Header Ads

Breaking News
recent

آئی ایم ایف کے ہاتھوں قومی اثاثوں کی چائنہ گٹنگ

بیسویں صدی میں ستر کی دہائی میں دو قطبی دنیا سیاسی و اقتصادی لحاظ سے دو بڑے بلاکوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ان میں سے ایک سرمایہ دارانہ نظام(کیپٹلزم)کا بلاک تھا اور دوسرا اشتراکی نظام (کمیونزم) کا بلاک تھا، لیکن ستر کی یہ دہائی اقتصادی ترقی کے لحاظ سے بڑی اہمیت کی حامل سمجھ جاتی ہے کیونکہ دونوں نظام میں بڑھوتری اور ترقی کا عمل تیزی سے جاری تھا، اِسی دہائی کے آغاز میں ایشیا میں فولاد سازی کا سب سے بڑا منصوبہ شروع کیا گیا، یہ منصوبہ سوویت یونین کی مدد سے کراچی میں ’’پاکستان اسٹیل ملز‘‘ کے نام سے اکتالیس سال پہلے 30 دسمبر 1973ء کو شروع کیا گیا۔ ’’تعمیر ِ ملت و خدمت ملت‘‘کے خوشنما سلوگن سے رو بہ عمل پاکستان اسٹیل ملز انیس ہزار ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے ، یہ اسٹیل ملزپچاس لاکھ ٹن سالانہ لوہا ڈھالنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس ملز کو 16200جفاکش محنت کشوں کی افرادی قوت بھی میسر ہے اور یوں ہزاروں گھرانوں کے چولہے ہی اس مل کی بدولت نہیں چلتے بلکہ ہیوی مکینیکل کمپلیکس ٹیکسلا کی پیداوار اور فوجی اسلحہ سازی کا دارومدار بھی بڑی حد تک اسی مل میں ڈھلنے والے فولاد پر ہے۔
پرویز مشرف کے دور کے آغاز تک تو اس مل میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا، لیکن پھر شوکت عزیز کی صورت میں پاکستانی معیشت پر ایک قہر نازل ہوا۔ اقتصادی اصلاحات کے نام پر شوکت عزیز نے پاکستانی معیشت بالخصوص صنعتی شعبے کا حلیہ بگھاڑنے کے ساتھ ساتھ بھٹہ ہی بٹھا کر رکھ دیا۔ ملکی اقتصادی ڈھانچے کو سہارا دینے کے نام پر قومی اثاثوں کی نجکاری کا عمل تیز کردیا گیا اور فائدے میں چلنے والے قومی اداروں کی انتظامیہ اور پالیسیاں تبدیل کرکے اُن اداروں کے دامن میں خسارہ ہی خسارہ ڈال دیا گیا۔ یوں پہلی مرتبہ حکومتی سطح پر اداروں کو خسارے کا شکار ظاہر کرکے قیمتی اثاثوں کو اونے پونے داموں بیچنے کا عمل شروع ہوا،چھوٹے موٹے اداروں کی کوڑیوں کے بھاؤ فروخت کے بعد شوکت عزیز کی لالچی نظریںاو جی ڈی سی ایل، پی آئی اے، پاکستان ریلویز اور پاکستان اسٹیل ملز جیسے اہم اور بڑے اثاثوں پر لگ گئیں، پاکستان اسٹیل ملز کو بیچنے کیلئے شوکت عزیز نے کسی طرح پرویز مشرف کو بھی شیشے میں اتار لیا اور سوچے سمجھے بغیر پاکستان کے اس بڑے اثاثے کی نجکاری کا عمل شروع کر دیا گیا، مزدور اس نجکاری کے خلاف عدالت چلے گئے، جہاں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں عدالتی بنچ نے پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف فیصلہ دے کر اچھی خاصی ہلچل مچادی، شوکت عزیز نے پھر مشرف کے کان بھرے اور یوں آنے والے دنوں میں جس طرح افتخار محمد چوہدری کو عہدے سے ہٹایا گیا، عدلیہ بحالی کی تحریک چلی اور مشرف دور کا خاتمہ ہوا،یہ سب تاریخ ہے، لیکن لگتا ہے کہ یہ تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائے جانے کی تیاریاں ہورہی ہیں۔
لیکن 2008ء کے انتخابات کے بعد زرداری دور میں ایک خاص سازش کے تحت پاکستان اسٹیل ملز کی ’’سلو پوائزننگ‘‘ شروع کردی گئی، یوں سی بی اے ،پاکستان اسٹیل ملز انتظامیہ اور حکومتی وزراء کی کرپشن نے مل کر شعوری طور پر اس منافع بخش ادارے کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا۔ اب حال یہ ہے کہ جو ادارہ ملکی خزانہ میں اڑھائی سو ارب روپے سے زیادہ ٹیکس دیتا تھا اب 250 ارب روپے سے زیادہ کے خسارے میں ہے، جس اسٹیل ملز کی روزانہ کی پیداوار اکانوے ہزار ٹن تک لوہا ڈھالنے کی تھی، اس ملز میں گزشتہ اکتوبر کے پورے مہینے میں دو ہزار ٹن لوہا بھی بمشکل ڈھالا جاسکا۔اب پاکستان اسٹیل ملز میں کام کرنے والے محنت کشوں کو گزشتہ پانچ سال سے ہر پانچ ماہ بعد 2 مہینے کی تنخواہ بھیک کی طرح دی جا رہی ہے، گیس کی عدم دستیابی کی وجہ سے ادارے کی پروڈکشن نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی بنیادی وجہ ملز میں پلانٹ کی ناقص مرمت اور بحالی ہے، اندرونی انتباہ کے باوجود اس کے لیے درکار آپریٹنگ کا مقررہ طریقہ کار اور آپریشنل مینویل پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔ یہ وہ صورتحال ہے جس میں عالمی مالیاتی اداروں کے ’’احکامات‘‘ کی تکمیل کیلئے ایک مرتبہ پھر پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کیلئے نظریں گاڑ دی گئیں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیل ملز کو موجودہ مسائل اور بحران سے نکالنے کیلئے نجکاری کے سوا دوسرا کوئی آپشن موجود نہیں تو جواب ہے کہ نیت ٹھیک ہونی چاہیے، آپشن تو ایک نہیں کئی ایک ہیں۔ مثال کے طور پر پہلا آپشن تو پاکستان کے دیرینہ دوست چین نے پیش کیا ہے۔وفاقی وزیر صنعت و پیداوار غلام مرتضیٰ جتوئی کے نام لکھے گئے خط میں چین کی سرکاری کمپنی ’’سائنو اسٹیل‘‘ کے صدر وانگ چنیو نے پیش کش کی ہے کہ (اول) پاکستان اسٹیل ملز کے مسائل کے حل کیلئے سائنو اسٹیل اپنی ہر طرح کی خدمات پیش کرسکتی ہے، (دوم) سائنو اسٹیل پاکستان اسٹیل ملز کو اپنے کنٹرول میں لے کر اس کی پیداواری صلاحیت پانچ گنا تک بڑھاسکتی ہے، (سوم)سائنو اسٹیل پاکستان اسٹیل ملز میں دو ارب ڈالر تک سرمایہ کاری کرکے اِسے اپنے پاؤں پر کھڑاسکتی ہے (چہارم)اگر حکومت پاکستان چاہے تو اسٹیل ملز کو پاک چین اقتصادی راہداری کے سلسلے میں چھیالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا حصہ بھی بنایا جاسکتا ہے اور (پنجم) سائنو اسٹیل پاکستان اسٹیل ملزکے بجلی اور گیس سے متعلق مسائل حل کرنے کو بھی تیار ہیں۔

قارئین کرام!! چینی کمپنی سائنو اسٹیل کی کریڈیبلٹی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سائنو اسٹیل چالیس ممالک میں میٹالرجیکل، انفراسٹرکچر، کان کنی اور توانائی کے شعبوں میں اپنی خدمات پیش کررہی ہے اور اس کمپنی کا سالانہ’’ ٹرن اوور‘‘ ستائیس ارب ڈالر ہے، یوں بھی چین ہمارا ایسا دوست ملک ہے، جس کی دوستی وقت کی ہر آزمائش پر پوری اُتری ہے، ایسے میں پاکستان اسٹیل ملز جیسے بڑے اور قومی اثاثے کو کوڑیوں کے بھاؤ بیچنے کی بجائے سائنو اسٹیل کی پیشکش سے فائدہ اٹھانے میں کیا ہرج ہے؟ اس میں کچھ شبہ نہیں کہ پاکستان اسٹیل ملز جیسا بڑاا دارہ سرکاری تحویل میں جہاں مقامی سرمایہ داروں کی آنکھ میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے وہیں سامراجی قوتوں کو بھی بری طرح کھٹک رہا ہے، یہی وجہ ہے آئی ایم ایف کی جانب سے حالیہ مذاکرات میں بھی پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کا عمل تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ عالمی مالیاتی اداروں کی خواہش پر ہم نے اپنے بہت سے قیمتی اثاثے بیچ کر دیکھ لیا کہ ہماری معیشت کا کیا حال ہوا؟ اب اگر چین کی پیشکش پر اعتماد کرلیا جائے تو اس میں کیا مضائقہ ہے؟ پاکستان کے فولادی بھائی چین کی پیشکش کے پانچوں نکات پاکستان اور پاکستانی معیشت کے حق میں جاتے ہیں، اس لیے بہتر ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں کے ہاتھوں قومی اثاثوں کی چائنہ کٹنگ کی بجائے کیوں نہ قومی اثاثے چین کودے دیے جائیں!

نازیہ مصطفیٰ

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

No comments:

Powered by Blogger.