Header Ads

Breaking News
recent

سول، ملٹری قیادت کو مشکل و ناگزیر چیلنج

’ملک سے غداری اورقتل دو ایسے جرائم ہیں جو سب جرائم سے زیادہ سنگین، حتی ٰکہ قومی خزانے کی لوٹ مار، ٹیکس کی عدم ادائیگی اور منی لانڈرنگ جیسے بڑے بڑے وائٹ کالر کرائمز( جو نیم غداری کے مترادف ہیں کہ ان سے کروڑوں لوگوں کے حقوق غصب ہوتے ہیں) پر بھی بھاری، لیکن یہ جس قدر حساس جرائم ہیں، انہیں عائد کرنے اور ان پر مقدمہ قائم کرنے میں بھی اسی درجے کی ذمہ داری، احتیاط اور واضح قانونی جواز کی موجودگی لازمی ہے‘‘۔ 

پاکستان کے چونکا دینے والے حالات حاضرہ کے تناظر میں آج کا ’’آئین نو‘‘ خاکسار کے متذکرہ بیانیے سے شروع ہوتا ہے، جو آج کے کالم کی روح ہے، بیانیے کی حقیقت کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہے، جتنا حساس بیان کئے گئے جرائم (قتل و غداری) پھر بھی یوں سمجھیں کہ اگر اپنے آپ سے ہی سوال کریں کہ اگر کوئی آپ کو قتل کرکے آپ سے جینے کا حق چھین لے اور آپ کے لواحقین میں زندگی بھر کے لئے ایک اذیت ناک خلا، پیدا کردے تو اسے سزا ملنی چاہئے؟ اور اگر کوئی شہری، لوگوں کا گروہ یا تنظیم یا اس کے ذمہ داران دشمن ملک سے ساز باز کرکے مالی وسائل حاصل کرے اور اپنے ہی ملک میں دہشت پھیلائے، اسے غدار قرار دینا چاہئے یا نہیں؟

اگر جواب’’ہاں‘‘ میں ہے تو پھر اسے قانون کی روشنی میں سزا بھی ملنی چاہئے؟ جواب پھر ہاں میں ہے تو متذکرہ بیانیہ، ناقابل ردحقیقت ہے، ایسی کہ جسے ملزم بھی تسلیم کرتے ہیں۔ وضاحت طویل ہوگئی، آپ جان گئے ہیں کہ ملکی حالات حاضرہ کے کس موضوع کے تناظر میں آج کا ’’آئین نو‘‘ لکھا گیا۔ کراچی میں غیر معمولی گرمی کی لہر کی قدرتی آفت، شہر کو کرپشن سے غداب میں تبدیل کردینے، سندھ حکومت کے تباہ کن کرتوت اور اس کے دفاع کے لئے کھسک جانے والے لیڈر کی للکار، سب سے بڑھ کر ایم کیو ایم کی قیادت کے بھارت سے فنڈز وصول کرنے اور وہاں کارکنوں کو تربیت دلانے کے الزامات پر مبنی بی بی سی کی ڈاکومنٹری میڈیا کے ایجنڈے اور سیاسی ابلاغ میں چھائے ہوئے ہیں۔
 ان میں سے آخر ا لذکر، سول ،ملٹری قیادت کے لئے ایسا مشکل چیلنج بن گیا ہے کہ انہیں ہر غدار کا کڑا احتساب تو لازماً کرنا ہی ہوگا۔ سندھ حکومت کی ایک سے بڑھ کر ایک کرپشن کہانی بے نقاب ہونے پر جس طرح خبروں میں بیان کئے گئے ذمہ داران دبئی سدھارے ہیں اور جس آزادی سے انہیں جانے دیا گیا ہے۔

اس صورت حال سے پیدا ہونے والے سوالات کے جوابات سے عوام کو آگاہ کرنا بھی اب سرگرم قیادت کے لئے ایسا چیلنج ہے جس سے وہ منہ موڑ نہ پائے گی۔ معاملہ بہت واضح ہے، یہ فقط روایتی بلیم گیم نہیں کیونکہ ایم کیو ایم کے اہم ذمہ داروں پر چونکا دینے والے الزام ہیں جس میں برطانیہ کا مرکزی کردار ہے جو اپنے ایک شہری کے قتل کے الزام میں دوسرے شہری کے خلاف تحقیق کی آخری حد تک جارہا ہے کہ یہ اس کے شہرہ آفاق نظام انصاف کے اعتبار کا معاملہ ہے۔ تحقیق کے دوران ہی ایک اور جرم منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا جس کی زد میں پاکستانی سیاسی جماعت کے خود ساختہ جلا وطن رہنما آگئے، برطانیہ کو لندن میں ہونے والے پاکستانی نژاد شہری کے قتل کا کھوج لگانے کے لئے حکومت پاکستان کا تعاون ناگزیر ہے کہ قتل کے مبینہ اور معاون ملزمان اس وقت اس کی حراست میں ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے خلاف غداری کا ارتکاب بھی لندن میں ہوا ہے جس کے الزام کا رخ پاکستانی سیاسی جماعت کے لندن بیسڈ قائد کی طرف ہے۔ خبروں کے مطابق الزامات کی مضبوط شہادتیں دینا خصوصاً پاکستانیوں کو چونکا دینے والی کہانی کا سنسنی خیز حصہ ہے۔ سو پاکستان کو بھی حقائق تک پہنچنے کے لئے برطانیہ کا تعاون ناگزیر ہے کہ پاکستان سے غداری کی جو کھچڑی مبینہ طور پر 1994ء سے تیار ہورہی ہے، وہ لندن میں ہورہی ہے۔ معاملہ صرف ملزموں تک پہنچ کا ہی نہیں، بھارت کے پاکستان دشمن کردار کو بے نقاب کرنے کی شدید سفارتی ضرورت کا بھی ہے۔ اب چونکہ دونوں حکومتیں (برطانیہ اور پاکستان کی) ایک دوسرے سے تعاون پر آمادہ ہیں، سو کہانی انجام کی طرف بڑھتی معلوم دیتی ہے۔

انجام دہی بہتر ہونا ہے جو منطقی ہو۔ برطانیہ تو یہاں (منطقی انجام) تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے ،اسٹوری واضح ہونے کے باوجود پاکستان کیلئے منطقی انجام تک پہنچنا ایک کار محال ہے جبکہ اس سے حسب روایت جان بھی نہیں چھڑائی جاسکتی۔ ایک تو معاملہ ملکی سلامتی کا ہے، جو اصل میں حکومت پر شدید عوامی دبائو کی شکل میں آئے گا جو بذریعہ میڈیا پڑے گا۔ یقیناً یہ ایک مشکل چیلنج ہے کہ اس کا تعلق پاکستان کی ایک پارلیمانی طاقت سے جڑتا ہے لیکن چیلنج ناگزیر ہے۔ حکمت عملی پر بہت انحصار کرنا ہوگا، خود ایم کیو ایم کی یہ شدید ضرورت بن گئی ہے کہ الزام کی تحقیق ہو اور یہ قانون کی روشنی میں اپنے اصلی انجام کو پہنچے، وگرنہ ایم کیو ایم خود اپنے لئے کراچی اور پورے ملک کے لئے ایک ’’اذیت ناک‘‘ ’’سیاسی طاقت‘‘ کے طور پر ہی رہے گی۔ اس کا اپنا شفاف ہونا ہی اب اس کی بقاء کا واحد ساماں ہے۔ یہ تو تھا ’’غداری کی کہانی‘‘ کا ایک تجزیہ۔

جہاں تک سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی شدیدکرپشن اور نااہلیت کا معاملہ ہے، یہ بھی دہشت گردی کی کتنی ہی شکلوں سے جڑ گئی ہے۔ سو یہ اس کی بیخ کنی کے لئے سرگرم سول، ملٹری قیادت کے لئے ایک اور مشکل چیلنج ہے اور ناگزیر بھی کہ اب کسی صورت کراچی کو نااہل اور اس قدر کرپٹ حکمرانوں پر نہیں چھوڑا جاسکتا۔ پی پی حکومتوں نے وفاق اور سندھ میں اقتدار کی باریاں لے کر پاکستان کے ساتھ جو کچھ کیا ہے اس کی فقط ایک تصویر پی پی کے قیام سے آج تک خیر خواہ سینئر ایڈیٹر اور کالمسٹ نے اپنے حالیہ کالم میں دکھائی ہے۔

 چند دن سے پی پی کے کتنے ہی لیڈروں کی ملک سے اڑان پر رقمطراز ہیں’’سندھ میں بی بی شہید کے خون کے صدقے چند نشستیں مل گئیں، جن کے بل بوتے پر وہ اور ان کا خاندان سندھ پر راج کرتے رہے۔ بہن نے پارٹی پر کنٹرول کیا، بھائی نے صوبہ مٹھی میں لیا اور پھر جس فن میں زرداری صاحب کی شہرت تھی، انہوں نے پوری مہارت سے اس کا مظاہرہ کیا۔ اب زرداری خاندان پاکستان کے نقد سرمایے رکھنے والے خاندانوں میں سرفہرست ہے۔ بیرونی جریدوں کے مطابق کو میاں منشا کو امیر ترین آدمی سمجھا جاتا ہے لیکن تاثر ہے کہ جتنی دولت زرداری خاندان کے پاس ہے، سات میاں منشا بھی اکٹھے ہوجائیں تو انکے پاس نہیں ہے‘‘۔

پی پی لیڈروں کی اڑان کے موسم پر لکھے گئے اس کالم میں جو نیوز اسٹوریز بریک کی گئی ہیں، انہیں ڈیویلپ کرلیا جائے تو پی پی کی موجودہ قیادت اور سندھ کے حکمرانوں کے خلاف ایک پورا وائٹ پیپر تیار ہوجائے۔ تازہ ترین یہ کہ کراچی میں حادثاتی زخمیوں اور لاچار مریضوں کو فوری ریلیف کیلئے 1122 کی جو ایک سو ایمبولینسز خریدی گئی تھیں ان میں سے چھ زرداری صاحب کے ایک بہت قریبی بطور ویگن تبدیل کرچکے۔ کتنی ہی گرد و غبار سے اٹی پڑی کھڑی ہیں کیونکہ کراچی میں 1122 نام کا کوئی سیٹ اپ ہے ہی نہیں۔ اس کے بعد کراچی کربلا نہ بنتا تو کیا بنتا کہ جب حکمران پینے کا پانی بھی قبضے میں لے کر بیچنا شروع کردیں۔ وفاقی حکومت اور سول، ملٹری مصروف آپریشن قیادت اس چیلنج سے نپٹنے سے کیونکر بچ سکتی ہے، وگرنہ وہ بھی اس حوالے سے قابل احتساب نہیں ہوجائے گی؟

ڈاکٹر مجاہد منصوری
بہ شکریہ روزنامہ جنگ

No comments:

Powered by Blogger.