Header Ads

Breaking News
recent

اقتصادی راہداری پر بھارتی سازشیں

بھارت اپنے تمام تر منفی ہتھکنڈے آزمانے کے بعد اب کھل کر سامنے آ گیا ہے کہ چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی راہداری کا منصوبہ کیوں تشکیل پا رہا ہے۔اس سے قبل ماضی میں جب گوادربندرگاہ کی تعمیر جاری تھی تو اس وقت بھارت نے اپنی بدنام زمانہ ایجنسیوں کے ذریعے چینی انجینئرز اور کارکنون پر حملے کروائے۔پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں عوام کو آپس میں لڑانے کی سازشیں کیں اور سیکڑوں لوگوں کو بے گناہ مروا دیا۔لیکن اس کے ناپاک ارادے کامیاب نہ ہو سکے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے گوادر بندرگاہ مکمل ہوئی اور اب وہاں سے تجارتی سرگرمیاں شروع ہو چکی ہیں۔  جب اس سے متعلقہ دوسرے اقتصادی منصوبوں پر کام کا آغاز ہوا تو بھارتی قیادت کے پیٹ میں مروڑ اٹھنے شروع ہو گئے کہ پاکستان کیوں اقتصادی طور پر آگے بڑھنا شروع ہوا ہے۔
  
اپریل کے مہینے میں چینی قیادت کے دورے کے دوران 46 ارب ڈالر کے منصوبوں پر دستخط کے بعد سے بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی کا نیا باب شروع کر دیا ہے۔ان میں سب سے بڑا منصوبہ اقتصادی راہدرای کا ہے جو کہ گوادر بندرگاہ سے شروع ہو کر بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے علاقوں سے گزر کر شمالی علاقوں سے ہوتا ہوا چین کی طرف جائے گا۔بھارت نے پہلے اس منصوبے کے لئے پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی۔اس کے بعد دہشت گردی کروائی۔لیکن حکومت پاکستان اور سیاسی قائدین نے مل کر ان تمام منصوبوں کو خاک میں ملاد یا۔اس منصوبے پر نہ صرف سیاسی جماعتوں نے اپنے اعتماد کا اظہار کر دیا بلکہ انہوں نے حکومت کو اپنی مکمل حمایت کی یقین دہانی کروا دی۔

بھارت کے لیے یہ صورت حال ایک شدید جھٹکا ثابت ہوئی۔ بھارت نے اس کے بعد چین کا رخ کیا اور اس منصوبے پر چین سے احتجاج شروع کر دیا۔ وزیراعظم بھارت مودی کے دورہ چین کے دوران چینی قیادت سے اس منصوبے پر بات کی گئی کہ اسے سرد خانے میں ڈال دیا جائے۔ اس کی وجہ یہ بتائی کہ یہ راہداری کشمیر کے ان علاقوں سے گزر رہی ہے جو کہ متنازع ہیں اس لئے یہ راہداری نہیں بننی چاہیے۔ لیکن چین کی طرف سے اس پر بھارت کو کورا جواب مل گیا۔ اس کے بعد بھارت نے کھلے عام احتجاج شروع کر دیا۔ بھارت میں چینی سفیر کو طلب کیا گیا اور بھارت کی طرف سے اس منصوبے بارے احتجاج کیا گیا۔ لیکن ان تمام اعتراضات اور احتجاج کے باوجود چینی قیادت نے بھارت کے اس مطالبے پر کان نہ دھرے۔ اب بھارت کیلئے یہ منصوبہ گلے کی ہڈی کی صورت اختیار کر رہا ہے۔

حالانکہ پاکستانی قیادت نے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ اس منصوبے سے پورے خطے کو فائدہ ہو گا۔ اس منصوبے کا کوئی ایسا پہلو نہیں ہے جس سے بھارت کو سلامتی کے لحاظ سے یا اقتصادی لحاظ سے خطرہ لاحق ہو۔ اس منصوبے سے چین کو بہترین فوائد حاصل ہوں گے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی بہترین اقتصادی مواقع ہوں گے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ چین کو صرف تیل کی درآمد کی مد میں جو گلف ممالک سے آتا ہے، 20 ارب ڈالر سالانہ کی بچت ہو گی۔ اس راہداری سے پاکستان کو سالانہ 5 ارب ڈالر آمدنی کی توقع ہے۔اس کے علاوہ لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا۔

اگرچہ اس سے قبل بھارت کی طرف سے واضح طور پر ایسے اعتراضات نہیں اٹھائے گئے جن کا برملا اظہار اب کیا گیا ہے۔شاید بھارت کو یقین نہیں تھا کہ یہ منصوبہ اس تیزی سے آگے بڑھے گا۔اپریل کے مہینے میں جب چینی قیادت نے پاکستان کا دورہ کیا تو اس ضمن میں بھارتی ہائی کمشنر نے اس وقت کہا تھا کہ بھارت کو چین کے ان منصوبوں سے کوئی خطرات لاحق نہیں ہیں بلکہ انہوں نے اس حد تک کہا تھا کہ

اقتصادی طور پر مستحکم پاکستان بھارت اور خطے کے لیے بہت بہتر ہے۔اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ بھارت کو پاکستان کے چین،افغانستان اور ایران سے بڑھتے ہوئے تعلقات سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔لیکن ایک ماہ بعد ان کی حکومت کھل کر ان منصوبوں کے خلاف ہرزہ سرائی پر اتر آئی ہے۔ماضی قریب میں جب امریکی قیادت نے بھارت کے دورے کئے تو اس وقت بھارت اور امریکہ کے درمیان سول ایٹمی توانائی کے جن منصوبوں پر دستخط ہوئے وہ بین الاقوامی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن اس کے باوجود حکومت پاکستان کی طرف سے ان پر نہ تو کوئی اعتراض کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف آواز اٹھائی گئی۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہنے پر زور دیا لیکن بھارت میں ایسے جذبات موجود نہیں ہیں۔خاص طور پر اس وقت اقتصادی راہداری جیسے منصوبے پر اعتراضات بھارت کے اصل منفی عزائم کا مظہر ہیں۔اور اس کے لیے یہ وجہ پیش کرنا کہ یہ متنازع علاقہ کشمیر سے گزر کر جائے گا بالکل بے بنیاد ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بھی بھارت کا پیدا کر دہ ہے۔ جس پر بھارت نے عرصہ دراز سے بزور شمشیر قبضہ کیا ہوا ہے۔وہاں کی مسلمان آبادی آج بھی پاکستان کے ساتھ اپنے الحاق کی خواہش مند ہے۔ لیکن بھارت ان کے حق خوداریت کو دبائے ہوئے ہے۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود بھارت کشمیریوں کو ان کے حقوق دینے پر مائل نظر نہیں آتا۔ اسے پاکستان کے زیر انتظام کشمیری علاقے پر ایسے منصوبے بنانے پر کیوں اعتراض ہے۔ دوسری طرف خود بھارت اپنے

زیر تسلط کشمیری علاقے میں بھارتی ہندوؤں کو بسانے کی کوشش میں مصروف ہے تا کہ ظاہر کر سکے کہ کشمیر میں ہندوؤں کی اکثریت ہے۔ لیکن ان ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی رائے کو دبایا نہیں جا سکتا۔ آج بھی وقتا فوقتاً سری نگر میں بھارتی مظالم، چیرہ دستیوں، قانونی ہتھکنڈوں کے استعمال کے باوجود پورے شہر میں لہراتے ہوئے پاکستانی پرچم اس بات کے امین ہیں کہ کشمیریوں کے دل آج بھی پاکستانیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ صرف کشمیر کا یہ حصہ ہی نہیں بلکہ بھارت کے زیر تسلط حصہ بھی ضرور ملے گا۔

بھارت ایک طرف یہ راگ الاپ رہا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونا چاہیے اور دونوں ممالک میں پائیدار امن قائم ہونا چاہیے اور دوسری طرف پاکستان میں ہونے والی ترقی کی ہر طرح سے مخالفت کر رہا ہے۔یہ مخالفت صرف زبانی حد تک نہیں ہے بلکہ افغانستان میں منفی عناصر کو جمع کر کے پاکستان کی مغربی سرحد سے دہشت گردی کروا رہا ہے۔

پچھلے دنوں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں دہشت گردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں ان میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن میں بھارت کی ایجنسیوں کے ملوث ہونے کا قوی امکان ہے۔ اگرچہ اس قسم کے شواہد عرصہ دراز سے مل رہے ہیں جس سے شائبہ تھا کہ بھارت ہی ان کارروائیوں میں ملوث ہے۔ لیکن اب اقتصادی راہداری کی برملا مخالفت سے اس کے عزائم کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ بھارت کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان میں ترقی کا چلنے والا پہیہ اب انشاء اللہ رکنے والا نہیں ہے۔دہشت گردی کے واقعات کے باوجود گوادر بندرگاہ مکمل ہو کر فعال ہوئی اور اب تمام نامساعد حالات کے باوجود اقتصادی راہداری بھی انشاء اللہ مکمل ہو کر فعال ہو گی۔

حسن اقبال
بشکریہ روزنامہ نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.