Header Ads

Breaking News
recent

میگا کرپشن کیسز اور رینجرز کے اختیارات

نیب نے سپریم کورٹ کی مداخلت پر 150میگا کرپشن کیسز کی رپورٹ عدالت میں پیش کردی ہے۔ رپورٹ کیمطابق پاکستان کے موجودہ وزیراعظم، دو سابق وزیراعظم اور سابق بیوروکریٹ میگا کرپشن میں ملوث ہیں۔ تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے نیب کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مقدمات کی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ نیب کی رپورٹ نے خود اس کی اپنی کارکردگی کو بے نقاب کردیا ہے۔ نیب جس کو قومی بجٹ سے چھ ارب روپے سالانہ ادا کیے جاتے ہیں پندرہ بیس سال میں نیب 150میگا کرپشن کے مقدمات میں سے ایک بھی مکمل نہیںکرسکا۔

 جرنیل اور بیوروکریٹ نیب کے سربراہ رہے جن میں سے ایک بھی عوام کی توقعات پر پورا نہ اُتر سکا۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نیب پگڑی اچھال ادارہ بن چکا ہے پہلے اس کا احتساب ہونا چاہیئے۔ کرپشن کے 150مقدمات میں اصغر خان کیس شامل نہیں ہے جس کے بارے میں سپریم کورٹ نے ان سیاستدانوں کیخلاف مقدمات درج کرنے کا حکم دیا تھا جنہوں نے ایجنسیوں سے رقوم حاصل کی تھیں۔ جنرل پرویز مشرف جو ایک بار پھر قوم کی خدمت کرنے کے جنون میں مبتلا ہیں اپنے دور میں احتساب نہ کرسکے بلکہ انہوں نے 2002ء کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کیلئے نیب کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ نیب نے وفاداریاں تبدیل کرنیوالے اراکین قومی اسمبلی کیخلاف کرپشن مقدمات کی فائلیں سرد خانے میں رکھ دیں۔ 

مسلم لیگ(ن) اور پی پی پی کی قیادت نے میثاق جمہوریت پر دستخط کرکے فیصلہ کرلیا کہ وہ ایک دوسرے کے سیاسی مفادات کو چیلنج نہیں کرینگے۔ دونوں جماعتوں نے میثاق جمہوریت کی خفیہ شق کیمطابق ایک دوسرے کا احتساب کرنے سے گریز کیا اور نیب کا ادارہ محض دکھاوے کی کارروائی کرتا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کے بڑے مقدمات طویل عرصے سے زیر التواء ہیں۔ نیب کے اعلیٰ عہدوں پر سیاستدانوں اور مقتدر اداروں کے پسندیدہ افراد فائز ہیں جو انکے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے نیب کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شریف خاندان کا مقدمہ بڑی مہارت اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ عوام کی عدالت میں پیش کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ شریف خاندان نے پانچ ارب روپے سے زائد بنکوں کے قرضے واپس کیے۔ جب قرضے لیے گئے اس وقت ڈالر اور زمین کی قیمت کیا تھی اور جب واپس کیے گئے اس وقت کیا تھی اس حوالے سے شریف خاندان نے اربوں کے قرضے واپس کرکے بھی اربوں روپے کمالیے۔ میاں شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ بڑے چوہدری اور سرمایہ دار بنکوں کے قرضے ہڑپ کرگئے۔ 

میاں شہباز شریف اپنے دعوے کی روشنی میں قرضے ہڑپ کرنیوالوں کو قانون کی گرفت میں لائیں۔ مرکز میں مسلم لیگ(ن) کی حکومت ہے اور اسکے پاس اکثریت بھی ہے۔ احتساب کیلئے قانون سازی کیلئے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ بلند بانگ دعوئوں کے بعد بھی اگر حکومت قرضے ہڑپ کرنے والوں کیخلاف کارروائی نہیں کرتی تو یہی سمجھا جائیگا کہ سیاسی اشرافیہ نے کرپشن کے سلسلے میں ’’مک مکا‘‘ کررکھا ہے۔ نیب کی رپورٹ سے اندازہ ہوتا ہے کہ نرم انقلاب آچکا ہے اور گرم انقلاب کا انحصار حکومتوں کی کارکردگی پر ہے۔ اگر وفاقی اور سندھ کی صوبائی حکومت نے ضرب عضب کی کامیابی اور سیاست کو کرپشن اور جرائم سے پاک کرنے کیلئے تعاون نہ کیا تو گرم انقلاب قومی ضرورت بن جائیگا جس کی ذمے داری سیاستدانوں پر عائد کی جائیگی۔

 نیب کو اگر اپنا بھرم رکھنا ہے تو وہ بلا خوف و خطر میگا کرپشن کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائے۔ پری بارگینگ یعنی ’’مک مکا‘‘ کا قانون ختم کردینا چاہیئے اور کرپشن کے مستقل علاج کیلئے نیا قانون بننا چاہیئے کہ جس پر کرپشن کے الزامات ہوں وہ خود ثابت کرے کہ اسکے منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے جائز اور قانونی ہیں۔
اب یہ حقیقت دوپہر کے سورج کی طرح سامنے آچکی ہے کہ کراچی کی روشنیوں کے قاتل سیاستدان ہیں جنہوں نے پاکستان کی معاشی رگ کو لوٹنے کیلئے جماعتوں کے اندر مسلح لشکر بنائے اور قاتلوں، بھتہ خوروں اور لینڈ مافیا کی سرپرستی کی۔ جرنیل حکمرانوں نے فوجی طاقت رکھنے کے باوجود محض اپنے اقتدار کی خاطر آنکھیں بند رکھیں۔ جب کراچی میں ہرروز ایک درجن لاشیں گرتی تھیں، بھتہ خوری اور اغواء برائے تاوان کی وارداتیں عروج پرہیں۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کراچی بدامنی کا سؤوموٹو نوٹس لیتے ہوئے طویل سماعت کی اور فیصلہ دیا کہ کراچی میں جرائم سیاسی جماعتوں کی سرپرستی میں ہورہے ہیں۔

 وفاقی اور سندھ کی حکومتیں امن و امان قائم رکھنے میں بری طرح ناکام ہوئیں تو افواج پاکستان کو معاونت کیلئے طلب کیا گیا۔ رینجرز کے افسر چاہتے تو سیاستدانوں سے مل کر مال بناتے مگر انہوں نے وطن کی محبت میں وہ قرض چکائے جو واجب بھی نہ تھے۔ وطن کیلئے جان کی قربانی دینے والے لوٹ مار نہیں کیا کرتے۔ رینجرز نے 5795آپریشن کیے 826 دہشت گرد گرفتار کیے، 7312ہتھیار قبضے میں لیے، 334ٹارگٹ کلرز، 296بھتہ خور، 82اغواکار حراست میں لیے اور اپنی جانوں پر کھیل کر کراچی میں امن قائم کیا۔

 رینجرز نے جب اپیکس کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق معاشی دہشت گردوں کیخلاف آپریشن شروع کیا اور گرفتار افراد بلاول ہائوس اور نائن زیرو کی جانب انگشت نمائی کرنے لگے تو حکمران اور بڑے سیاستدان تڑپ اُٹھے اور انتقام انتقام کا شور مچانے لگے۔ قدرت کو پاکستان کے عوام پر رحم آچکا ہے۔ افواج پاکستان کی کمان باغیرت باوقار جرنیل راحیل شریف کے ہاتھ میں ہے۔ انہوں نے دہشت گردوں، قاتلوں، مجرموں اور کرپٹ عناصر کے سامنے سرینڈر کرنے سے انکار کردیا اور کراچی آپریشن کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ حرام خور بزدل ہوا کرتے ہیں صرف بڑھک مارتے ہیں۔ سامنے کھڑے ہونے کی جرأت نہیں کرتے۔
حکمران سیاستدان رینجرز کی مدت ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے جب مدت ختم ہوگئی اور نیا نوٹی فکیشن جاری کرنے کا مرحلہ آیا تو حیلے بہانے کرنے لگے۔

تحریک انصاف نے رینجرز کے حق میں قرارداد صوبائی اسمبلی میں جمع کرادی اور دھرنا دینے کی دھمکی دی۔ وزیراعلیٰ سندھ کو ایک ماہ کی توسیع دینا پڑی۔ کرپٹ سیاستدان رینجرز کے آپریشن کیخلاف سازشیں کرتے رہیں گے وہ اپنے مذموم مقاصد کیلئے پارلیمانی اداروں کو استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرینگے مگر پاکستان کے عوام اور افواج دہشت گردوں، مجرموں اور انکے سرپرستوں کے بارے میں یکسو ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ کا فیصلہ کرلیا ہے۔ کرپٹ سیاستدانوں کو تعاون کرنا پڑیگا اگر ضرب عضب کے راستے میں آئیں گے تو کچل دئیے جائینگے۔

 کراچی کے عوام جن کو طویل بدامنی کے بعد شہر میں سکون نصیب ہوا ہے کبھی برداشت نہیں کرینگے کہ سیاسی مصلحتوں کے تحت کراچی کو ایک بار پھر قاتلوں، مجرموں اور دہشت گردوں کے حوالے کردیا جائے۔ پاکستان میں کرپشن کے خاتمے کیلئے تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور پاکستان عوامی تحریک کو اس قومی ضرورت پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔ کرپشن اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے۔

قیوم نظامی

No comments:

Powered by Blogger.