Header Ads

Breaking News
recent

زیارت کاسُکون

بلوچستان کے ویران صحرا میں نخلستان کے چھوٹے چھوٹے یہ ٹکڑے اس بات کا احساس دلا رہے تھے کہ کاشتکاری یہاں بھی ممکن ہے ۔ اگر کوشش کی جائے تو پورا بلوچستان جنتِ نظیربن سکتا ہے ۔ جفاکش بلوچوں نے کاریزوں کے ذریعے ان نخلستان کو آباد کیا ہوا ہے۔ جنہیں ایک پوری نسل کھودتی ہے اور آئندہ نسلیں استفادہ کرتی ہیں۔ ان کاریزوں کے ذریعے پہاڑی چشموں کا پانی زیرِ زمین آبی راستوں سے کھیتوں تک لایا جاتا ہے۔

 تب جا کر یہ سرسبز ہو کر لہلہاتے ہیں _ورنہ پانی کے محتاج کئی کھیت بھی راستے میں ہم نے دیکھے تھے کہ پانی سے محروم رہ کر کس طرح ان کی ہریالی چھن گئی تھی۔ راستے میں ہر دس بیس میل بعد خانہ بدوشوں کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں بھی اپنے رزق کی تلاش میں پھرتی ہوئی نظر آئیںدوپہر ڈھل چکی تھی اور ہمارا سفر جاری تھا۔ آسمان پر کچھ کچھ بادل بھی منڈلانے لگے تھے اور کہیں کہیں یہ پہاڑوں کی چوٹیوں سے ٹکرا کو بوس و کنار میں مصروف تھے۔ 

ہوا بھی کچھ زیادہ سرد ہونے لگی تھی۔ کوئی پندرہ بیس میل ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ بارش شروع ہوگئی اور ضرب المثل کی طرح چھاچھوں پانی برسنے لگا۔ فضا ہر طرف دھواں دار ہو گئی ۔ ابھی کچھ گھنٹے پہلے پانی کو ترسے ہوئے میدانوں اور پہاڑوں سے نکل کر آئے تھے اور یہاں تھا کہ بارش لگتا تھا اگلی پچھلی ساری کسر نکالنے پر تُلی ہوئی ہے۔ بس کی وِنڈ سکرین کے سامنے صرف پانی ہی پانی نظر آرہا تھا۔ ایک تو راستہ بے حد دُشوار اور اوپر سے شدید بارش۔ اسے کہتے ہیں یک نہ شُد دوشُد_! کئی چھوٹے بڑے نالے بارش کے پانی سے بھر گئے تھے اور انہوں نے دریاؤں کی سی شکل اختیار کر لی تھی۔

 ایک مقام پر تو ان نالوں نے سڑک کو ہی کہیں چھُپالیا تھا۔ پانی تیزی سے سڑک کے آر پارہو رہاتھا اور سامنے سے آنے والی کئی گاڑیاں رُک کر پانی کا زور کم ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ نالے میں ڈوبی سڑک کو پارکرنا بڑا خطر ناک تھا۔ ڈرائیور شیر زمان یہاں رُکنے کے لیے تیار نہ تھا ۔اُس نے ہمت کر کے بس پانی میں ڈال دی۔ ایک لمحے کے لیے تو ایسے لگا کہ عین بیچ میں گاڑی کا انجن بند ہو جائے گااور پھر ہمیں یہ دریا تیر کر عبور کر ہوگا۔

تیرنا تو ہمیں آتا نہیں تھا لہذا ڈوبنا ہی مقدر تھا_! مگر ہماری قسمت اچھی تھی شیر زمان بڑی مہارت سے گاڑی کو پانی سے نکال لایا۔ مگر اسی لمحے ایک ابرآلود ہو ا کا جھونکا آیا اور بس کے اوپر بندھے سامان پر بچھی ترپال لے اُڑا، بس روک لی گئی۔ سب کو اپنے اپنے سامان کی پڑ گئی ۔ کنڈیکٹر اور ڈرائیور ایک ساتھ بس کی چھت پر چڑھ گئے اور بارش میں بھیگ کر ترپال باندھ دی

 (اسد سلیم شیخ کے سفرنامہ پاکستان ’’کچھ سفر بھولتے نہیں‘‘ سے مقتبس)  

No comments:

Powered by Blogger.