Header Ads

Breaking News
recent

افغان طالبان کا مستقبل ؟

افغان طالبان کیلئے ملّا محمد عمر کی موت کی تصدیق کرنا ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن اُنہیں یہ مشکل فیصلہ کرنا پڑا۔ ملّا محمدعمر کی موت کی تصدیق کے بعد جلال الدین حقانی اور ملّا محمد یعقوب کی موت کے دعوے بھی کئے گئے لیکن یہ دعوے غلط ثابت ہوئے۔ عام خیال یہ تھا کہ ملّا محمد عمر کی جانشینی کے معاملے پر افغان طالبان میں پھوٹ پڑ جائے گی اور اُن کی مسلح مزاحمت بھی کمزور پڑ جائے گی۔

ملّا محمد عمر کی جگہ ملّا اختر منصور کو طالبان کا نیا امیر بنائے جانے کے اعلان پر کچھ اعتراضات سامنے آئے لیکن ملّا اختر منصور نے امارت سنبھالنے کے فوراً بعد کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات معطل کر کے اپنے آپ پر اعتراضات کی شدت کو کم کر دیا کیونکہ اعتراضات کرنے والوں کے زیادہ تر تحفظات ملّا اختر منصور کی ذات پر نہیں بلکہ کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات پر تھے۔
ملّا اختر منصور کی امارت پر اعتراضات اٹھانے والوں میں ملّا محمد عمر کے کچھ ایسے ساتھی بھی شامل تھے جن کو کچھ عرصہ سے پاکستان سے بھی شکایات ہیں۔ یہ شکایات پاکستان کیلئے کافی مشکلات کھڑی کر سکتی تھیں لیکن مغربی میڈیا اور افغان حکومت کے پروپیگنڈے نے افغان طالبان کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ ملّا محمد عمر کی موت کے بعد اگر انہوں نے آپس کے اختلافات پر قابو نہ پایا اور پاکستان کے خلاف ایک نیا محاذ کھول لیا تو فائدہ دشمنوں کو ہو گا۔ دشمنوں نے دعویٰ کیا کہ ملّا محمد عمر کا انتقال پاکستان میں ہوا۔

طالبان نے اس دعوے کی تردید کی تو دشمنوں نے کہا کہ ملّا محمد عمر کو دفن تو افغانستان میں کیا گیا لیکن اُنہیں پاکستان میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس دعوے کی تردید بھی ہو گئی تو ایک نیا دلچسپ دعویٰ سامنے آیا۔ ایک صحافی نے لکھا کہ ملّا محمد عمر کراچی کی لی مارکیٹ میں آلو فروخت کیا کرتے تھے۔ ملّا محمد عمر کی کراچی اور کوئٹہ میں موجودگی کے دعوے کرنے والے آج تک اپنے موقف کو سچ ثابت کرنے کیلئے کوئی ٹھوس ثبوت سامنے نہیں لا سکے۔ بہرحال ملّا محمد عمر کی موت کے بعد طالبان کے خلاف پروپیگنڈے کے طوفان نے انہیں نقصان کی بجائے فائدہ پہنچایا اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اختلافات کو مل بیٹھ کر طے کرنے پر توجہ دی۔

اس سلسلے میں مولانا سمیع الحق اور ڈاکٹر شیر علی شاہ صاحب نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ ملّا اختر منصور سے شاکی افغان طالبان کا ایک وفد دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک پہنچا اور ملّا محمد عمر کی موت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال میں رہنمائی طلب کی۔ مولانا سمیع الحق نے اُنہیں باہمی اختلافات ختم کرنے کا مشورہ دیا۔ بعد ازاں مولانا صاحب نے ملّا اختر منصور سے شکوے شکایت رکھنے والے کچھ طالبان رہنمائوں سے خود بھی رابطے کئے اور آہستہ آہستہ ملّا اختر منصور کے مخالفین خاموش ہوتے گئے۔ ملّا اختر منصور کی طرف سے کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کا عمل معطل کرنے کے بعد افغانستان میں طالبان کے حملوں میں شدت آ گئی ہے۔

طالبان نے کابل میں پولیس اکیڈمی اور مغربی افواج کے ایک مرکز پر حملہ کر کے عالمی طاقتوں کو یہ پیغام دیا ہے کہ ملّا محمد عمر کی موت کے بعد بھی طالبان ایک موثر قوت کے طور پر موجود ہیں۔ شاید انہی حملوں کا اثر تھا کہ پاکستان میں افغانستان کے سفیر اکوڑہ خٹک میں مولانا سمیع الحق کے پاس جا پہنچے اور ان سے درخواست کی کہ وہ افغان طالبان کو مذاکرات کا عمل دوبارہ شروع کرنے پر راضی کریں۔ مولانا سمیع الحق مذاکرات کے حامی ہیں لیکن انہوں نے افغان سفیر کو طالبان کے تحفظات سے بھی آگاہ کیا اور بتایا کہ افغانستان کی جیلوں میں طالبان کے قیدیوں پر تشدد جاری رہا تو صدر اشرف غنی کی حکومت ملّا اختر منصور کے رویے میں کسی لچک کی توقع نہ کرے۔ مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ افغان طالبان کی سرپرستی اور ترجمانی کی ہے۔ ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے لیکن اُن کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

حال ہی میں انہوں نے افغان طالبان کے بارے میں انگریزی میں ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے ’’افغان طالبان، وار آف آئیڈیالوجی‘‘۔ اس کتاب میں انہوں نے افغان طالبان اور ملّا محمد عمر کے بارے میں کئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر کے دارالعلوم حقانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تاہم وہ دارالعلوم کے دو پرانے طلبہ مولوی یونس خالص اور نبی محمدی کے شاگرد رہے ہیں۔ دارالعلوم حقانیہ نے ملّا محمد عمر کو ایک اعزازی ڈگری ضرور جاری کی۔

 اس کتاب کے مطابق ملّا محمد عمر کی دو بیویاں ہیں۔ مولانا سمیع الحق نے لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر عورتوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تھے البتہ وہ مخلوط تعلیم کے خلاف تھے۔ اس کتاب میں مولانا صاحب نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان کے دور حکومت میں افغانستان کی پہلی باقاعدہ کرکٹ ٹیم تشکیل دی گئی اور طالبان حکومت نے پاکستان کے ذریعے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی رکنیت حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش کامیاب نہ ہوئی۔

ایک برطانوی صحافی جیمز فرگوسن نے افغان طالبان کے بارے میں اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ افغانستان کی تاریخ میں ملّا محمد عمر سے یہ اعزاز کوئی نہیں چھین سکتا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں پوست کی کاشت کو ختم کر دیا اور سوارا جیسی رسموں پر پابندی لگائی جن کے تحت قبائلی دشمنیاں ختم کرنے کیلئے عورتوں کی زبردستی شادیاں کی جاتی تھیں۔ فرگوسن نے لکھا ہے کہ ملّا محمد عمر کے دور میں قاری برکت اللہ سلیم کابل میں ایک گرلز سکول چلاتے رہے جس میں سات ہزار طالبات زیر تعلیم تھیں۔ ملّا محمد عمر نے افغانستان میں ہندوئوں اور دیگر غیرمسلموں کے تحفظ کیلئے کئی اقدامات کئے لیکن بدقسمتی سے عالمی میڈیا میں اُن کے مثبت اقدامات کو زیادہ توجہ نہ مل سکی۔ عالمی میڈیا نے ملّا محمد عمر اور افغان طالبان کو صرف القاعدہ کے ایک سرپرست کے طور پر دیکھا۔

پاکستان کی حکومتیں تمام تر کوششوں کے باوجود ملّا محمد عمر کو القاعدہ اور اسامہ بن لادن سے علیحدہ نہ کر سکیں۔ ملّا محمد عمر نے ہمیشہ پاکستان کے مفادات کا خیال رکھا لیکن پاکستانی حکومت کی خواہشات اور گزارشات کو حرف آخر کبھی نہ سمجھا۔ 2010ء میں افغان طالبان اور پاکستانی حکومت میں کافی غلط فہمیاں پیدا ہو گئیں۔ ملّا محمد عمر کے ایک قریبی ساتھی عبید اللہ اخوند ایک پاکستانی جیل میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ان کے اہل خانہ سے موت کی خبر چھپا کر اُنہیں خاموشی سے دفن کر دیا گیا۔ طالبان حکومت کے ایک اور سابق وزیر استاد یاسر بھی ایک پاکستانی جیل میں پراسرار موت کا شکار ہوئے۔ پھر ملّا محمد عمر کے ایک اور قریبی ساتھی ملّا عبدالغنی برادر کو کراچی میں گرفتار کر لیا گیا۔

مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ 2010ء میں کس پاکستانی ادارے کا کون کون سربراہ تھا لیکن افغان طالبان کو زور زبردستی سے امریکا کے ساتھ اور حامد کرزئی کے ساتھ مذاکرات پر راضی کرنے کی کوشش میں وہی لوگ ملوث تھے جنہوں نے بعد میں سی آئی اے کے ایجنٹ ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرا کر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی میں غیرملکی نوکری کا بندوبست کر لیا۔ یہ وہ دور تھا جب ملّا محمد عمر کو بھارت سمیت کئی ممالک نے اپنے مفادات کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کی لیکن ملّا محمد عمر تمام تر شکایتوں کے باوجود پاکستان کے بارے میں خاموش رہے تاہم افغان طالبان پر پاکستان کا اثر و نفوذ کافی کم ہو گیا۔ 

ملّا محمد عمر کی موت کے بعد طالبان اور افغان حکومت میں مذاکرات کا عمل معطل ہو چکا ہے۔ یہ عمل بحال ہونا چاہئے تاہم اس معاملے میں پاکستان کو بہت احتیاط، صدر اشرف غنی کو برداشت و حکمت اور عالمی طاقتوں کو غیرجانبداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ افغان طالبان کی نفسیات کو سامنے رکھا جائے۔ اگر ان کے خلاف سختی کی جائے گی اور جھوٹ بولا جائے گا تو پھر جواب میں دھماکوں کی آوازیں آئیں گی۔

حامد میر
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.