Header Ads

Breaking News
recent

ہماری ایٹمی برتری ۔ ایک حقیقت

پاکستان کے مقابلے میں ایک بہت بڑا ملک بھارت نہ جانے کیوں پاکستان کی کمزوری میں اپنی طاقت سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود کہ پاکستان کو اکثر ایسے حکمران نصیب ہوتے ہیں جو بھارت کے حد سے زیادہ بہی خواہ تھے اور ہیں لیکن پھر بھی بھارت پاکستان پر اعتبار نہیں کرتا اور پاکستان کو کمزور بنا کر ہی اپنے تحفظ کو یقینی بناتا ہے جس میں وہ کامیاب نہیں ہو سکتا اور ناراض ہو جاتا ہے۔

مسلمانوں کی ہزار سالہ غلامی اور مسلمان بادشاہوں سے قریبی رشتہ داریوں کے باوجود بھارت کا ہندو مسلمان کو سمجھ نہیں سکا۔ جب بھی کوئی فیصلہ کن موڑ آتا ہے تو بھارت اپنی بڑائی کے باوجود مار کھا جاتا ہے۔ مثلاً ان دنوں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی جنگ کے خطرے کی وجہ سے ایٹمی طاقت کے توازن کی بات چلی ہوئی ہے۔

بھارت نے پاکستان سے پہلے ایٹم بم بنا لیا تھا جس کے بعد پاکستان نے مجبور ہو کر اس کا جواب تیار کیا لیکن اب دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان کا ایٹم بم بھارت سے بہتر ہے اور اس کا میزائل سسٹم بھی بہتر بلکہ بہت بہتر ہے جو بم کو اپنے پروں پر اٹھا کر منٹوں سیکنٹوں میں اس کی منزل مقصود پر دے مارتا ہے۔ بھارت کے سائنس دان یہ سب جانتے ہیں اور وہ اپنے حکمرانوں کو اس سے ضرور آگاہ بھی کرتے ہوں گے لیکن ان کے لیے یہ اتنی ناپسند بات ہے کہ وہ تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہیں اور پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیتے چلے جا رہے ہیں۔

یہ دن پاک بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ کو یاد کرنے کے دن ہیں اور پاکستان ان ہی  دنوں میں یوم دفاع منا رہا ہے۔ بھارت بھی پاکستان کے یوم دفاع کی اہمیت کم کرنے میں مصروف ہے اور ہماری سفارتی کمزوری کی وجہ سے وہ عرب سرزمین پر تاریخ کا پہلا مندر بنانے کی اجازت حاصل کر چکا ہے جو ہمارے ڈوب مرنے کا مقام ہے۔

ہمیں اپنی حکومت سے یہ لازماً پوچھنا چاہیے کہ بھارت اس میں کس طرح کامیاب ہوا لیکن جس حکومت کا کوئی وزیر خارجہ ہی نہ ہو اس سے کوئی کیا پوچھے۔ البتہ ایک ضعیف العمر شخص کو خارجہ امور کا مشیر ضرور بنا رکھا ہے جو کر کچھ نہیں سکتا صرف مشورہ دے سکتا ہے۔ بشرطیکہ اس کے قویٰ اعتدال میں ہوں مضمحل نہ ہوں۔ انھیں چاہیے کہ سرکاری خرچ پر کسی اچھے حکیم سے معائنہ اور علاج کرا لیں تا کہ مشورے دینے میں مصروف رہ سکیں مگر بھارت ہماری اس حالت کے باوجود ہم سے ڈرتا رہتا ہے۔

بھارت کے ایک مسلمان لیڈر جناب اے جے نورانی نے ایک بار گپ شپ کے دوران کہا کہ اگر ہم کہیں کسی مسجد میں سفیدی کرا لیں تو ہندو چونک جاتے ہیں کہ یہ مسلمان کہیں پھر سے ہمت نہ پکڑ لیں۔ ہندو کا یہ صدیوں کا خوف اب ختم ہو جانا چاہیے۔ اب مسلمانوں میں کوئی غزنوی نہیں ہے۔ تلوار کی جگہ ترازو نے لے لی ہے۔ مسلمان سپہ سالار بھارت کے عزائم اور نیت بھانپ کر پاکستان کے تحفظ میں لگے رہتے ہیں اور پاکستان کے سائنس دان بھی اسلحہ سازی میں مصروف رہتے ہیں۔ ہم یہ سب مجبوری میں کرتے ہیں کہ ہمارا دشمن کہیں خوف میں کوئی حرکت نہ کر بیٹھے۔

بھارت آبادی اور رقبے میں بہت بڑا سہی اور مغربی ملکوں کے لیے ایک بڑی منڈی سہی لیکن اس کے حکمرانوں نے اپنے عوام پر توجہ نہیں دی۔ دونوں ملکوں کے درمیان واضح فرق دیکھا جا سکتا ہے لیکن بعض پاکستانی دانشور جو بھارت پر مرتے ہیں ان کے نام ایک صاحب ڈاکٹر نفیس اختر نے ایک خط لکھا ہے۔ میں نے یہ خط صغیر صاحب کی ایک تحریر میں پڑھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب لکھتے ہیں کہ اڑسٹھ برس گزرنے کے باوجود بھارت کی حالت بدتر ہے۔ معاشی ناہمواری کا یہ حال ہے کہ 80 فیصد دولت 20 فیصد افراد کے پاس ہے۔

آج بھی تقریباً تیس فیصد بھارتی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ بھارت اپنی آمدنی کا صرف ایک فیصد صحت عامہ پر خرچ کرتا ہے اور اس سال ایک ہزار میں سے چالیس سے پینتالیس فیصد بچے ایک سال کی عمر سے پہلے ہی فوت ہو گئے ہیں۔ ولادت کے بعد ہر ایک لاکھ سے 167 مائیں فوت ہو جاتی ہیں۔
ہر سال ساڑھے پانچ لاکھ بھارتی ٹی بی سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ پوری دنیا میں ملیریا سے ہونے والی اموات کی آدھی تعداد بھارت اور کانگو میں ہے۔ ہزاروں لوگ ایڈز سے ہلاک ہو جاتے ہیں۔ تیس فیصد آبادی ناخواندہ ہے جو خواندہ ہیں وہ بھی پرائمری سے آگے تک نہیں جا پاتے۔ پچاس فیصد عورتیں دُختر کُشی کی وجہ سے غائب ہو جاتی ہیں۔ ٹائمز آف انڈیا کے مطابق ہر آدھے گھنٹے میں کسی عورت کی عزت لوٹی جاتی ہے۔

بھارت کا نقشہ اس کی آبادی اور رقبے کی طرح وسیع و عریض ہے۔ خود مذہباً اس ملک کی آبادی چار حصوں میں تقسیم کر دی گئی جس میں اونچی ذات برہمن کی اور نیچے دلت اور کمی کمین گویا بھارت غیر مساوی لوگوں پر مشتمل ایک جمہوریت ہے جس کی بنیادوں میں بھی جمہوریت کو دفن کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ بھارت ہے یعنی اس کی ایک ہلکی سی جھلک جو پاکستان جیسے جرأت مند اور خدا پر بھروسہ رکھنے والے ملک پر فتح حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔
بھارت کے معاشرے کی بنیادی خرابیاں لاتعداد ہیں جن کا ذکر میں کرتا رہتا ہوں۔ 

بھارت کے سفر میں ایک بات واضح طور پر محسوس کی کہ عام بھارتی ہم پاکستانیوں کو دولت مند سمجھتا ہے اور اس سے مرعوب ہو جاتا ہے۔ کیا ہم اس کے خلاف جنگ کا سوچ سکے۔ بھارتی فوج کو اسلحہ کے زور پر کھڑا رکھا گیا ہے کہ سپاہی کی بہادری کی جگہ اسلحہ یہ کام کرے گا۔ بھارت یعنی برصغیر کے اس حصے میں ہم برسوں صدیوں تک ایک ساتھ رہتے چلے آ رہے ہیں لیکن اچھے ہمسایوں کی طرح نہیں رہ سکے۔ یہ بات پاکستانیوں کو کبھی بھولنی نہیں چاہیے۔ ہمارا دو قومی نظریہ ایک سچ اور حقیقت ہے۔ بہتر ہے کہ بھارت اس کے ساتھ رہنا سیکھ لے۔

عبدالقادر حسن

بشکریہ ایکسپریس نیوز

No comments:

Powered by Blogger.