Header Ads

Breaking News
recent

دنیا کے کامیاب ترین افراد کن مضامین کا مطالعہ کرتے ہیں؟

کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر آپ ملک کا رہنما بننا چاہتے ہیں تو آپ کو کس قسم کی ڈگری کی ضرورت ہو گی، یا کیا آپ جانتے ہیں کہ یونیورسٹی کا تجربہ گریجویشن کے بعد آپ کی کامیابی پر اثر انداز ہو سکے گا۔ایسے بہت سے سوالات کے جوابات برٹش کونسل کی حالیہ تحقیق نے دئیے ہیں، جس میں ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا تجربہ کسی بھی رہنما کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

برٹش کونسل کے نتائج 30 ممالک کے تعلیمی پس منظر کے حامل 1,700 افراد پر مبنی ہے جن کا تعلق کارپوریٹ، غیر منافع بخش اداروں اور حکومتی پس منظر سے تھا۔مطالعہ میں10پیشہ وارانہ ’لیڈرز‘ یا قائدین کے انٹرویوز بھی شامل تھے، جن سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں متعلقہ شعبے میں ترقی کی منزل تک پہنچانے میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ نتائج کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف تعلیم ہی کامیابی کا واحد راستہ ہے، جیسا کہ دنیا کے بہت سے کامیاب ترین لوگوں کے پاس یونیورسٹی کی ڈگری نہیں ہے ان میں مشہور کاروباری شخصیات فیس بک کے شریک بانی مارک زکربرگ اور رچرڈ برینسن کا نام شامل ہے،تاہم ہمارا مطالعہ ان رہنماؤں اور کامیاب افراد پر ہے جنھوں نے اپنی ڈ گریاں مکمل کی ہیں اور ان کی اعلیٰ تعلیم نے انھیں کامیاب بنانے میں مدد کی ہے۔ 
نصف رہنماؤں سے زائدنے سوشل سائنس اور ہیومینیٹیز کا مطالعہ کیا:تحقیق سے پتا چلا کہ نصف سے زائد 55 فیصد رہنماؤں نے سوشل سائنس (سماجی سائنس) اور ہیو مینیٹیز (غیر سائنسی علوم ) کا مطالعہ کیا تھا۔ ان میں سے 44 فیصد نے سوشل سائنس اور 11 فیصد نے ہیو مینیٹیز میں ڈگری حاصل کی تھی جبکہ جو لوگ سرکاری ملازمتوں پر فائز تھے، ان میں سوشل سائنس کے مطالعے کے امکانات زیادہ تھے، اسی طرح غیر منافع بخش تنظیموں سے وابستہ افراد ہیومینیٹیز کا پس منظر رکھتے تھے۔

 نوجوان رہنما جن کی عمریں 45 برس سے کم تھیں، ان کا پس منظر سماجی سائنس اور ہیومینیٹیز سے تھا، لیکن اس کے برعکس بڑی عمر کے رہنماؤں نے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کا مطالعہ کیا تھا۔ کامیاب کیرئیر کے لیے کوئی ایک مضمون ذمہ دار نہیں تھا:ماہرین نے کہا کہ ہمارے نتائج یہ تجویز نہیں کرتے ہیں کہ خاص تعلیمی نظم و ضبط کیرئیر کی کامیابی کی طرف قیادت کرتا ہے۔جو لوگ حکومت میں تھے ان میں سوشل سائنس پڑھنے کا امکان تھا اور جو غیر منافع بخش اداروں کے لیے کام کرتے تھے ان کے پاس ہیومینیٹیز کی ڈگری تھی۔

 کیرئیر کی کامیابی میں غیرنصابی سرگرمیوں کا کردار

ماہرین نے کہا اعلیٰ تعلیم براہ راست سیکھنے کے مقابلے میں زیادہ تجربہ فراہم کرتی ہے، جیسا کہ طالب علم جانتے ہیں کہ وہ اپنے تعلیمی مطالعے سے باہر کی سرگرمیوں اور تجربات سے نئی مہارتیں سیکھتے ہیں اسی حوالے سے ان دس رہنماؤں سے پوچھا گیا تھا کہ کیا ان کی غیر نصابی سرگرمیوں کا ان کی کامیابی میں حصہ ہے اس سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ کھیلوں کے ذریعے انھوں نے نظم و ضبط اور مسابقتی دوڑ کو سیکھا ہے، جبکہ یونیورسٹی میں مختلف ثقافتوں کے ساتھ مطالعہ کا تجربہ اور یونیورسٹی کے ماحول نے انھیں کاروباری یا تخلیقی بنانے کے لیے حوصلہ افزائی کی ہے۔ 

بین الاقوامی تجربہ ضروری ہے

نتائج سے ظاہر ہوا کہ تقریباً نصف 46 فیصد رہنماؤں نے بین الاقوامی تعلیم یا ملازمت کا تجربہ حاصل کیا تھا۔ جتنی اعلیٰ سطح کی ان کی ڈگری تھی اتنا ہی ان میں بیرون ملک تعلیم کا امکان زیادہ تھا۔ ان کامیاب افراد نے زیادہ تر بیرون ملک سے ماسٹرز کی ڈگری یا پیشہ ورانہ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی جبکہ سب سے مقبول مطالعہ کی منزل امریکہ اور برطانیہ ہیں۔کینیڈا، برطانیہ اور امریکہ میں ہیومینیٹیز گریجویٹس کا تناسب سب سے زیادہ ہے۔رہنماؤں میں ہیومینیٹیز میں گریجویٹس کی سب سے بڑی تعداد کینیڈا سے آئی تھی، اس کے بعد برطانیہ اور امریکہ سے 19 فیصد، پولینڈ، روس اور یوکرین سے 18 فیصد اور چین، جاپان اور جنوبی کوریا سے 16 فیصد رہنماؤں نے غیر سائنسی علوم میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔

 مصر، سعودی عرب اور ترکی کے رہنماؤں میں بیرون ملک تعلیم کا امکان ز یادہ تھا: نتائج سے انکشاف ہوا کہ مصر، سعودی عرب اور ترکی سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں میں 71 فیصد بین الاقوامی تعلیمی تجربے کا امکان تھا، جبکہ ان کے مقابلے میں کینیڈین، برطانوی اور امریکی رہنماؤں کی ایک چوتھائی تعداد بیرون ملک سے تعلیم یافتہ تھی۔ آسٹریا، جرمنی، نیدرلینڈ میں 96 فیصد اور ارجنٹینا، برازیل اور میکسیکو کے رہنماؤں میں اپنے ملک میں تعلیم حاصل کرنے کے امکانات 91 فیصد پائے گئے۔
 
نصرت شبنم

No comments:

Powered by Blogger.