Header Ads

Breaking News
recent

نیوز ویک کی تشویش

امریکی جریدے نیوز ویک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے بارے میں خدشہ ہے کہ جنوبی ایشیا کے یہ دونوں ملک جوہری جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتے ہیں اور اس ممکنہ منظرنامے کے بعد امریکا کی زمینی فوج کا اس صورت حال سے الگ تھلگ رہنا تقریباً ناممکن ہو گا۔

نیوز ویک نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک ایٹمی تصادم جنوبی ایشیا کے لیے بربادی، عالمی معیشت کے لیے تباہ کن اور کرہ ارض کے لیے انتہائی خطرناک ہو گا۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا حقیقی امکان آج بھی موجود ہے۔ پاکستان کی 5 لاکھ 50 ہزار فوج عددی حجم کے حوالے سے اس وقت دنیا میں چوتھے نمبر پر اور بھارت کی 11 لاکھ 50 ہزار فوج دوسرے نمبر پر ہے۔
نیوز ویک کا شمار امریکا کے انتہائی اہم اور بااثر جریدوں میں ہوتا ہے اس پس منظر میں نیوز ویک کے خدشات کو بے بنیاد نہیں کہا جا سکتا۔ 

بدقسمتی یہ ہے کہ امریکا سمیت مغربی ملکوں کا میڈیا دنیا کو لاحق اس خطرے کی نشان دہی تو کرتا ہے لیکن اس حوالے سے یہ رائے دینے سے گریزاں رہتا ہے کہ دنیا کو ایٹمی جنگ سے دوچار کرنے والا ملک بھارت ہے یا پاکستان؟ نیوز ویک سمیت پورا مغربی میڈیا اچھی طرح جانتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہی دونوں ملکوں کے درمیان ایک ایسا مسئلہ ہے جو دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے اور مغربی میڈیا اور مغربی ملک کشمیر کی تاریخ ہی نہیں بلکہ کشمیر کی موجودہ صورت حال سے بھی بخوبی واقف ہیں۔

مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے جانے والا ملک بھارت ہی ہے اور اقوام متحدہ نے اس مسئلے کا حل یہ بتایا کہ کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے۔ پاکستان اور کشمیری عوام اقوام متحدہ کی اس قرارداد کو ماننے کے لیے روز اول سے تیار ہیں لیکن خود بھارت اس قرارداد کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ آج مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کے جھنڈے لہرا رہے ہیں اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں کیا نیوز ویک مغربی میڈیا اور مغربی ممالک ان حقائق سے ناواقف ہیں؟
اس کرہ ارض کی بدقسمتی یہ ہے کہ بڑے ملک حق اور سچ کا ساتھ دینے کے بجائے اپنے قومی مفادات کے نام پر زبان بند کیے بیٹھے رہتے ہیں۔ نیوز ویک میں ایٹمی جنگ سے جنوبی ایشیا اور کرہ ارض کی تباہی کی پیش گوئی تو کرتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ایسی صورت حال پیدا ہوئی تو امریکا خاموش نہیں بیٹھ سکتا، لیکن اس خطرناک صورتحال کے پیدا کرنے والے ملک کو یہ مشورہ نہیں دیتے کہ اس خطرناک صورتحال کے پیدا کرنے والے مسئلے، مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے۔ نیوز ویک یہ بھی کہتا ہے کہ ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو امریکا کی زمینی فوج کا اس صورت حال سے الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں۔ یعنی امریکا کی زمینی فوج کو برصغیر میں مداخلت کرنا پڑے گی۔

چین پاکستان کا حقیقی دوست ہے، دوسری بات یہ ہے کہ چین کسی صورت میں امریکا کی زمینی فوج کو اپنی سرحدوں پر برداشت نہیں کرے گا۔ کیا نیوز ویک کے قابل صحافیوں کو اس حقیقت کا علم نہیں؟ بدقسمتی یہ ہے کہ بڑی طاقتوں کے مفادات نے ان کے حکمرانوں کے منہ پر مصلحتوں کے ٹپ لگا دیے ہیں۔
وہ ایٹمی جنگ کے خطرات کو تو محسوس کر رہے ہیں لیکن اس ہیبت ناک جنگ کے حقیقی اسباب کو ختم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 ماضی میں بھی برصغیر کے یہ دونوں متحارب ملک ایٹمی جنگ کے قریب پہنچ چکے تھے اور آج یہ علاقہ جس صورت حال سے دو چار ہے اس کے پیش نظر نیوز ویک کے خطرات کو فرض یا اندیشہ ہائے دور دراز نہیں کہا جا سکتا۔ پاکستانی فوج مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ماضی کے مقابلے میں زیادہ حساس ہے لائن آف کنٹرول پر روز روز کی مداخلت، جانی اور مالی نقصان اس سلگتی آگ پر تیل کا کام کر رہا ہے۔

جنگیں اچانک نہیں پھوٹ پڑتیں اس کے لیے معقول اسباب پیدا ہوتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر آئے دن کی مداخلت جانی اور مالی نقصانات کیا دونوں ملکوں کو امن کی طرف لے جا رہے ہیں یا جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ کیا دونوں ملکوں کی قیادت اس سے ناواقف ہے؟

جنگ کے حقیقی خطرات میں اضافہ اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ آج کل بھارت میں ایک ایسی مذہبی انتہاپسند جماعت برسر اقتدار ہے جس کا منشور ہی مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینا ہے۔ مودی حکومت بھارت کی پہلی حکومت ہے جو بھارتی دستور سے اس شق ہی کو نکالنے کے لیے پر تول رہی ہے جو کشمیر کو خصوصی حیثیت دیتی ہے۔ اگر مودی حکومت اس سمت میں کوئی پیش رفت کرتی ہے تو پھر کشمیر میں ایک ایسی آگ لگ جائے گی جو دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے حقیقی خطرات پیدا کر دے گی۔

پاکستان کے فہمیدہ حلقے کشمیر کے مسئلے کو مذہبی حوالے سے نہیں دیکھتے بلکہ کشمیری عوام کے حق خود ارادی اور خطے میں پائیدار امن کے حوالے سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کے اہل فکر اور اہل دانش اس حقیقت سے واقف ہیں کہ ان دونوں پسماندہ ملکوں میں 50 فیصد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور اس کا ایک اہم سبب مسئلہ کشمیر ہے، دونوں ملک اسی مسئلے کی وجہ سے اپنے بجٹ کا ایک بڑا حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں۔ اگر دفاع پر خرچ ہونے والے اس بھاری سرمائے کو بچا لیا جائے تو برصغیر سے غربت بڑی حد تک کم ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ بھارت کے اہل علم، اہل دانش، اہل قلم مسئلہ کشمیر کے حوالے سے نریندر مودی بنے ہوئے ہیں۔ بھارت کے کسی گوشے سے یہ آواز اٹھتی ہوئی نظر نہیں آتی کہ برصغیر جنوبی ایشیا کی پسماندگی اور دنیا کے امن کے حوالے سے مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی مرضی کے مطابق حل کیا جائے۔ کشمیر کوئی ترقی یافتہ صنعتی علاقہ نہیں ہے یہ ایک انتہائی پسماندہ علاقہ ہے جس پر بھارت کو ایک بھاری امداد خرچ کرنی پڑ رہی ہے۔

اس کے علاوہ کشمیر میں رکھی ہوئی 7 لاکھ بھارتی فوج کا بے تحاشا خرچ بھی بھارت کو برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ کیا بھارت کے مفکر، اہل دانش، اہل قلم اس حوالے سے خود بھارت کے نفع نقصان پر غور کرنے کی زحمت کرتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب بھارتی مفکرین اہل دانش اہل قلم کو دینا ہو گا۔

ظہیر اختر بیدری

بہ شکریہ روزنامہ ایکسپریس 

No comments:

Powered by Blogger.