Header Ads

Breaking News
recent

رکشہ چلانے والے نے نوٹوں سے بھرا بیگ لوٹا دیا

بھارت کےگلابی شہر جے پور کے رکشہ چلانے والے عابد قریشی نے سڑک پر لاوارث ملنے والے ایک لاکھ 17 ہزار روپے پولیس کے حوالے کر دیے۔
ہر رکشہ ڈرائیور کی طرح عابد کی زندگی بھی پاؤں کے دم پر چلتی ہے، لیکن اب ان کی ایمانداری کی تعریف چہار جانب ہو رہی ہے۔

جے پور پولیس نے رکشہ ڈرائیور عابد کی تعریف کی ہے۔
رکشہ چلا کر زندگی کی گاڑی کھینچنے والے عابد کو بدھ کی شام جے پور کے چوڑا راستہ بازار میں روپے سے بھرا ایک بیگ ملا تو وہ چونک گئے۔
وہ کہتے ہیں: ’میں نے ٹھوکرمار کر دیکھا بیگ میں روپے بھرے تھے۔ میں بیگ لے کر گھر پہنچا اور بیوی امینہ سے صلاح مشورہ کیا۔ ہم دونوں نے طے کیا کہ ان روپیوں پر ہمارا کوئی حق نہیں ہے۔ لہذا ہم نے یہ روپے پولیس کو سونپ دیئے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’امینہ نے بہت زور دیا اور کہا کسی غیر کی دولت لینا گناہ ہے۔
28 سالہ عابد کرایہ کا رکشہ چلاتے ہیں کیونکہ ایک رکشے کی قیمت 15 ہزار روپے سے زیادہ ہے، تو اپنا رکشہ خرید نہیں سکتے۔
کھانا، خوراک اور مکان کا کرایہ ادا کرنے کے بعد ان کے پاس اتنے پیسے بچتے ہی نہیں کہ اس بارے میں سوچ سکیں۔

مگر اتنی بڑی رقم ہاتھ میں آنے کے بعد نہ عابد بھٹکے اور نہ ان کی بیوی امینہ۔
وہ کہتے ہیں کہ ’امینہ نے بہت زور دیا اور کہا کسی غیر کی دولت لینا گناہ ہے۔
لہذا دونوں نے پولیس کمیشنر جنگا سرینواس راؤ کے پاس پہنچے اور روپیوں کا بیگ انھیں سونپ دیا۔ پولیس ابھی یہ پتہ نہیں لگا سکی ہے کہ یہ روپے کس کے ہیں۔

عابد کہتے ہیں کہ ’روپے سپرد کرنے کے بعد انھیں بہت سکون ملا۔
کیا ایک رکشہ ڈرائیور کے لیے ایک لاکھ روپے جمع کرنا آسان ہوتا ہے؟
اس سوال کے جواب میں عابد کہتے ہیں: ’رکشہ چلا کر کوئی، کئی سال میں بھی ایک لاکھ روپے جمع نہیں کر سکتا۔

ان کی تین ماہ کی ایک بیٹی ہے جس کا نام انم ہے۔
عابد کہتے ہیں اگر انھیں ایک لاکھ روپے مل جائیں تو سب سے پہلے بیٹی کے نام پر ایف ڈي کروائیں گے، پھر نیا رکشہ خریدیں ‏گے۔

نارائن باریٹھ
جے پور، بھارت

No comments:

Powered by Blogger.