Header Ads

Breaking News
recent

تعلیم کی تجارت ،سنگین دہشت گردی

مذہبی مدارس اور حکومت کے مابین مذاکرات کے پس منظر میں میں اپنی معروضات پیش کر رہا ہوں۔

سب سے پہلے دینی مدارس کے مثبت کردار کی پہچان ا ور ستائش ضروری ہے۔ بغداد،قرطبہ اور بخارا کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بر صغیر میں دویو بند، جامعہ اسلامیہ حقانیہ، جامعہ اشرفیہ، جامع المنتظر،جامعہ سلفیہ نے تعلیم و تحقیق کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ ابن خلدون ، اب الہیثم، ابن سینا، رازی ، طبری ، بخاری اور سینکڑوں علما ، فقہا، محدثین، مفکرین، مصلحین انہی اداروں کے فارغ التحصیل تھے، مجدد الف ثانی نے بھی کسی ایسے ہی ادارے میں زانوئے تلمذ تہہ کیا تھا۔ امام ابو حنیفہ، امام احمد بن حنبل، امام شافعی اور دیگر ائمہ کرام و عظام نے جو تحقیقی کام کر دکھایا، اس کی نظیر کوئی اور پیش نہیں کر سکا۔

موجودہ ور کے دینی ادارے صدقات، خیرات، زکوات کی بنیاد پر سرگرم عمل ہیں۔ یہ قومی خزانے پر بوجھ نہیں ہیں،نہ لوگوں کی جیب پر ڈاکہ مارتے ہیں، یہ طالب علموں کا تمام خرچہ برداشت کرتے ہیں، تعلیم کا بھی، کتابوں کا بھی، کھانے  پینے ،پہننے کا بھی ا ور رہائش کا بھی۔

اگر ان کے بعض طالب علم دہشت گردی میں ملوث ہوئے ہیں اور ان کا ثبوت اور ڈیٹا حکومت کے پاس موجود ہے تو اس رجحان کا ضرور تدارک ہونا چاہئے مگر غیر ملکی دباﺅ پر تمام دینی مدارس کے پیچھے اندھا دھند لٹھ لے کر چل پڑنا شاید سود مند ثابت نہیں ہو گا۔

دینی مدرسوں پر بڑا الزام یا شک یہ ہے کہ یہ غیر ملکی امداد لیتے ہیں۔ اور انہی طاقتوں کے ایجنڈے کی پیروی کرتے ہیں۔
حکومت اس وقت انہی خطوط پر دینی مدارس سے ہم کلام ہے، اس مکالمے کے نتائج ضرور برا ٓمد ہونے چاہئیں۔

مگر دینی مدارس کے مقابلے میں ہمارے سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے سرطان سے زیادہ مہلک ہیں۔ سرکاری اداروں میں اسٹاف ہی نہیں ، اسٹاف ہے تو طالب علم نہیں اور دونوںہیں تو تعلیم نہیں۔ ابھی تک ہم گھوسٹ اسکولوں کا مسئلہ حل نہیں کرسکے، فرضی اسکولوں کے نام پر سرکاری افسران قومی خزانہ ڈکار رہے ہیں۔
نجی تعلیمی ادارے تو زیادہ تر تعلیم کے نام پر کلینک کا ٹیکہ ہیں ، یہ فیسیں بٹورنے کے کارخانے ہیں۔ نام بڑے بڑے اور فیسیں بھی بڑی بڑی۔ کچی جماعت کی فیس اٹھارہ سے بیس ہزار روپے سے شروع ہوتی ہے۔ کس کی سکت ہے کہ یہ فیس ادا کرے اور درجہ بدرجہ یہ فیس لاکھوں کے ہندسے تک پہنچ جاتی ہے۔ کوئی خاندان ایسے بھی ہوں گے جو حق حلا ل کی کمائی سے یہ سرمایہ کاری کر لیتے ہوں گے مگر زیادہ تر ماں باپ ان اخراجات کے لئے ناجائز ہتھکنڈوں کے لئے مجبور ہیں،۔ پھر بھی آپ کیلکولیٹر پکڑیں اور حساب لگائیں کہ اس سیکٹر میں جس قدر سرمایہ انڈیلا جا رہا ہے ، کیا اس کا اجر بھی معاشرے کو اسی شرح سے ملتا ہے۔

لاہور میں اغوا برائے تاوان کی پہلی واردات ہوئی۔ اس میں ایک ٹیکسٹائل ٹائیکون کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واردات میں کون ملوث تھا۔ کیا دینی مدرسوں کا کوئی طالب علم یا جدید روشنی سے بہرہ مندنجی اداروں اورپبلک اسکولوں کے ہونہار؟
ہر سرکاری دفتر میں چھوٹے اہل کار سے لے کر بڑے سے بڑے افسر تک کرپشن کا بازار گرم ہے، یہ لوگ کن تعلیمی اداروں کے چشم و چراغ ہیں، کیا جامعہ حقانیہ  جامعہ اشرفیہ یا جامعہ سلفیہ یا جامعہ المنتظر کا کوئی طالب علم کلرک بھرتی ہو سکتا ہے یا سی ایس پی اور پی سی ا یس کا امتحان پاس کر سکتا ہے۔ 

اگر جواب ناں میں ہے تو پھر دینی مدارس نشانے پر کیوں ہیں۔نیب کے مقدمے کس کے خلاف ہیں، رینجرز کن عناصر کے تعاقب میں ہے۔ بھتے خوری، ٹارگٹ کلنگ اور قبضہ مافیا میں پیش پیش کون ہے۔را کا پیسہ کن کو ملتا ہے۔ ان عناصر کے پاس دینی مدرسوں کی سندیں ہیں یا سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے سرٹی فیکیٹ۔
نیت کیا ہے، محدود مقصد کی تکمیل ، یعنی امن کا قیام یا مستقل منصوبے بندی کاارادہ ہے۔جو کہ ہونا چاہئے۔

ایک طرف ایچی سن اسکول، نتھیا گلی اسکول، بہاولپور اسکول، دوسری طرف کیڈٹ اسکول، تیسری طرف انگلش میڈیم اسکول اور یہ بھی طرح طرح کے نام سے، ان میں سے کسی کی ایک برانچ کھولنے کے لئے لاکھوں کا بھتہ دینا پڑتا ہے۔ تیسری طرف غیر ملکی کالجوں اور یونیورسٹیوں کی اصلی یا جعلی شاخیں۔
ان تمام اداروں میں نہ نصاب یکساں ہے، نہ فیس یکساں ہے ، نہ ان کے فارغ التحصیل ہونے والوں کا مستقبل یکساں ہے، ان میں سے کتنے لوگ ڈاکو بنتے ہیں، کتنے ٹاﺅٹ بن کر پیٹ پالنے پر مجبو ہیں، کتنے ماڈل ایان علی کی طرح پھیرے باز بنتے ہیں یا بنتی ہیں۔ کتنے اچھی تنخواہ نہ ملنے کیو جہ سے غیر ممالک میں ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

تعلیم کے نام پر ا س ملک میں وسیع پیمانے پرتجارت ہو رہی ہے، صرف دینی مدرسے ہی غیر ملکی امداد نہیںکھا تے، اعلی تریں تعلیمی ادارے بھی یونیسیف سے لے کر گورڈن براﺅن فنڈ تک کو چاٹ رہے ہیں۔لاکھوں ڈونرز ادارے دنیا میں موجود ہیں جو اپنے تئیں تعلیم کے فروغ کے لئے پیسہ دیتے ہیں مگر یہ پیسہ تعلیمی سیٹھ ہڑپ کر جاتے ہیں، معاشرے میں تعلیم کی شرح میں ایک فی صد اضافہ نہیں ہوا۔ بے روز گاری بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ ہے تعلیم کے شعبے کی زبوں حالی اور ہم دینی مدارس کو ملنے والی امداد کو رو رہے ہیں۔ یہ رونا ضرور ہونا چاہئے، رونے دھونے کے سوا ہمارا کام اور کیا ہے۔

مگر دینی اداروں کی امداد کو بیورو کریسی کے تصرف میں دے دیا گیا تو اسکا حشر بھی وہی ہو گا جو اکثر غیر ملکی گرانٹوں کا ہوتا ہے کہ یہ پڑے پڑے گل سڑ جاتی ہیں، ان کی کسی کو بھنک تک نہیں لگنے دی جاتی۔ بالا کوٹ کا شہر2005کے زلزلے میں تباہ ہوا، اسی وقت سعودی عرب نے پیش کش کی کہ اسے متبادل زمین فراہم کر دی جائے ،وہ ا پنی نگرانی میں نیا شہر بسا کر دے گا، گیارہ برس گزر گئے ، صوبہ خیبر پختون خوا ہ کی سرکاری مشینری اس زمین کی نشاندہی تک نہیں کر سکی۔ یہ ہوتا ہے حشر سرکاری کنٹرول کا۔ سویت روس کیوں برباد ہوا، پاکستان میں بھٹو نے نجکاری کی، مگر سب کچھ ملبہ بن گیا، اتفاق فونڈری کو سرکار نے قبضے میں لیا مگر یہ اسکریپ میں تبدیل ہو گئی۔
اگر دینی مدارس کے بچے کھچے کردار کو بھی اسکریپ میں تبدیل کرنا ہے تو اسے افسر شاہی کے شکنجے میں کس دیا جائے۔

کوئی سرکاری یا نجی یونیورسٹی پورا قرآن ناظرہ سولہ برس میں بھی نہیں پڑھاتی مگر اسکول جانے سے پہلے محلے کی مسجد کا مولوی پورا قرآن پڑھادیتا ہے۔ کیا یہ قصور ہے دینی مدرسے کا۔

میں نے پہلی میں داخلے سے پہلے مسجد میں پورا قرآن پڑھا۔ اللہ مولی عبداللہ صاحب کو جنت عطا فرمائے۔ انہوں نے ایک سو تک گنتی یاد کروائی ،سولہ تک پہاڑے بھی یاد کروائے۔ پھر میں مہالم کلاں کے اسکول میں داخلے کے لئے ماسٹر معروف کے سامنے پیش ہوا، انہوں نے پوچھا کچھ پڑھ سکتے ہو، میں نے کہا تھا کوئی بھی کتاب۔ یہ قرآن کی تعلیم کا اعجاز ہے۔ نوائے وقت اسلام ا ٓباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر جاوید صدیق گواہ ہیں۔ میں نے سن دو ہزار میں پینٹگان کے جرنیلوں سے کہا تھا کہ ہم سے قرآن نہ چھینو اور وہ یہی کچھ کر رہے ہیں بلکہ ہم سے کروا رہے ہیں۔

   اسد اللہ غالب

No comments:

Powered by Blogger.