Header Ads

Breaking News
recent

کچھ ذکر حمید گل مرحوم کا

یہ غازی یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوق خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی

ہفتے کی رات ساڑھے گیارہ بجے سی ایم ایچ پسپتال مری میں قوم کے عظیم سپوت جنرل ریٹائرڈ حمید گل قضائے الہی سے انتقال کرگئے ۔

ہر ذی روح اللہ کی امانت ہے اور اس نے پلٹ کر اللہ کے ہی دربار میں جانا ہے۔ جب اللہ پاک انبیاء علیہ السلام، صحابہ کرام، اولیا اللہ، محدثین، مجددین، مجاہدین کی روحوں کو قبض کر سکتے ہیں تو اللہ نے جنرل صاحب کو بھی اپنے دربار میں واپس بلانا ہی تھا۔ جنرل حمید گل اب زندہ سے مرحوم ہوگئے اور اب اُن کے نام کے ساتھ مرحوم کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔ یہی انسان ہے، یہی اس کی زندگی ہے اور یہی اس کی زندگی کی حقیقت بھی ہے۔
 
جنرل صاحب سابق ڈی جی آئی ایس آئی بھی رہے ہیں۔ آپ نے آئی ایس آئی کی قیادت 1987 سے 1989 کے مشکل دور میں کی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب سوویت یونین سے جنگ اپنے آخری مراحل میں تھی۔ جنرل صاحب کی بہترین حکمت عملی نے اس جنگ کو پاکستان کے علاقوں میں منتقل ہونے سے روکا تھا۔ بہت سے روسی اور امریکی دانشور جنرل صاحب کو سویت یونین کے ٹکڑے کرنے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیتے ہیں۔

جنرل حمید گل قیامِ پاکستان سے قبل 20 نومبر 1939ء میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق یوسف زئی قبیلے سے تھا۔ آپ کا خاندان سوات کا رہنے والا تھا۔ جس نے سوات سے سرگودھا ہجرت کی تھی۔ ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہی حاصل کی، جس کے بعد آپ گورنمنٹ کالج لاہور چلے گئے۔ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرنے کے بعد حمید گل نے فوجی اکیڈمی، پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول رپورٹ کیا۔ 1956ء میں آپ کو پاکستان آرمی میں کمیشن ملا اور آپ نے اپنے ملٹری کیرئیر کا آغاز کیا۔ 1965ء کی جنگ میں آپ اسکوارڈن کمانڈر رہے تھے۔ 1968ء میں آپ کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کوئٹہ چلے گئے۔ 1972ء سے 1976ء کے دور میں آپ نے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ بٹالین کمانڈر کی حیثیت سے بھی فرائض سر انجام دیے۔
 جنرل ضیاء الحق کے ساتھ تعلقا ت کی وجہ سے ہی بے نظیر بھٹو نے ڈی جی آئی ایس آئی کی پوزیشن سے ہٹایا تھا۔ جنرل صاحب نے دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے محاذ آرائی سے گریز کیا اور جمہوریت کی خاطر اپنی پوسٹ بھی جانے دی تھی۔ اس کے بعد جنرل حمید گل نے 1989ء میں ضربِ مومن کے نام سے بڑی جنگی مشقیں کی تھیں اور بھارت کے جنگی عزائم کو اسی وقت ٹھنڈا کر دیا تھا۔ 1991ء میں جنرل آصف نواز کے دور میں جنرل حمید گل نے آرمی سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔

جنرل صاحب کی وجہ شہرت جہاد سے دلچسپی تھی۔ پاکستان کی بیشتر خرابیوں کا ذمہ دار آپ لبرل اور لیفٹ کے طبقے کو سمجھتے تھے، اور بہت سے انٹرویوز میں اس بات کا اظہار بھی کر چکے تھے۔
جذبہ جہاد سے سرشار اس مرد مجاہد نے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنے دماغ کو ریٹائر نہیں ہونے دیا تھا۔ 78 سال کی عمر میں بھی مکمل رعب کے ساتھ اپنی مخصوص گرجدار آواز میں بھارت کو للکارا کرتے تھے۔ بھارت میں جنرل صاحب کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اُن کا خوف تھا اور امریکہ کیلئے وہ درد سر بنے رہے تھے۔

جنرل صاحب نے امریکیوں کے ساتھ بھی کام کیا تھا اور آپ ان کی رگ رگ سے واقف تھے۔ آپ کا شمار ان لوگوں میں سے ہوتا ہے جنہوں نے نائن الیون کے بعد اولین دور میں نا صرف نائن الیون کے سانحے پر سوالیہ نشان اٹھائے تھے بلکہ یہ بھی کہا تھا کہ اصل میں یہ سب کچھ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔ آپ کا یہ فقرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ

’’نائن الیون بہانہ ہے، افغانستان ٹھکانہ ہے، پاکستان نشانہ ہے ۔‘‘

آپ کی پاکستان سے محبت کسی بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کوئی بھی باشعور فرد، خواہ اس کا تعلق بائیں ہاتھ کے طبقے سے ہی کیوں نہ ہو، آپ کی حب الوطنی پر انگلی نہیں اٹھا سکتا ہے۔ جنرل صاحب امریکہ کے بڑے نقادوں میں سے ایک تھے اور آپ نے ہمیشہ کھل کر امریکہ پر تنقید کی ہے۔ جنرل صاحب نے کھل کر جہاد کشمیر کی حمایت کی ہے۔ آپ نے وکلاء تحریک میں عدلیہ کا ساتھ بھی دیا ہے۔ آپ نے اسامہ بن لادن کو تب ہیرو کہا تھا جب پاکستان میں بن لادن کا نام لیتے ہوئے بھی لوگ گھبراتے تھے۔

 جنرل صاحب کی دلیری کی وجہ سے ہی بھارت نے آپ کو اپنی موسٹ وانٹڈ لسٹ میں رکھا تھا۔ امریکہ نے جہاد سے لگاؤ کی وجہ سے ہی جنرل صاحب کا نام بین الاقوامی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈالا تھا اور پھر یہ نام اقوام متحدہ میں بھی دیے تھے جن کو چین نے ویٹو کردیا تھا۔

جنرل صاحب امریکہ کو پاکستان کا دشمن کہتے تھے اور مجھے اب یہ بھی کہنے دیں کہ جن بنیادوں پر جنرل صاحب نے امریکہ کو دشمن ڈکلیئر کیا تھا وہ سب درست تھی۔ جولائی 2010ء میں وکی لیکس نے کچھ ڈاکومنٹس شائع کئے تھے، یہ 92 ہزار ڈاکومنٹس افغان جہاد 2004 سے 2009ء متعلق تھے۔ ان دستاویزات میں جنرل صاحب کو افغان طالبان کا ساتھ دینے پر مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا۔
میری جنرل صاحب سے زندگی میں دو ایک ملاقاتیں ہیں۔ میں نے ہمیشہ ان کو شفیق اور محبت کرنے والا پایا ہے۔ جنرل صاحب سے مختلف موضوعات پر گائیڈ لائن بھی لیا کرتے تھے۔ 

میرے لئے وہ استادوں کی طرح ہی تھے۔ جنرل صاحب کے بیٹے عبداللہ گل سے بھی میری دوستی ہے۔ یہ بھی اپنے باپ کی طرح سے امت کا درد دل میں رکھتے ہیں اور جب بھی بات کرتے ہیں تو بہت ہی محبت سے بات کرتے ہیں۔ جنرل صاحب بلاشبہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی شخصیت تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اسنائپر کی گولی ایک کلومیٹر کے فاصلے سے بھی نشانہ خطا نہیں کرتی ہے۔ 4 انچ کی گولی اگر انسان کی جان لے سکتی ہے تو میں موت سے کیوں ڈروں۔ اگر میرے نصیب میں شہادت ہوئی تو میں شہید ہوجاؤں گا، ورنہ موت تو آنی ہے۔ جنرل صاحب صحیح معنوں میں پاکستانی اور مجاہد تھے، جنہوں نے آخری وقت تک پاکستان کا ہر محاذ پر دفاع کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ اُن کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں۔ اُن کی کوتاہیوں کو معاف کرتے ہوئے اُن کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا کریں۔ جنرل صاحب، آپ سے انشااللہ اب رب کی جنتوں میں ملاقات ہوگی، بلاشبہ آپ نے اپنا فرض احسن طریقے سے پورا کیا ہے۔ تب تک کیلئے اللہ حافظ ، پاکستان زندہ باد۔

سالار سلیمان

No comments:

Powered by Blogger.