Header Ads

Breaking News
recent

آئس لینڈ کے باشندوں کی شامی پناہ گزینوں کو اپنے گھروں میں رکھنے کی پیشکش

 ایک جانب یورپ کے کئی ممالک افریقا اور ایشیا سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کو اپنی سرزمین میں رکھنے کے لئے تیار نہیں وہیں یورپی ملک آئس لینڈ کے ہزاروں خاندانوں نے شامی پناہ گزینوں کے لئے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے ہیں۔

آئس لینڈ کی حکومت کی جانب سے ہر سال 50 غیر قانونی تارکین کو پناہ دیئے جانے کے بیان کے بعد آئس لینڈ کے ایک ادیب برائنڈس جارگندوتی نے ایک فیس بک پیج تیار کیا ہے جس میں شام سے آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی مدد کی اپیل کی گئی ہے، فیس بک پیج پر ہزاروں افراد نے غیر قانونی تارکین کو غذا، رہائش، کپڑوں اور تعلیم فراہم کرنے کے وعدے کئے ہیں۔
فیس بک پیج پر ایک خاتون نے لکھا کہ وہ اپنے چھ سالہ بیٹے کے ساتھ رہتی ہیں اور ایک ضرورت مند بچے کو گود لینے پر تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گھر میں خوراک، کپڑے اور رہائش کا کمرہ موجود ہے اور وہ ہوائی جہاز کے سفر کا ٹکٹ دینے پر بھی تیار ہیں اور بچے کو آئس لینڈ کے معاشرے سے آگاہ کرنے کے لیے اسے ملکی زبان بھی سکھائیں گی۔

یہ عوامی ردِ عمل شام میں انسانی بحران کے بعد دیکھنے میں آیا ہے اور اس کے بعد ملک کے وزیرِ اعظم سگمندور ڈیوڈ نے اس معاملے پر وزرا کی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور مزید شامی پناہ گزینوں کو قبول کرنے پر کام شروع کردیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم نے ملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ بین الاقوامی سیاست میں ہم ہرممکن مدد کو تیار ہیں اور یہ معاملہ اس وقت سرِفہرست ہے۔
شام میں گزشتہ چار سال سے خانہ جنگی جاری ہے جس میں اب تک 2 لاکھ سے زائد افراد مارے جاچکے ہیں اور 10 لاکھ سے زائد افراد مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ اس سال شام سے فرار ہوکر بذریعہ کشتی ہزاروں افراد نے یورپ جانے کے لیے سمندر کا پُرخطر راستہ اختیار کیا جس میں اب تک بچوں اور خواتین سمیت سیکڑوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

No comments:

Powered by Blogger.