Header Ads

Breaking News
recent

مودی اور مزید حماقتیں

وزیراعظم مودی کی پیدائش پر ان کے ماں باپ بہت پچھتائے ہوں گے کہ بیچارے انجانے میں کیا کر بیٹھے ہیں کیونکہ ہرگندی اولاد کی طرح یہ صاحب بھی اپنے والدین کی پکڑ کا باعث بنیں گے۔ اگر آپ اس اجمال کی تفصیل جاننا چاہیں تو صرف اتنا ہی معلوم کر لیں کہ موصوف کو گجرات کا قصاب یعنی کیوں کہا جاتا ہے۔

خیر، بد نصیب والدین تو جو بھگتیں گے سو بھگتیں گے، بیچارے نا سمجھ بھارتی عوام اگلے 2 سال تک یاد بھی رکھیں گے اور ہاتھ لگا لگا کر دیکھتے بھی رہیں گے کہ کس نااہل شخص کو اتنے بڑے ملک کا وزیراعظم بنا بیٹھے تھے۔ ہندو گجرات کی مسلمان دشمنی تو خیراب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور اس میں بہت بڑا ہاتھ سومنات کے مشہور مندر کی پائیمالی کا بھی ہے کہ اس پر 17حملے گجرات ہی میں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سرزمین نے سردار ولاب بھائی پٹیل جیسے مسلمان دشمنوں کو جنم دیا۔ مگر خدا لگی بات تو یہ ہے کہ ہم سردار صاحب کی تمام تر مسلمان دشمنی کے باوجود ان کی ایک باوقار مخالف یا دشمن کے طور پر عزت کرتے ہیں اور پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کی شان میں ’’غیر ضروری‘‘ گستاخی کم از کم ہم سے سرزد نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پٹیل ایک پڑھے لکھے اور زیرک کانگریسی تھے اور اپنی مخالفانہ گفتگو میں بھی آپ کو وہ روایتی پھکڑپن یا لچر انداز نظر نہیں آتا جو کہ اپنے مودی صاحب کی پہچان بنتا جا رہا ہے۔

مودی کو ہم پچھلے 10 بارہ سال سے میڈیا میں بغور دیکھ رہے ہیں۔ نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹرمنموہن سنگھ جیسے مدبر کے بعد کیسا عجیب الخلقت شخص ہمارے ہمسایہ ملک کا پردھان منتری بن بیٹھا ہے۔ یہ صاحب جب بھی منہ کھولتے ہیں، ان کی باتوں سے بدبو آتی ہے۔ دنیا کی ریت یہی ہے کہ لوگ ترقی کر کے اپنے آپ کو بہتر اور بڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر مودی نے قسم کھا رکھی ہے کہ وہ اپنے اندر کے ایک جاہل ویٹراور ٹی بوائے کو کبھی سمجھدار نہیں ہونے دینگے۔ آر ایس ایس کی انسانیت سوز تعلیمات میں لتھڑے اور بھارتی گجرات کی مسلمان کش فضا میں پلے بڑھے مودی کو ما سوائے پاکستان کے اور کچھ سُجھائی ہی نہیں دے رہا۔ آپ انٹر نیٹ پر موجود ان کے درجنوں وڈیو کلپ دیکھ سکتے ہیں کہ موصوف کس مذہبی جوش و خروش کے ساتھ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کا اعیادہ کرتے نظر آتے ہیں۔
قدم قدم پر بہادری کا دعویٰ کرنیوالے نریندر سنگھ مودی کی اپنی حالت یہ ہے کہ جس دن سے عوامی جمہوریہ چین اور پاکستان نے اقتصادی راہداری کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں، انھوں نے ایک ہاتھ میں اپنا دل اور دوسرے میں لوٹا تھام رکھا ہے۔ ان کے ذاتی اسٹاف کے مطابق آپ اپنا زیادہ تر وقت ٹائلٹ میں ہی گزارتے ہیں۔ لگتا ہے صبح صبح غورو فکر کا سلسلہ بھی آپ ٹائلٹ ہی میں شروع کرتے ہیں اور اس ماحول کا اثر آپ کی باتوں سے خوب جھلکتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ 75 ارب ڈالر کا معاہدہ کر کے مود ی صاحب یوں اتراتے ہیں گویا دنیا ہی فتح کر لی ہو۔ ہمارے اپنے حساب کتاب سے تاحال یہ آپ کی سب سے بڑی سفارتی غلطی ہے۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ یمن، شام اور عراق میں اس وقت کیا کیا کچھ ہو رہا ہے۔ پاکستان اگر آپ جیسی ناعاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتا تو یقین کیجیے یہ شیوخ ہم پر بھی ایسے معاہدوںکی بھرمار کر دیتے۔ مگر حیرت انگیز طور پر ہمارے والے دوستوں نے شاید پہلی مرتبہ بھاڑے کے ٹٹو بننے سے انکار کیا ہے۔ انکا یہ انکار ہمارے قومی وقار میں بے پناہ اضافہ کا باعث بنا ہے۔

بہر حال، کاش کسی سیانے نے مودی کو اتنا ضرور بتایا ہوتا کہ مشرقِ وسطی کی وہ تمام ہتھ چھٹ قوتیں جنھوں نے شیوخ و ملوک کو تگنی کا ناچ نچا رکھا ہے، اب بھارت کو بھی دشمن کی نظر سے دیکھنے لگیں گے۔ اس کے بعد اب مزید لکھنے کی گنجائش نہیں مودی صاحب، اس تھوڑے کہے کو کافی سمجھیں اور اگر آپ کو عرب شہزادوں کے واری صدقے جانے اور ان کے ملازمین کے ساتھ سیلفیاں اتروانے سے فرصت ملے تو براہ کرم ان چھوٹی چھوٹی گزارشات پر غور ضرور کر لیں۔

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ بھارت میں اس وقت تقریباً 60 کروڑ شہری ٹائلٹ کی سہولت سے محروم ہیں۔ مودی صاحب کو چاہیے کہ امارات سے آنے والی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ عوامی بیت الخلا بنوانے پر صرف کریں تاکہ بیچارے 60 کروڑ غریب شہریوں کی حاجت رفع ہو سکے۔ جنگی تیاریاں بعد میں ہوتی رہیں گی، ہیں جی؟

مودی صاحب کو یہ بھی معلوم ہے اور اگر نہیں تو ہونا چاہیے کہ 29 کروڑ بھارتی زیور تعلیم سے محروم ہیں اور یہ تعداد دنیا میں پائی جانے والی قومی ناخواندگی میں سب سے بڑی ہے۔ عرب شہزادوں سے ملنے والی انوسٹمنٹ کا تھوڑا حصہ تعلیم اور صحت پر بھی ضرور خرچ کیجیے گا آپ کی بہت مہربانی۔ اس کے علاوہ ایک گزارش یہ بھی ہے کہ پچھلے 15برس میںملٹی نیشنل کمپنیوں کی بدمعاشی سے تنگ جن اڑھائی کروڑ کسانوں نے خود کشی کی ہے، تھوڑی بہت داد رسی ان کے بدنصیب خاندانوں کی بھی کر لیں، آپ کو دعائیں دینگے کہ آپ کو پھکی اور چورن وغیرہ کے بعد سب سے زیادہ ضرورت دعائوں کی ہے۔

مودی صاحب کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ گوگل نے جولائی 2015ء میں ایک سروے کروایا تھا جس کی رو سے موصوف کو دنیا کا بیوقوف ترین وزیراعظم قرار دیا گیا۔ اور آخر میں مشہور امریکی روزنامے نیویارک ٹائمز کی ایک حالیہ بات جو گوگل سروے کو صحیح ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔
”India has the most to lose if another war erupts with Pakistan”
یعنی ’’اگر ایک اور پاک بھارت جنگ چھڑ گئی تو بھارت کا نقصان کئی گنا زیادہ ہو گا‘‘۔

خالصتان سمیت 14 ریاستوں میں جو علیحدگی پسند معاملات چل رہے ہیں ان پر روشنی ہم اپنے ٹی وی شو میں ڈالیں گے چنانچہ ’’خبردار‘‘!!!!!!

آفتاب اقبال
بشکریہ روزنامہ "ایکسپریس"

No comments:

Powered by Blogger.