Header Ads

Breaking News
recent

علاج ِ زندگی بذریعہ موت...وسعت اللہ خان

دنیا کے دو سو میں سے نوے ممالک میں پھانسی قانوناً جائز ہے۔ لیکن ان میں سے صرف بائیس ممالک نے پچھلے ایک برس میں سزائے موت پر عمل درآمد کیا۔ سالِ گذشتہ میں جن دس ممالک میں سب سے زیادہ پھانسیاں دی گئیں ان میں پاکستان کا نام کہیں نہ تھا۔ مگر پچھلے چھ ماہ میں لگ بھگ ایک سو باسٹھ مجرموں کو تختہِ دار پر لٹکا کے پاکستان ٹاپ ٹین ممالک میں اول نمبر پر آ گیا اور ایران ، سعودی عرب ، عراق ، امریکا ، چین اور شمالی کوریا کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔اس وقت پاکستان میں آٹھ ہزار سے زائد قیدی موت کے منتظر ہیں اور اکثریت یہ انتظار کم از کم دس برس سے کر رہی ہے۔ جسٹس پروجیکٹ پاکستان کے مطابق سزائے موت سننے والے لگ بھگ ایک ہزار مجرم وہ ہیں جن کے بارے میں شبہہ ہے کہ واردات کے وقت وہ کم عمر یعنی جوینائل کیٹگری میں تھے۔

موت کے لگ بھگ آٹھ ہزار قیدیوں میں سے وہ قیدی صرف آٹھ سو اٹھارہ ہیں جنھیں انسدادِ دھشت گردی کی خصوصی عدالتوں سے سزا ہوئی۔ دیگر کو عام عدالتوں نے سزا سنائی۔ ان میں سے دو سو ستاون کو غیر سنگین جرائم میں سزائے موت سنائی گئی۔باقیوں پر دھشت گردی ، اغوا ، منشیات کی اسمگلنگ ، ہائی جیکنگ ، ریلوے نظام کو نقصان پہنچانے ، ریپ اور توہینِ مذہب سمیت ستائیس میں سے کسی ایک یا ایک سے زائد سنگین جرائم میں سزا سنائی گئی۔ فہرست میں آخری اضافہ دو ہزار آٹھ میں ہوا جب سائبر دھشت گردی بھی سنگین جرائم کی فہرست میں شامل ہو گئی۔
ہر ملک اور سماج کو حق ہے کہ وہ اپنے اخلاقی مجرموں سے جیسے چاہے قانوناً نمٹے۔ مگر کچھ آفاقی اصول ناقابلِ سمجھوتہ ہیں۔ مثلاً قانون کی نظر میں سب برابر ہیں ، انصاف ہر زی روح کا بنیادی حق ہے ، انصاف کی آنکھوں پر پٹی ضرور ہو مگر جج کی آنکھیں کھلی رہیں ، انصاف کے نام پر بے انصافی یا مشکوک انصاف ہو تو اس کا معاوضہ و مداوا اور ازسرِ نو مقدمہ یا بریت بھی ہر انسان کا بنیادی حق ہے کیونکہ پھانسی کے بعد معلوم ہو کہ غلط شخص مارا گیا تو اس کا کیا مداوا ہو اور اگر یہ پتہ چلے کہ جسے پھانسی کی سزا ہوئی اسے عمر قید کے برابر عرصہ بھی کال کوٹھڑی میں گذارنا پڑا اور پھر رسے سے بھی لٹکنا پڑا تو اسے انصاف گردانا جائے یا قتل بذریعہ عدل ؟ ایسے سوالات بہت بار اٹھائے گئے مگر تب تک اٹھائے جاتے رہیں گے جب تک کوئی منصفانہ جواب اور حل دستیاب نہیں ہوتا۔

پاکستان میں ایک مدت تک عمر قید چودہ برس تصور کی جاتی تھی پھر بڑھا کر پچیس برس کر دی گئی ۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے دسمبر دو ہزار سات میں سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے حق میں بھاری اکثریت سے قرار داد منظور کی تو حمائتیوں میں پاکستان بھی شامل تھا۔ زرداری حکومت کے پانچ برس اور نواز شریف حکومت کے ابتدائی ڈیڑھ برس کے دوران سزائے موت پر عمومی عمل درآمد معطل رہا۔

مگر چودہ دسمبر دو ہزار چودہ کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول کے قتلِ عام کے بعد سزائے موت پر یہ کہہ کر عمل درآمد بحال کیا گیا کہ صرف انھیں ہی پھانسی پر لٹکایا جائے گا جن کا دھشت گرد ہونا ثابت ہو جائے۔ پارلیمنٹ سے فوجی عدالتوں کے قیام کا بل بھی یہی کہہ کے منظور کروایا گیا کہ فوجی عدالتوں میں صرف ’’ جیٹ بلیک ’’ دھشت گردوں پر مقدمات چلیں گے جنھیں وفاقی و صوبائی حکومتیں سماعت کے لیے ارسال کریں۔ پھر یوں ہوا کہ ایک روز دبے پاؤں سزائے موت پر عمل درآمد کا دائرہ تمام مجرموں تک بڑھا دیا گیا۔دھشت گردوں کو پھانسی دینے کے نام پر ہٹائی گئی پابندی کے بعد سے اب تک ڈیڑھ سو سے زائد مجرم رسے پر جھلا دیے گئے۔مگر ان میں اکثریت ایسوں کی ہے جو غیر دھشت گرد مجرم ہیں۔اب تک صرف بیس کے لگ بھگ ایسے مجرموں کو پھانسی دی گئی جن پر دھشت گردی ثابت ہو چکی تھی۔

سزائے موت پانے والے یا اس کے منتظر مجرموں میں کچھ وہ بھی ہیں جنہوں نے جرم تو انفرادی سطح پر کیا لیکن مقدمہ عام عدالت کے بجائے انسدادِ دھشت گردی کی خصوصی عدالت میں بھیج دیا گیا۔جیسے شفقت حسین کا مقدمہ۔اس پر دو ہزار چار میں ایک سات سالہ بچے کے اغوا اور قتل کا الزام تھا۔

آفتاب بہادر مسیح کا کیس بھی اپنی نوعیت کا انوکھا مقدمہ ہے۔اسے انیس سو بانوے میں پندرہ برس کی عمر میں جن دو افراد کی بنیادی گواہی پر قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی گئی۔ انھوں نے بعد ازاں اپنا بیان واپس لے لیا۔
شفقت حسین کو تو ریاست نے اپنی کم عمری ثابت کرنے کی سہولت چار بار فراہم کی لیکن آفتاب بہادر مسیح کے وکیل کی جانب سے اپنے موکل کی کم عمری ثابت کرنے کی مہلت دینے کی درخواست یہ کہہ کے مسترد کردی گئی کہ جووینائل جسٹس سسٹم آرڈیننس جس کے تحت اٹھارہ برس سے کم عمر کے ملزم کو پھانسی نہیں دی جا سکتی سن دو ہزار میں نافذ ہوا لہذا آفتاب بہادر کو رعائیت نہیں مل سکتی کیونکہ اس نے جرم آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے کیا۔چنانچہ نو جون کو آفتاب بہادر کی اپیل تکنیکی بنیاد پر مسترد ہوئی اور گزشتہ روز اسے کوٹ لکھپت جیل میں تئیس برس کے انتظار کے بعد لٹکا دیا گیا۔یعنی پہلے تو آفتاب بہادر نے ریاستی نا اہلی کے سبب تئیس برس کی وہ قید کاٹی جو اسے کسی عدالت نے نہیں دی اور پھر اس سزائے ناحق کے عوض کم عمری کے آرڈیننس کا فائدہ دینے کے بجائے پھانسی دے دی گئی۔

ایک دو مثالیں ایسی بھی ہیں کہ عدالت نے مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد روکنے کے احکامات چند گھنٹے پہلے جاری کردیے مگر یہ احکامات جیل حکام کو بروقت نہ مل سکے اور مجرم کو لٹکا دیا گیا۔

سزائے موت کی موجودہ وبا میں ایک اور کیس بھی بہت عجیب نوعیت کا ہے۔ذوالفقار علی خان کو انیس سو اٹھانوے میں قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی مگر اس پر عمل درآمد میں سترہ برس لگ گئے۔اس دوران ذوالفقار کی بیوی کینسر سے مرگئی اور دو بچیاں بڑی ہوگئیں۔ بی اے پاس ذوالفقار نے جیل میں ایک لمحہ ضایع کیے بغیر مسلسل پڑھ کر ہومیو پیتھی کا چار سالہ ڈپلوما ، صحافت  ابلاغ ِ عامہ ، میڈیکل ایڈ ، اسلامیات اور دورہِ حدیث میں ایک ایک سال کا ڈپلوما ، علمِ تعزیر میں چھ ماہ کا ڈپلوما ، انگریزی اور پولٹیکل سائنس میں ڈبل ایم اے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے ہربل میڈیسن میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر ذوالفقار کے بارہ قیدی شاگردوں نے گریجویشن ، تئیس نے انٹر میڈیٹ اور اٹھارہ نے میٹرک تک تعلیم مکمل کی۔جیل حکام نے ڈاکٹر ذوالفقار کو قیدیوں کی تعلیم کا غیر رسمی مشیر بنا دیا اور اب سے ڈیڑھ ماہ پہلے ایک صبح پھانسی پے چڑھا دیا۔( ڈاکٹر ذوالفقار جیل کے قیدیوں اور عملے میں ’’ دی ایجوکیشنسٹ ’’ کے لقب سے مشہور تھا )۔

اس وقت جتنے بھی قیدی کال کوٹھڑی سے نجات پا چکے یا آخری دن گن رہے ہیں ان میں سے بہت سوں کی کہانی یوں بیان کی جاتی ہے کہ وہ معاشی طور پر کمزور تھے۔یا تو ان کے پاس ابتدائی گرفتاری کے فوراً بعد ایف آئی آر کٹنے سے پہلے رہائی کے لیے بھاری رشوت کے پیسے نہیں تھے لہذا تشدد کے نتیجے میں پولیس نے جو بھی ان سے لکھوایا لکھ دیا۔یا پھر وہ کوئی اچھا مہنگا وکیل کرنے سے قاصر رہے۔ چنانچہ ان کا کیس بھی کسی نیم دل سرکاری وکیل نے لڑا جس پر پہلے ہی بیسیوں مقدمات کا بوجھ ہوتا ہے اور وہ کسی بھی مقدمے پر بھرپور توجہ نہیں دے پاتا۔( مالی لحاظ سے کمزور لوگوں کے لیے سرکاری وکیل اور سرکاری اسپتال یکساں مفید و مضر ہیں )

یا اگر کسی کیس میں معاملہ تصفیے کے مرحلے تک پہنچا بھی تو مجرم اور اس کے اہلِ خانہ اس قابل نہ تھے کہ خوں بہا کی رقم ادا کر کے معافی حاصل کرسکیں۔ نہ وہ اتنے طاقتور یا بااثر تھے کہ متاثرہ خاندان کو ڈرا دھمکا کے راضی نامہ لے سکیں۔

مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ سزائے موت کے تمام فیصلے ناقص ، مشکوک یا بدانصافی پر مبنی ہوتے ہیں۔اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سزائے موت کی چکی میں گیہوں زیادہ اور گھن کم پستا ہے۔بس اتنا ہے کہ ایک بار جو مر گیا سو مرگیا۔بعد میں آپ کتنے ہی ری ٹرائیل کرلیں ، کتنی بار ہی بے گناہ قرار دے لیں ، معذرت کرلیں۔پنچھی تو اڑ گیا۔۔۔

تو کیا ہزاروں غیر دھشت گرد مجرموں سے کال کوٹھڑیاں خالی کروانے سے دھشت گردی رک جائے گی ، ریاستی رٹ بحال ہوجائے گی ، دھشت گرد ماسٹر مائنڈ ڈر جائیں گے ، سیدھی راہ پے آجائیں گے ؟

یہ سوال مجھ سے ، خود سے یا ریاست سے کرنے کے بجائے اس شخص سے کیجیے جو سزائے موت کے خطرے کے باوجود ریپ کی تیاری کر رہا ہے یا غیرت کے نام پر خنجر تیز کرچکا ہے یا خاندانی دشمنی چکانے چل پڑا ہے یا کسی سے سپاری لے کر کسی انجان کا نشانہ باندھ چکا ہے۔

یا اس لڑکے سے کیجیے جو اس وقت کہیں جنت کے تصور میں مست بیٹھا اپنی بارودی جیکٹ آخری بار چیک کررہا ہے ، یا موٹرسائیکل پر سوار ہونے سے پہلے نائن ایم ایم کی کافر شکن گولیاں گن رہا ہے۔اس کے لیے تو کسی بھی شکل میں موت محض ایک سرنگ ہے جسے عبور کرتے ہی آزادی ہی آزادی۔۔۔
اگر جڑوں کو اکھاڑنے کے بجائے جھاڑ جھنکاڑ صاف کرنے سے زمین ٹھنڈی اور پاک ہو سکتی ہے تو پھر کر لیجیے۔مگر یہ بھی سوچئے گا کہ جن ممالک میں سزائے موت نہیں دی جاتی وہاں سنگین جرائم کی شرح کم ہونے کا راز کیا ہے۔انھوں نے اپنے سماج کا علاج کیسے کیا ؟

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.