Header Ads

Breaking News
recent

جمہوریت کو بدنام کون کررہا ہے؟

جمہوریت کو بدنام کون کررہا ہے…خاکی یا سویلین؟ پاکستانی سیاست اور سیکورٹی کی صورت ِحال نے ملک میں سویلین حکومت کے حامی افراد کو سول ملٹری توازن کی الجھن میں ڈال دیا ہے۔ کیا یہ طاقتور بیان یہ کہ سیاست دان کم ظرف، لالچی اور نااہل ہونے کی وجہ سے ملک کو مشکلات کے گرداب سے نکالنے کے اہل نہیں، آگے بڑھانے پر وردی پوشوں پر تنقید کی جائے یا پھر سیاست دانوں کو مورد ِ الزام ٹھہرایا جائے کہ وہ خود تو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے میں مگن ہیں جبکہ اُنھوں نے زمام ِ اختیار دفاعی اداروں کے ہاتھ میں دے رکھی ہے، اس لئے اس بیانیے کو تقویت ملی ہے؟

 جب میڈیا دکھاتا ہے کہ دفاعی اداروں کے جوان سیلاب میں گھرے ہوئے افراد کو بچا رہے ہیں جبکہ ملک کے حکمران غیرملکی دوروں پرہوتے ہیں تو کیا ہماری پیشانی شکن آلود ہونی چاہئے؟ کیا ہمیں خاکی وردی والوں پر آگ بگولہ ہوجانا چاہئے کہ دہشت گردی یا قدرتی آفات کے موقع پر اُن کی فعالیت عوامی جذبات کی عکاسی کرتی ہے جبکہ سیاست دان چارو ناچار اُن کے پیچھے چلتے دکھائی ہیں؟

ایک ایسے ملک، جس میں آرمی چیف ہی حتمی جج، جیوری اور سزادینے والے ہوں اوروہ اُن افراد کی سزائے موت کی توثیق کررہے ہوں جنہیں اُن کے جوانوں نے گرفتار کیا تھا اور فوجی عدالت نے سزاسنائی ہو، میں انسانی حقوق اورامن وامان کی صورت ِحال پر کیا کہا جائے؟ لیکن یہ طاقت حاصل کرنے پر برافروختہ کیوں ہوا جائے؟ کیا سیاست دانوں نے متفقہ طور پر منظور کی جانے والی آئینی ترامیم کے ذریعے فوج کو یہ اختیارات نہیں دئیے؟ کیا جج حضرات پر غصے کا اظہار کیا جائے کہ عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے کرتے ہوئے اُنھوں نے فوجی ججوں کو سویلینز کے مقدمات کا فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا؟

ہم نے موت کی کوٹھری سے صولت مرزا کی خونی کہانی سنی تھی جس کے مطابق ایم کیو ایم کی قیادت تشدد اور جرائم میں ملوث ہے۔ ہم نے جے آئی ٹیز میں بہت سے ٹارگٹ کلرز کے اعترافات سنے جنہیں سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل تھی۔ کراچی خوفناک اور ہلاکت خیز سیاسی اور جرائم پیشہ مافیاز کے پنجوں میں لہولہان دکھائی دیتا ہے۔ بلدیہ ٹائون فیکٹری آتش زدگی میں سینکڑوں ملازمین جھلس کراس لئے ہلاک ہوئے کہ فیکٹری کے مالک طلب کیے گئے بھتے کی رقم میں قدرے تخفیف چاہتے تھے۔

 ایک اسپتال کے بارے میں بتایا گیا جہاں سیاسی مخالفین کو مہلک انجکشن لگا کر موت کے گھاٹ اتاردیا جاتا۔ کیا یہ تمام مواد خود ساختہ ہے؟ ہم نے لوٹ مار اور بدعنوانی کی کہانیاں سنیں۔ ہمیں پتہ چلا کہ سرکاری عہدے فروخت ہوتے ہیں، تھانوں کی نیلامی کی کہانیاں دیومالائی افسانے نہیں، یہ زیادہ بولی دینے والے ایس ایچ او کو دیدئیے جاتے ہیں جو اُنہیں ایک نفع بخش کمپنی کی طرح چلاتا ہے۔ حال ہی میں ہیلری کلنٹن کی ای میلز سے انکشاف ہوا کہ ایک امریکی سفارت کار صدر زرداری کو قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ وہ سیلاب سے متاثر ہونیوالے پاکستانیوں پر زیادہ توجہ دیں۔ کیا یہ ای میلز کسی کی خودساختہ ہیں؟

تاہم پی پی پی اور ایم کیو ایم چاہتے ہیں کہ ہم یقین کرلیں کہ اُن کے رہنمائوں کی گرفتاری انتقامی کارروائی ہے۔ کیا ان دونوں جماعتوں کے گھنائونے افعال پر چلنے والی احتساب کی تلوار کو اس لئے میان میں ڈال دیا جائے کہ اس سے جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی؟ کراچی آپریشن کے حوالے سے سویلین کی بدعنوانی کا احتساب کرنے کے عمل میں یہ کہہ کر رکاوٹ ڈالی جاتی ہے کہ نیب اور ایف آئی اے کی سندھ حکومت کی اجازت کے بغیر صوبے میں کارروائیاں آئین کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ 
اٹھارویں ترمیم کے بعد دہرائی جانے والی بہت سی چیزیں حذف کردینے کے باوجود کریمنل لا اور کریمنل پروسیجر کا اسٹیٹس وہی ہے جو آئین کے آرٹیکل 142 میں درج ہے۔ اس کے مطابق اگر کسی جگہ پر صوبائی اور وفاقی قانون میں کشمکش دکھائی دے تو وفاقی قانون کو فوقیت دی جائے گی۔ وفاق کی ایگزیکٹو اتھارٹی پارلیمنٹ جو قانون سازی کا اختیار رکھتی ہے، کی وجہ سے بہت بااختیار ہے۔ ایف آئی اے اور نیب وفاقی قوانین کے تحت کام کرتے ہیں۔

 اُنہیں تحقیقات کرنے کیلئے کسی وزیر اعلیٰ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں (اور نہ ہی وزیر ِاعظم سے)۔ ا س حوالے سے دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیاست دانوں کا سیاسی احتساب ہونا چاہئے، قانونی نہیں۔ یہ دلیل درست نہیں اور نہ ہی دنیا کا کوئی جمہوری نظام اسے قبول کرے گا۔ اگرایسا ہوتا تو دنیا بھر کے منتخب شدہ نمائندے قانونی احتساب سے مستثنیٰ ہوتے۔ صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا میں ہر جگہ سیاست ایک گندا کھیل ہے۔ دوسری طرف افواج کا دامن صاف رہتا ہے تاوقت یکہ وہ کسی ملک پر آمریت مسلط کرتے ہوئے سیاستدانوں کے اکھاڑے میں قدم رکھ دیں۔

ایسا کرتے ہوئے اُنہیں سیاسی دائو پیچ آزمانے پڑتے ہیں۔ فوجی ملک کیلئے لڑتے ہیں یا قدرتی آفات میں عوام کی مدد کرتے ہیں، چنانچہ اُن سے ہر ملک میں محبت کی جاتی ہے۔ دوسری طرف سیاست دانوں نے قانون سازی، محصولات جمع کرنے اور عوامی وسائل کو استعمال کرنے کے منصوبے بنانے ہوتے ہیں۔ چنانچہ ان کا عوامی غصے کا نشانہ بننا فطری امر ہے۔ پاکستان میں مسئلہ یہ ہے کہ یہاں سیاست دانوں اور فوجیوں کا موازنہ کرتے ہوئے اُنہیں ایک دوسرے کا متبادل فرض کیا جاتا ہے۔ عوام کے نزدیک آرمی چیف ملک کے وزیر اعظم کا متبادل ہوتا ہے۔ دوسری طرف فوج بھی اپنی ذمہ داری کی انجام دہی میں اپنے بارے میں قائم عوامی رائے کو ملحوظ ِخاطر رکھتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سول ملٹری (عدم) توازن کا مسئلہ سر اٹھاتا ہے۔

 کراچی آپریشن میں فوج کے پاس تنظیمی ڈھانچہ اور خود مختاری ہونے کی وجہ سےوہ اپنی مرضی سے جہاںچا ہے دہشت گردی اور جرائم پر ہاتھ ڈال سکتی ہے۔ یہ صورت ِحال ایسی پالیسیوں کا نتیجہ ہے جنھوں نے دہشت گردی اور تشدد کو فروغ دیا۔ اب صرف فوج ہی اس جن کو واپس بوتل میں ڈال سکتی ہے۔ تاہم ایک ایسے ملک میں جہاں یادداشت کی وسعت محدود، بلکہ من پسند ہو اورفوج عوامی بیانیے اور واقعات کے تاریخی پس ِ منظر پر اتھارٹی رکھتی ہو، اس کیلئے خود کو قوم کے نجات دہندے کے طور پر پیش کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ جب بھی سیاست دانوں میں کسی پر رینجرز انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ہاتھ ڈالتی ہے تو قنوطی سوچ رکھنے والوں کو امڈتے ہوئے خدشات کا دریا دکھائی دینے لگتا ہے۔ اس تمام ماحول میں ایک بات فراموش کردی جاتی ہے کہ فوجی کی فعالیت اس کے نظم، تنظیم اور کام کی نوعیت کی وجہ سے ہے۔

 آپ جنرل شریف صاحب کو وزیر ِ اعظم بنادیں تو اُن کی مقبولیت کا گراف گرنے لگے گا۔ جب تک فوج دہشت گردی اور دہشت گردی میں استعمال ہونے والے کالے دھن کا تعاقب کرتی ہے، یہ کامیاب ہے، لیکن جس گھڑی یہ سیاسی گند کو صاف کرنے کا بیڑا اٹھائے گی، یہ خود کو مشکلات کے گرداب میں پائے گی۔ اس وقت فوج کی وجہ سے پاکستان انتہا پسندی اور تشدد کی کھائی میں گرنے سے بچ گیا، تاہم یہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ کراچی میں منظم جرائم کے خاتمے کی کوشش جاری تو پنجاب میں فرقہ واریت کی بنیاد پر ہونے والی دہشت گردی پر ہاتھ ڈالا جارہا ہے۔ اس دوران عوام میں احتساب کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔ فوج نے بھی اپنے کچھ اعلیٰ افسران کو سزادی ہے۔ 

 اس وقت نیب اور ایف آئی اے بھی گہرے خواب سے جاگتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس وقت پاکستان ایک ایسی صورت حال کو دیکھنے جارہا ہے جس میں یہ اتفاق ِرائے پایا جاتا ہے کہ اشرافیہ چاہے کتنی ہی طاقتور ہو، ان کی غلط کاری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ یہ وہ بہترین چیز ہے جس کا پاکستان کو انتظار تھا۔ جو سیاسی جماعتیں جمہوریت کے نام پر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں، وہ کسی ہمدردی کی محتاج نہیں۔ تاہم ابھرنے والی اس تبدیلی کی لہر میں ایک چیز ہی پریشان کن ہے ، وہ یہ کہ فوج ایک غالب قوت کے طور پر فعالیت دکھارہی ہے۔اس وقت وہ ایک قدم پیچھے رہ کر پردے کی اوٹ سے اپنی طاقت کا اظہار کررہی ہے۔ یہ پردہ ختم کردیں تو وہ عوام کی نظروں کے سامنے سیاسی اکھاڑے میں ہوگی اور اس کا زوال شروع ہوجائے گا۔

بابر ستار

بہ شکریہ روزنامہ  جنگ

No comments:

Powered by Blogger.