Header Ads

Breaking News
recent

کیا قوم شرمسار ہے

گزشتہ دو چار دنوں سے جب قصور کا سانحۂ عظیم سامنے آیا ہے دماغ معطل ہو گیا ہے اور ایک سوال بار بار اپنا جواب طلب کرتا ہے کہ کیا پاکستان ہم نے ایسے ناقابل ذکر اور ناقابل برداشت حادثوں کے لیے بنایا تھا۔ ان دنوں ہم اپنی کسی آزادی کی تقریب منا رہے ہیں اور قدرت ہم سے اس قدر ناراض ہے کہ اس نے ان دنوں پوری قوم پر ایک تباہ کن سیلاب بھیج دیا ہے۔

جس نے ہماری قومی زندگی الٹ پلٹ کر دی ہے اور ہم بے رحم پانیوں کے رحم و کرم پر تنکوں کے سہارے زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے وجود کو لاحق خطرات پر کہیں ایک مضمون پڑھتے ہوئے مضمون نگار نے قاری کو بتایا ہر سال کے تباہ کن سیلاب بھی کسی تہذیب کو ختم کر سکتے ہیں اسے ماضی کے کسی گمنام اور ہولناک گوشے میں پھینک سکتے ہیں۔ جہاں ہم نشان عبرت بن کر زندہ انسانوں کو ڈراتے رہیں۔

آج کے سعودی عرب کے ایک معروف راستے سے گزرتے ہوئے جب عاد و ثمود نامی تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات کے قریب سے گزرتے ہیں تو حکم ملتا ہے کہ یہاں سے جلد از جلد تیزی کے ساتھ گزر جاؤ۔ یہ مقام عبرت نہ تو توقف کا ہے اور نہ ہی ان تاریخی نشانیوں کو غور سے دیکھنے کا۔ یہ اللہ کی پناہ مانگنے کا مقام ہے۔

ہماری جن بستیوں میں سیلاب نے تباہی مچائی ہے وہاں نہ تو کوئی آبادی ہے نہ کوئی زندہ انسان رہا ہے اور نہ لکڑیوں کے ایسے ٹکڑے ہی بچے ہیں جن سے ہمارے بچے چمٹ کر زندگی بچانے کی بچگانہ کوشش کر سکیں۔ یہ سیلاب نہیں ایک بربادی ہے اور جب یہ اترتا ہے اور اس کے اندر سے زمین باہر نکلتی ہے تو اس زمین کے مالکوں کو پتہ نہیں چلتا کہ ان کی زمین کون سی تھی۔ ان کے کچے پکے مکان کہاں واقع تھے اور ان کی زندگی کن زمینی حدود کے اندر گزرتی تھی۔ بس یوں ہے کہ؎

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

ہم انھی خوابوں اور افسانوں کی مدد سے اپنی نئی دنیا پھر سے تعمیر کرنے کی سعی کرتے ہیں کسی دوسرے تباہ کن سیلاب کے لیے۔ ہمارے حکمران اس بار بار کے سیلاب کے سامنے چھوٹے بڑے بند نہیں باندھتے کہ اسے روک سکیں اور اس کی شدت کو کم کر دیں جو انسانی آبادیوں سے ذرا نرمی کے ساتھ گزر جائے، اپنے پیچھے خواب اور افسانے ہی نہ چھوڑ جائے۔

بات تو میں کوئی اور کرنا چاہتا تھا مگر قصور سے جو خبر ملی اور اپنی تاریخ کا سب سے بھیانک اسکینڈل سنا تو ہوش و حواس اڑ گئے اور بڑی کوشش کے ساتھ روزمرہ کے کام کا کوئی اور موضوع تلاش کر لیا جو خود کو بھی اس موقع اور ان حالات میں اجنبی سا لگا ہے لیکن بابا بلّھے شاہؒ کی نگری پر جو کچھ گزر گئی اسے کوئی بلھے شاہ ہی بیان کر سکتا ہے ہم نہیں۔ ہم تو بس شرمندگی سے اندر ہی اندر سے ٹوٹ پھوٹ سکتے ہیں۔

مگر حق ادا نہیں ہو سکتا۔ پٹھان خانوادوں کے محلات اور قصور سے آراستہ یہ شہر جس کو بلّھے شاہ جیسی شخصیت نے اپنی قبر کے لیے پسند کیا ہم قلم کے ناکام مزدور اس کا کیا حق ادا کر سکتے ہیں۔ ہم تو اس شاعر کے الفاظ میں اتنا ہی 

کہہ سکتے ہیں یہی دہرا سکتے ہیں کہ ؎
بلّھے شاہ اسی مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور

لیکن ہم نے بابا بلّھے شاہؒ کا احترام بالکل نہیں کیا۔ ہم شاید اس عظیم المرتبت شاعر کے اہل ہی نہ تھے کہ اس کے قرب و جوار کو ننگ انسانیت بنا دیا۔ بحث یہ چل رہی ہے کہ اس سانحے میں پولیس اور سیاستدانوں کا بھی ہاتھ تھا۔ پولیس نے شروع میں جو متضاد بیان دیے وہ خود پولیس کے خلاف ایک ایف آئی آر تھی۔ کوئی ہے جو سب کچھ چھوڑ کر پولیس کے اعلیٰ افسروں کے انھی بیانوں پر ان کو گرفتار کر لے اور کوئی حکمران ہے جس کے دل پر چوٹ پڑی ہو کہ اس کی عملداری میں اس کی رعایا کے بچوں کے ساتھ یہ کیا ہو گیا۔

ایسا تو کبھی نہیں ہوا کرتا اور اسی لیے سب نے متفقہ فیصلہ دیا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا سانحہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ یہ تاریخی اعزاز جن حکمرانوں کو عطا ہوا ہے انھیں مبارک ہو۔ میں اپنی یادداشت پر اعتبار نہیں کرتا لیکن اس سانحہ عظیم کے شکار بچوں اور ان کے والدین کے آنسو پونچھنے کے لیے اب تک کوئی بڑا چھوٹا حکمران وہاں نہیں گیا۔

میرا تو خیال تھا کہ ہمارے حکمران وہاں ڈیرے ڈال دیں گے اور جو کچھ ان کے بس میں ہے وہ سب کر گزریں گے لیکن پتہ چلا ہے کہ اعلیٰ ترین حکمرانوں نے اس سانحہ کا صرف نوٹس ہی لیا ہے۔ ان دنوں اس نوٹس کا حوالہ بہت آتا ہے، اعلیٰ ترین عدالتیں بھی نوٹس لے لیتی ہیں اور اعلیٰ ترین حکمران بھی مگر یہ کوئی نہیں بتاتا کہ یہ نوٹس کیا ہوتا ہے اور جب یہ لے لیا جاتا ہے تو کیا کرتا ہے۔
یہ کسی پڑھے لکھے دوست سے پوچھیں گے۔ یہ مہینہ ہماری آزادی کی یاد منانے کا مہینہ ہے اور 14 اگست قریب ہے۔ سیلاب وغیرہ پر تو ہمارا بس نہیں چلتا لیکن قصور کے اس سانحے کے ملزموں پر تو ہمارا بس یقینا چلتا ہے اور حکمرانوں کے پاس ایسے اختیارات موجود ہیں کہ وہ اس حادثے کے ملزموں کو ان کے جرم کے مطابق سزا دے سکتے ہیں۔ لیکن کیا کہیں وہ پرانی بات تو نہیں کہ جس نے یہ گناہ نہ کیا ہو وہ اس ملزم کو پتھر مارے۔

قصور کا یہ سانحہ ہماری حکومت کی کمزوری کا شاخسانہ ہے۔ اگر غلط لوگوں کو احساس ہوتا کہ ہ کیا جرم کر رہے ہیں اور اس کی سزا یقینی ہے تو شاید ایسا سانحہ اس شدت کے ساتھ پیش نہ آتا لیکن تعجب ہے کہ پولیس خود کہتی ہے کہ ایسا یہاں ہوتا رہتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا رہتا ہے تو پھر ہونے دیں اور پاکستان کے یوم آزادی کی تقریبات پر پردہ ڈال دیں تا کہ قوم شرمندہ نہ ہو۔

عبدالقادر حسن

No comments:

Powered by Blogger.