Header Ads

Breaking News
recent

سیاسی کھلاڑیوں نے ہاکی تباہ کر دی

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1986 ء کے عالمی کپ میں پاکستانی ہاکی ٹیم کے گیارہویں نمبر پر آنے پر پاکستان کے اخبار روزنامہ حریت نے شہ سرخی لگائی تھی’ پاکستانی ہاکی کا جنازہ اٹھ گیا۔ انااللہ وانا الیہ راجعون۔‘
یہ پاکستانی ہاکی کے عروج کا دور تھا جس میں کسی کو بھی یہ گوارا نہ تھا کہ پاکستانی ٹیم کو ایسی مایوس کن شکست کا سامنا کرنا پڑا لہٰذا پورے ملک میں طوفان کھڑا ہوگیا تھا اور پاکستانی ہاکی کے مرد آہن بریگیڈئر عاطف کی برطرفی تک کا مطالبہ زور پکڑگیا۔

لیکن آج جب پاکستانی ہاکی ٹیم اپنی تاریخ میں پہلی بار ورلڈ کپ کے بعد اب اولمپکس میں بھی شرکت سے محروم ہوگئی ہے۔ اسے اس حال پر پہنچانے کے ذمہ داران کی برطرفی کا مطالبہ تو دور، وہ چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔
یہی وہی لوگ ہیں جنھوں نے سیاسی طاقت کے بل پر پاکستان ہاکی فیڈریشن میں قدم رکھا اور آج بھی انھیں یقین ہے کہ یہی سیاسی طاقت انھیں پاکستان ہاکی فیڈریشن سے باہر کیے جانے سے روکے رکھے گی۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ حکومت نے شدید ردعمل کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنادی ہے۔ عام طور پر ایسی صورتحال میں حکومت کی جانب سے یہی ہوتا ہے کہ پہلے سخت نوٹس اور پھر ایک کمیٹی کا قیام۔
پاکستانی ہاکی پچھلے سات آٹھ سال کے دوران سیاسی قوت کا بھرپور مظاہرہ دیکھتی آ رہی ہے۔
پاکستانی ہاکی کی موجودہ تباہی درحقیقت اس وقت شروع ہوئی تھی جب کچھ سابق اولمپیئنز فیڈریشن کے صدر میر ظفر اللہ جمالی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور گو جمالی گو کے نعرے بلند کیے۔

اسی دوران ایک وفاقی وزیر کی آشیرباد حاصل کر کے آصف باجوہ نے پاکستان ہاکی فیڈریشن میں داخل ہو کر پی ایچ ایف کے سیکریٹری اور 1971ء کے عالمی کپ کے فاتح کپتان خالد محمود کوگھر جانے کا راستہ دکھایا اور خود سیکریٹری بن گئے۔

پھر حالات ایسے پیدا کر دیے گئے کہ میر ظفر اللہ جمالی کو بھی گھر جانا پڑگیا۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کی باگ ڈور قاسم ضیا نے سنبھالی اور انھیں یہ عہدہ اس روایت کے تحت دیا گیا کہ کھیلوں کی فیڈریشنز اور کرکٹ بورڈ کے معاملات چلانے کے لیے ٹیکنوکریٹ کے بجائے اس شخص کو تلاش کیا جاتا ہے جو حکومت کے قریب تر ہو۔

قاسم ضیا، آصف باجوہ، اختر رسول اور رانا مجاہد چاروں ہاکی اولمپیئنز رہے ہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ سب منیجمنٹ میں یکتا ہونے کے سبب نہیں بلکہ سیاسی اثر و رسوخ کی وجہ سے فیڈریشن میں آئے۔

پہلے آصف باجوہ اور پھر قاسم ضیا کے ادوار میں پاکستان ہاکی فیڈریشن کو حکومت سے بے حساب پیسے ملتے رہے جنھیں ہاکی کے نام پر خرچ کرنے کا دعویٰ کیا جاتا رہا۔

تاہم اگر ایسا ہوتا تو پاکستانی ہاکی ٹیم آج اس حال پر نہ پہنچتی کہ انٹرنیشنل مقابلوں میں شرکت کے لیے فیڈریشن کو مخیر حضرات سے ’بھیک‘ مانگنی پڑتی اور کھلاڑی ڈیلی الاؤنسز تک سے محروم رہتے۔
پیپلز پارٹی کی حکومت گئی تو پاکستان ہاکی فیڈریشن میں بھی مسلم لیگ نون کے اثرات ظاہر ہوگئے۔

قاسم ضیا کے دور میں ٹیم کے ہیڈ کوچ بنائے جانے والے اختر رسول نے مسلم لیگ ن کی جانب سے الیکشن لڑ کر ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن میں قدم رنجہ فرمائے اور ان کے ہوتے ہوئے پاکستانی ہاکی ٹیم کو پہلی بار عالمی کپ میں شرکت سے محرومی کا داغ بھی سہنا پڑا۔
موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ فائدہ رانا مجاہد کو ہوا جو قاسم ضیا کے دور میں ایسوسی ایٹ سیکریٹری تھے اور اختر رسول کے آتے ہی وہ آصف باجوہ کی جگہ سیکریٹری بن گئے۔

ماضی میں ٹیم کی خراب کارکردگی کا رونا روتے ہوئے کم ازکم اس بات کی تو ڈھارس تھی کہ ٹیم کم از کم باہر جاکر کھیلتی تو ہے لیکن اب تو ورلڈ کپ اور اولمپکس میں شرکت کی محرومی نے پاکستانی ہاکی کو اس کی تاریخ کے پست ترین مقام پر پہنچا دیا ہے۔

عبدالرشید شکور

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

No comments:

Powered by Blogger.