Header Ads

Breaking News
recent

میاں صاحب کا بکرا...وسعت اللہ خان

حالانکہ مشاہد اللہ خان نے ککھ بھی انکشاف نہیں کیا بلکہ انہی باتوں کو دہرا دیا جن کا بھانڈا سب سے پہلے تحریکِ انصاف کے صدر (سابق) جاوید ہاشمی نے عین دھرنے کے بیچ پھوڑا تھا اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کا نام سرِ عام لینے کی قیمت پارٹی عہدہ اور پارلیمانی نشست چھوڑ کے ضمنی انتخاب ہار جانے کی صورت میں ادا کی۔

پھر اسی مقدمے کو گذشتہ ماہ تحریکِ انصاف کی مرکزی مجلسِ عاملہ کے رکن بریگیڈیئر ریٹائرڈ سیسمن سائمن شیرف نے ایک قدم اور آگے بڑھایا اور جنرل پاشا کے جانشین جنرل ظہیر السلام کی مبینہ ٹیپ ریکارڈنگ کو بہتے قصے میں ڈال دیا۔ مگر جاوید ہاشمی کے برعکس بریگیڈیئر سیمسن آج بھی تحریکِ انصاف کا حصہ ہیں کیونکہ ان کا تعلق ہاشمی صاحب کے برعکس اشرافیہ کے سیمورائیوں سے ہے۔
 
مانا کہ حزبِ اختلاف کا تو کام ہی بے پر کی اڑانا ہے۔ مگر وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کو کیا ہوا کہ انھوں نے دھرنا ٹیسٹ میچ میں بطور تھرڈ امپائر ظہیر السلام کے متنازعہ کردار کی نام لے کے تصدیق کی اور پھر خادمِ اعلی شہباز شریف نے ایک قدم اور آگے آتے ہوئے مطالبہ کیا کہ دھرنے کے پس ِ پردہ کرداروں اور محرکات جاننے کے لئے پارلیمانی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

اس کے بعد وزیرِ اعظم کی کچن کیبنٹ کے تیسرے کردار اسحاق ڈار نے خواجہ آصف اور شہباز شریف کے بیانات و مطالبات مسترد کرنے کے بجائے نیم لاتعلقی اختیار کرتے ہوئے وضاحت فرمائی کہ ان بیانات کو ایسے نہ دیکھا جائے گویا مسلم لیگی حکومت کوئی نیا محاز کھولنا چاہتی ہے۔

جب تک بیاناتی میوزیکل چئیر گیم اشرافیہ تک محدود رہی تب تک نہ تو کسی کا استعفی مانگا گیا اور نہ ہی آئی ایس پی آر کا ٹویٹر جاگا ۔لیکن جیسے ہی مشاہد اللہ خان نامی نرے سیاسی ورکر نے پرانی باتوں کی جگالی کی تو گویا وہ بکرا ہاتھ آ گیا جسے دیوتا کے چرنوں میں قربان کرکے بلا ٹالی جاتی ہے۔ رام پوری مشاہد اللہ خان اس بلی کے لیے بالکل فٹ ہیں کیونکہ دورِ مشرف میں سناٹا زدہ نون لیگ کی محبت میں سر پھڑوانے سے لے کہ آج تک ان کی وہی روہیل کھنڈی حرکتیں ہیں۔

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں
میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں

جب تحریکِ انصاف کے عہدیدار ، تحریکِ انصاف کے منحرفین اور مسلم لیگ نون کے کرتا دھرتاؤں سے لے کر سرکردہ تجزیہ کار نجم سیٹھی تک سب ہی دھرنے کی ڈوریاں ہلانے والوں اور ان کے مقاصد کے بارے میں نام لے کے بات کر رہے ہوں اور یک زبان ہو کر تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہوں تو اسے محض ایک بے بنیاد لغو قیاس آرائی کہہ کے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ مگر ان دنوں حکومت اور آرمی چونکہ ایک صفحے پر ہیں اس لیے سال بھر پہلے جو کچھ بھی ہوا وہ دراصل ہوا ہی نہیں۔

شاید وقت نے ’قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘ کے ڈسے ہوئے تجربہ کار صنعت کار کو سمجھا دیا ہے کہ یہ بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق والا دور نہیں۔

آئینی ہاتھی کا آرٹیکل چھ بھی دکھانے کا ہے کھانے کا نہیں۔ یوں بھی اس عمر میں کوئی نیا کاروباری رسک مول لینے کے بجائے کولہے کی ہڈی بچانا زیادہ مفید ہے۔البتہ سیان پتی برتتے ہوئے چور سپاہی کھیلنے اور وقتاً فوقتاً اکھاڑے میں زور آزمائی کرنے والے پٹھوں کو ہشکارنے، شاباشی دینے یا سرزنش کرتے رہنے میں کوئی حرج نہیں۔

وسعت اللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام

No comments:

Powered by Blogger.