Header Ads

Breaking News
recent

فیصلہ کیا یا نہیں کیا؟...وسعت اللہ خان

کرنل شجاع خانزادہ دوسرے وزیر ہیں جو دہشت گردوں کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے۔اس سے قبل خیبر پختون خواہ کے سینئیر وزیر بشیر احمد بلور بھی دہشت گردی کا نشانہ بنے، سابق صوبائی وزیرِ اطلاعات افتخار حسین شاہ کے صاحبزادے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔غرض بے نظیر بھٹو سے لے کر فوج، نیم فوجی اداروں اور پولیس کے کئی اعلیٰ افسروں، سپاہیوں، ارکانِ صوبائی اسمبلی تک اس راہ میں چلے گئے۔عام عوام کی لاشوں کا تو ذکر ہی کیا۔

جنھوں نے یہ پودا لگایا ، اسے پانی دیا اور پروان چڑھا کر درخت بنایا انھوں نے جانے کیا سوچا تھا۔ لیکن آج کی فوجی ، سیاسی اور عام انسانوں کی نسل کو ہاتھوں سے لگائی یہ گانٹھ دانتوں سے کھولنی پڑ رہی ہے۔

نظریہ ضرورت کے تحت پھانسیاں ضرور دے لیجیے۔ اس کام میں مزید تیزی لانے کے لیے فوجی عدالتیں بھی ارمان نکال لیں۔ بیس ، پینتیس ، ستاون کی گنتی میں روزانہ بمباری سے بھی مارتے رہئے۔ پولیس مقابلے بھی بڑھاتے رہئے۔ خود پے بس نہ چلے تو آس پاس اور دور دراز کی طاقتوں پر بھی انگشت نمائی کرتے رہئے۔یہ بھی ثابت کرتے رہئے کہ اصل مظلوم تو ہم ہیں مگر دنیا کو آخر اپنی ہی کیوں پڑی ہے ہماری مظلومیت کیوں نظر نہیں آتی۔مگر ساتھ ساتھ یہ بھی غور فرماتے رہیں کہ آیا یہ سب جو آپ کر رہے ہیں یا کرنے جارہے ہیں کسی طویل المیعاد حکمتِ عملی کی روشنی میں قومی سلامتی کے واضح ، ٹھوس اہداف تک پہنچنے کا سفر ہے یا پھر باسی کڑھی میں ایک اور ابال۔
بالکل سولہ دسمبر اکہتر کی طرح سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کے بعد بھی مسلسل کہا جارہا ہے کہ سانحہ پشاور نے ہم سب کی آنکھیں بلاامتیاز کھول دیں۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ اگر آنکھیں پہلے سے کھلی ہوتیں تو دونوں سولہ دسمبروں کی نوبت کیوں آتی، عرض میں یہ کرنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ کو واقعی ادراک ہے کہ آپ اب تک کیا کرتے آئے ہیں، کیا کر رہے ہیں اور کیا کرنے جا رہے ہیں؟ بندہ ایسے بچگانہ سوالات یوں پوچھ رہا ہے کہ کہیں آپ کل کلاں دوبارہ نہ کہہ بیٹھیں اوہو پھر مسٹیک ہوگئی۔ جانا کہیں اور تھا قدم کہیں اور کے لیے اٹھ گئے۔ چلو دوبارہ شروع کرتے ہیں۔

پاکستان اور کسی معاملے میں خوش قسمت ہو نہ ہو ایک معاملے میں قدرت نے ہمیشہ اس کے بارے میں فیاضانہ فیاضی سے کام لیا ہے۔ باقی قوموں کو تو سنبھلنے کے لیے اوسطاً ایک یا زیادہ سے زیادہ دو مواقع ملتے رہے اور پھر قدرت نے کہہ دیا خصماں نوں کھاؤ۔ مگر پاکستان کو پچھلے اڑسٹھ برس میں تیسرا موقع ملا ہے خود کو سنبھالنے کا۔
پہلا موقع انیس سو سینتالیس میں ملا۔مگر باپ کے مرتے ہی ہم اس اولاد میں تبدیل ہوتے چلے گئے جو ترکے میں ملی جائیداد اور رقبہ ٹکڑے ٹکڑے بیچ کے اپنی شان و شوکت کے تقاضے پورے کرتی ہے۔بھلے کے ٹو کا پیکٹ خریدنے کے بھی قابل نہ ہو مگر ہائے رے وضع داری کہ بگلا سگریٹ بھی گولڈ لیف کے پیکٹ میں رکھ کے پیتی ہے اور پھر ترکے کے ایک ایک دروازے اور کھڑکی کے بٹوارے پر آپس ہی میں سر پھٹول، تھانہ کچہری کی نوبت آجاتی ہے اور پھر جائیداد کسٹوڈین کے حوالے ہوجاتی ہے اور وارث جوتیاں چٹخاتے رہ جاتے ہیں اور اس پر دھیان دینے کے بجائے کہ بنیادی غلطی کب کیا کہاں ہوئی انھیں لکڑ ہارے اور اس کے جھگڑالو بیٹوں کی کہانی تک بھی سمجھ میں نہیں آتی کہ اتفاق میں برکت ہے کا آسان اردو میں مطلب کیا ہے۔

سدھرنے کا دوسرا موقع مشرقی پاکستان گنوانے کے بعد عطا ہوا۔ مگر اس موقع کو قومی تعمیر سازی کے لیے استعمال کرنے کے بجائے اس ملک کے کار سازوں ، چارہ سازوں نے آس پاس جواریوں کی صحبت اختیار کر لی۔ پرائے پھڈوں میں تو کون میں خامخواہ بننے میں مزہ آنے لگا۔
’’ اپنی خرچی آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے‘‘ کا اصول بھول بھال کر دوسروں کی دی خرچی پر شاہ خرچیاں ہونے لگیں اور پدرم سلطان بود کی تسبیح بھی گھومتی رہی۔جو وزن متحدہ پاکستان بھی گلے میں ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھا وہ وزن باقی ماندہ پاکستان کی اشرافیہ نے اپنے گلے میں خود ہی ہنسی خوشی ڈال لیا۔کہاں یہ حالت کہ گھر میں نہیں دانے اماں چلی بھنانے اور کہاں ایسی میزبانی کہ تو بھی آجا ، ارے تو بھی آجا ، اے عربو ، اے افغانیو ، اے ازبکو ، اے چینیو ، اے تھائیو سب آجاؤ ، ارے پوچھنے کی کیا ضرورت ہے تمہارا اپنا گھر ہے جب چاہے دن رات چوبیس گھنٹے بارہ مہینے آؤ ، رہو اور رہتے رہو اور جب کوئی سوال اٹھاتا کہ بھائی پسلی پہلوان یہ تم کر کیا رہے ہو تو جواب ملتا اوئے تینوں نئیں پتہ ، تینوں کی پتہ، اپنی ٹہور بنانے کے لیے ڈیرے داری کرنی پڑتی ہے ، وضع داری نبھانی پڑتی ہے۔ لے یہ انگوٹھی بھی بیچ دے اور بن بلائے اور نیم بلائے مہمانوں کی روٹی بستر کا انتظام کر۔ پورا نہ پڑے تو چوہدری امداد صاحب سے میرے نام پر تھوڑا ادھار اور لے آنا۔

اور پھر اس فی سبیل اللہ یتیم خانے میں وہ ادھم مچا کہ میزبان بھی اپنی ٹانگ پکڑ ے ہائے میرے اللہ اے میں کی کر بیٹھا جاپنے پر آ گئے اور تیسرا موقع اس قوم کو سولہ دسمبر دو ہزار چودہ کو نصیب ہوا خود کو سدھارنے اور یہ فیصلہ کرنے کا کہ ہم اس ملک کو بالاخر کہاںلے جانا چاہتے ہیں یا پھر ہم سب یونہی چشمہِ امید ڈھونڈتے ڈھونڈتے کہیں بھی گڑ پڑیں گے۔

آپ کا قومی غصہ بجا لیکن آپ کب یہ بات سمجھیں گے کہ کسی درخت کے پتے جھاڑنے سے اس کا وزن ہلکا نہیں ہوتا جب تک جڑ پر ہاتھ نہ پڑے۔سابق اسرائیلی وزیرِ اعظم جنرل ( ریٹائرڈ ) اہود براک کے بقول آپ دہشت گردی کو دو نکاتی بنیادی حکمتِ عملی کے بغیر شکست نہیں دے سکتے۔ اول یہ کہ دہشت گرد کا جو بھی نظریہ ہے اس کا موثر نظریاتی توڑ اور متبادل کشش آپ کے پاس کیا ہے، دوم یہ کہ کیا آپ کے سوچنے کی رفتار دہشت گرد کی سوچ سے کم ازکم ڈیڑھ گنا تیز ہے یا نہیں؟ اگر آپ کے پاس یہ دونوں نہیں تو پھر کمبل اوڑھ لیں۔ ماؤزے تنگ کے بقول تم ذہن مسلح کردو اسلحہ وہ خود ڈھونڈ لے گا۔دہشت گرد تو یہ کر ہی رہے ہیں کیا آپ بھی ماؤ کے فلسفے کو گھاس ڈالنے پر تیار ہیں؟

آپ کاؤنٹر نیریٹو ( جوابی نظریہ ) کی رٹ لگا رہے ہیں لیکن کیا آپ سب کاموں سے بھی پہلے اپنے تعلیمی نصاب کو غیر انتہا پسند بنانے پر آمادہ ہیں؟ اور یہ کہ آپ کو بالاخر کیا تعمیر کرنا ہے؟ گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کے محمد علی جناح کا پاکستان یا بعد از جناح کا قراردادِ مقاصد والا پاکستان؟ کوئی ایک راہ چن لیں اور پھر سب قانونی، تعلیمی، نظریاتی، عملی نظام کو اسی راہ پر لے جائیں تو شائد کچھ شفا ہوجائے۔

آج کا نڈھال ، کنفیوز ، ڈرا ، سہما پاکستان دراصل گیارہ اگست کی تقریر اور قرار دادِ مقاصد کی جبری شادی سے پیدا ہونے والا بچہ ہے۔یہ شادی یونہی رہی تو یہ طفلِ مظلوم کہیں کا نہ رہے گا۔لہٰذااس بچے کو یا تو پوری طرح گیارہ اگست کی تقریر کی کسٹڈی میں دے دیا جائے یا پھر قرار دادِ مقاصد کی مکمل تحویل میں۔
مجھے یہ تو نہیں معلوم کہ فیصلہ کن فیصلے پر کتنا جلد پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔بیک وقت ہر مسئلے پر ہاتھ مار کے کچا پکا کام کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ ایک وقت میں ایک بنیادی کام مکمل کیا جائے۔دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے سفر میں ایک موثر قانونی و سماجی انصاف کے چوراہے سے ہر صورت گذرنا پڑتا ہے۔اس سفر میں کوئی شارٹ کٹ اور پسندیدہ پگڈنڈی کام نہیں آتی۔تاخیر صرف مزید تاخیر ہی پیدا کرسکتی ہے۔

( کل ضیا الحق صاحب کی ستائیسویں برسی تھی اللہ تعالی انھیں اجرِعظیم عطا فرمائے اور آج پرویز مشرف صاحب کی صدارت کی آٹھویں برسی ہے۔اللہ انھیں بھی قیمتی قومی خدمات کا اجرِ کامل عطا فرمائے )۔

وسعت اللہ خان
بشکریہ روزنامہ ایکسپریس

No comments:

Powered by Blogger.