاست ہونے لگی ہے۔ حرمین کی تولیت عثمانیوں کے ہاتھ میں ہو گی یا آل سعود کے، انہیں اسکا سیاسی فائدہ بھی ہوگا۔ انہیں اس سیاسی فائدے سے محروم کرنے کیلئے حج کو سیاست کو موضوع بنانا افسوسناک ہے۔

منیٰ کا حادثہ ہم سب کیلئے تکلیف دہ ہے۔ ہمارے سینکڑوں حاجی ابھی تک لاپتہ ہیں۔ ہم اسے تقدیر سمجھ کر کاموش ہو سکتے ہیں پھر ہر سال ہمیں ایسے حادثے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ ہم اس سے سیاسی فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔ اسکے بعد ہمیں تیار رہنا چاہیئے کہ مذہب کے مسلمات بھی اختلاف کا موضوع بن جائیں۔ ہم ان باہمی اختلافات کی موجودگی میں امت مسلمہ کو ایک روحانی کے بجائے سیاسی وحدت سمجھنے پر اصرار کرسکتے ہیں۔ اسکا نتیجہ خوابوں میں رہنا ہے۔ فیصلہ اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔

خورشید ندیم

بہ شکریہ روزنامہ دنیا

No comments:

Powered by Blogger.