Header Ads

Breaking News
recent

بی جے پی فیصلہ کر چکی؟

کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کتنی تیز ہو گئی ہے۔ ایک ہی دن میں نو دس شہری شہید اور پچاس سے زیادہ زخمی کر دیئے ۔ پاکستان نے بھی بہر حال اپنی ذمہ داری ادا کی اور دفتر خارجہ میں بھارتی سفارت کار کی طلبی کر کے منہ توڑ احتجاج ، منہ توڑ احتجاجی مراسلہ اسکے ہاتھ میں تھما دیا۔

بھارت سرحدوں پر جو کچھ کر رہا ہے، وہ محض سرحدی اشتعال انگیزی نہیں ہے، یہ جنگ کا دیباچہ سمجھئے۔ پاکستان میں فیصلہ کن جنگ بی جے پی کا مذہبی اور سیاسی عقیدہ ہے اور وہ جنگ کی تیاری کر چکا ہے۔ تیاری کے اس فیصلے کے پیچھے چند مفروضے ہیں جو بھارتی حکومت نے قائم کر رکھے ہیں۔
پہلا مفروضہ یہ ہے کہ اندرون صورتحال کی وجہ سے پاکستان اس وقت اپنی کمزور ترین پوزیشن میں کھڑا ہوا ہے۔ وہ ملک کے اندر تنازعات میں الجھا ہوا ہے اس لئے بھارت کے خیال میں فضا بہت سازگار ہے۔

دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ امریکہ جنگ کی صورت میں پاکستان کو ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرنے دے گا اور فیصلہ فوجی نفری کی برتری کرے گی۔
تیسرا مفروضہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر قومی یکجہتی موجود نہیں رہی۔ سندھ کی دونوں نسلی آبادیاں یعنی سندھی اور ہاجر وفاق سے خائف ہیں۔ بلوچستان میں علیحدگی کے جذبات زوروں پر ہیں، پختونخواہ کے پختون بھی وفاق سے نالاں ہیں۔

چوتھا مفروضہ ماضی کے برعکس ، مشرف اور کیانی کی مہربانی سے افغان سرحد محفوظ نہیں رہی۔ ماضی کی ساری جنگوں میں افغان حکومت اور عوام کی ہمدردی پاکستان کے ساتھ رہی۔ حتیٰ کہ بھارت نواز ظاہر شاہ بھی اندر سے پاکستان کے ساتھ تھا۔ یہ تاریخ میں درج ہے کہ 65ء کی جنگ میں اس نے پاکستان کو مغربی سرحدوں کے بارے میں پوری طرح بےفکر رہنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
پانچواں مفروضہ ماضی میں پاکستان کا دوست ایران اب بھارت کا تحادی ہے۔ گزشتہ مہینوں جب عالمی ادارے میں پاکستان بحری حدود میں توسیع کیلئے رائے شماری ہوئی تو صرف دو ملکوں نے پاکستان کے خلاف ووٹ دیا۔ ایک بھارت تھا دوسرا ایران۔ گوادر پراجیکٹ کی وجہ سے بھارت کو امید ہے کہ مہم جوئی میں ایران اسکا عملی ساتھ دے گا۔

چھٹا مفروضہ صرف ہمارے مہربانوں نے دنیا میں ایک بھی ملک ایسا نہیں رہنے دیا جسے ہم دوست کہہ سکیں۔ واحد ملک جو جنگ میں ہمارا ہر طرح سے ساتھ دیتا ، وہ سعودی عرب تھا ۔ اسے ہم نے غیر دوست ملک بنا دیا ہے۔ نواز شریف کو تاریخ ہمیشہ سنہرے الفاظ سے یاد رکھے گی جنہوں نے سعودی عرب کی مدد سے انکار کیا تو کیا، قومی اسمبلی سے اسکے خلاف قرارداد بھی منظور کروا دی۔ دوسرا دوست ملک ترکی تھا جو سعودی عرب جتنی مدد تو نہیں کرتا تھا لیکن کچھ نہ کچھ مدد ضرور کرتا تھا۔ اب اسے بھی اجنبی ملک بنا دیا گیا ہے۔ چین کے ساتھ ہماری دوستی بلاشبہ ہمالیہ پہاڑ سے اونچی اور بحیرہ عرب سے زیادہ گہری ہے لیکن اسکی مدد مخلصانہ مشورے تک محدود رہتی ہے۔ اسکی پالیسی دوسرے ملکوں کے تنازعات میں عدم مداخلت کی ہے اور دوستی خواہ کتنی ہی اونچی اور کتنی ہی گہری ہو، قومی پالیسی کی خلاف ورزی نہیں کر سکتی۔

یاک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان کے مسئلے پر بھارتی لابی کا غلبہ ہے۔ جب سعودی عرب کے خلاف قومی اسمبلی نے قرارداد منظور کی تو الیکٹرانک میڈیا پر منایا جانے والا جشن عالبا الیکٹرانک میڈیا کی عالمی تاریخ کا سب سے بڑا جشن تھا۔ یہی میڈیا جشن آزادی کی دھوم دھام میں قوم کو گم کرنے میں مصروف رہا۔ ظاہر ہے ، اس طرح کے جشن قوم کو سلائے رکھنے میں تیر بہدف ہوا کرتے ہیں۔ یہی میڈیا مقبوضہ کشمیر کے مظاہروں میں پاکستانی پرچم لہرائے جانے کی خبروں کو بہت خوشی سے اچھالتا ہے جسکی حقیقت کچھ اور ہے۔ وہ حقیقت کیا ہے؟ سنئے 

بی جے پی مقبوضہ کشمیر کی وہ خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنا چاہتی ہے جسکے تحت دوسرے بھارتی علاقوں سے لوگ یہاں آ کر آباد نہیں ہو سکتے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ دوسرے علاقوں سے 15, 20 لاکھ ہندو یہاں لا کر آباد کئے جائیں تو مقبوضہ کشمیر مسلم اکثریتی صوبہ نہیں رہے گا۔ اس وقت مقبوضہ ریاست کی آبادی سوا کروڑ ہے جس میں 80 لاکھ کے قریب مسلمان اور 45 سے 50 لاکھ کے قریب ہندو، بدھ، سکھ وغیرہ ہیں۔ آئینی شق ختم کرنے کیلئے بھارت میں فضا زیادہ ہموار نہیں۔ کشمیریوں کے مظاہروں میں بی جے پی کے کارکن منصوبے کے تحت پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، بھارتی میڈیا انہیں خوب کوریج دیتا ہے اور یوں بھارت میں فضا بنتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان حد سے نکل رہے ہیں، کشمیر کی آئینی تحفظ والی شق ختم کر کے انہیں قابو میں لایا جانا چاہیے۔ لگ رہا ہے کہ بی یجے پی اپنے ہدف کے قریب ہے، ہوتا کیا ہے، خدا کو معلوم ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے لوگ بھارت سے نفرت کرتے ہیں اور پاکستان کے دل گرفتہ ہیں۔ 80 لاکھ مسلمان آبادی میں سے ایک لاکھ 20 ہزار نوجوان بھارتی فوج شہید کر چکی ہے گویا ہر مسلمان گھرانہ ایک نوجوان سے محروم ہوچکا ہے۔ ہر مسلمان گھرانہ ماتم کدہ ہے۔ 1999ء میں پاکستان نے کشمیر کاز کو ڈمپ کر دیا۔ اس سے پہلے خالصتان کے کاز کو ڈمپ کیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ممتاز دانشور لال خان نے لکھا کہ کچھ برس قبل پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کشمیر کاز سے دستکش ہو گئ تھی۔ کچھ برس پہلے نہیں، ٹھیک 16 برس پہلے 1999ء میں جب کارگل پر باڑ لگانے کی اجازت دی گئی، دستے مشرق سرحدوں سے اٹھا کر مغربی سرحدوں پر لگا دیئے گئے اور کیانی صاحب نے بیان دیا کہ ہمیں باہر سے کوئی خطرہ نہیں۔ باہر کون ہے؟

ظاہر ہے کہ بھارت ہے۔ سری لنکا یا بھوٹان تو نہیں ہو سکتے۔ اس صورتحال میں کشمیر کے اندر فضا بدل گئی ہے اور اب سید علی گیلانی کی بات سننے کیلئے بہت کم لوگ آتے ہیں۔ وہی سید علی گیلانی جنکا سری نگر کے چھوٹے سے شہر میں خطاب ہوتا تھا تو لاکھوں لوگ امڈ آتے تھے۔

بہر حال اس دکھ بھرے منظر نامے میں مزاحیہ ایکٹ اس وقت شامل ہوجاتا ہے جب بعض حلقے پاکستانی حکومت پر یہ کہہ کر حملہ کرتے ہین کہ اس نے فلاں ملاقات میں مسئلہ کشمیر کیوں نہیں اٹھایا۔ یاد ہوگا مشرف نے آگرہ جا کر کس طرح واجپائی کے گھٹنے چھوئے تھے۔ سنا ہے کہ وہ تو سجدہ کرنے پر اڑ گئے تھے لیکن واجپائی نے منع کر دیا یہ کہہ کر کہ سجدہ صرف بتوں کو جائز ہے، میں تو زندہ ہوں، بت نہیں ہوں۔

صورتحال سچ مچ سے بھی آگے بڑھ کر تشویشناک ہے لیکن ماضی میں معجزے ہوتے رہے ہیں تو آگے بھی کیوں نہیں ہو سکتے، معجزوں کا انتظار کیجئے۔ خدا کے فضل سے ایک بات انشاء اللہ یقینی ہے کہ بھارت نے حملہ کیا تو قوم کی اندرونی ناراضگیاں دور ہو جائیں گی اور وہ متحد ہو جائے گی۔ ہوسکتا ہے مودی کو کچھ اور ہی دیکھنے کو ملے اور پاکستان زیادہ مضبوط ہو جائے لیکن (آمین) کہنے کی بات یہ ہے کہ ہماری حکومت کو اتنا مست قلندر نہیں ہونا چاہئے کہ جتنی وہ ہو چکی ہے۔

بھارت کا ذکر آیا ہے تو اسکی تازہ مردم شماری پر بھی بات ہوجائے اس مردم شماری کے نتائج کے مطابق بھارت کی آبادی ایک ارب 20 کروڑ ہوگئی ہے اور تاریخ میں پہلی بار ہندو آبادی کی شرح 80 فیصد سے کم ہوگئی ہے۔ پچھلے اور اس مردم شماری کے درمیان عرصے میں فیصد کم ہوئی ہے۔ گویا مسلمان بقدر ڈیڑھ فیصد کے ہندوؤں سے بڑھ گئے۔

بھارت میں مسلمانوں کی آبادی مسلسل بڑھی ہے۔ 51وار میں پہلی مردم شماری کے وقت مسلمان 9.92 فیصد تھے ، 1961ء میں 10.69 فیصد ہو گئے 1971ء میں مزید بڑھ کر 11.21 فیصد ہوگئے اور 1981ء میں یہ ساڑھے تیرہ فیصد اور اب 14.23 فیصد ہوگئی۔ اس وقت بھارت میں 97 کروڑ ہندو، 18 کروڑ مسلمان ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مردم شماری کے نتائج میں کچھ کمی کر دی جاتی ہے ورنہ مسلمان 20 کروڑ سے بھی زیادہ ہیں۔ مجموعی طور پر ہندو آبادی 17 فیصد اور مسلمان 25 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے ۔ آبادی بڑھنے میں ایک وجہ غیر مسلموں کا قبول اسلام بھی ہے۔

مسلمانوں کا زیادہ تر ارتکاز شمال کی پٹی میں ہے۔ جنوبی ریاستوں کے مسلمان مقابلتا مسلم کش فسادات سے زیادہ محفوظ ہیں۔ وسطی ریاستیں خاص طور پر گجرات اور مہاراشٹر مسلمانوں کیلئے زیادہ خطرناک ہیں۔

مسلمانوں کی گنتی ڈیڑھ گنا بڑ گئی جبکہ آبادی اڑھائی گنا ہو گئی لیکن وہ پہلے سے زیادہ کمزور ہیں۔ پہلے آبادی مخلوط تھی یعنی ایک محلے میں آٹھ گھر ہندوؤں کے تو تین مسلمانوں کے مگر اب ہندو آبادیوں مین مسلمانوں کو رہنے نہیں دیا جاتا۔ انکی سرکاری ملازمتیں بھی کم ہوگئی ہیں اور وہ بازاروں میں نکلتے ہیں تو عام لباس پہن کر تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو سکے کہ دیکھو وہ مسلمان جا رہا ہے۔

عبداللہ طارق سہیل

بشکریہ روزنامہ خبریں 

No comments:

Powered by Blogger.