Header Ads

Breaking News
recent

کراچی : میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں

کراچی میں شدید گرمی سے 400 سے زائد افراد کی ہلاکت کے بعد بلآخر وزیراعلیٰ سندھ بھی منظر عام پر آگئے جنہوں نے ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ کہیں نہ کہیں غفلت برتی گئی ہے۔

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ دو دن تک بینظیر بھٹو کی سالگرہ کی تقریبات کے سلسلے میں لاڑکانہ میں موجود تھے اور گزشتہ شب کراچی پہنچنے کے بعد آج پانچویں روز ان کا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔
 سندھ اسمبلی میں اظہارِخیال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے شدید گرمی اور لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے زیادہ اموات کا ملبہ بھی وفاقی حکومت پر ڈال دیا۔
تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ کی صورتحال اور امدادی کاموں سے لاعلمی بھی مکمل طور پر عیاں تھی اور بیشتر مقامات پر انہوں نے 'یقیناً کیا ہوگا،کر رہے ہوں گے، میں پوچھوں گا' جیسے الفاظ کا استعمال کیا۔

انہوں نے ایوان کو بتایا کہ سندھ میں ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا ادارہ موجود ہے جو کہ نہ صرف بارشوں اور طوفان میں کام کرتا ہے بلکہ ایسی صورتحال سے نمٹنا بھی
اس کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا 'ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہے اور اس کا نمبر بھی ہے جو کہ پہلے بھی
اخباروں میں آ چکا ہے اور اگر ممبران کو پتا نہیں ہے تو آج پھر یہ نمبر دیں گے تاکہ لوگ ان تک جا سکیں۔'

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق یقیناً ڈیزاسٹرمینجمنٹ نے اپنا کام کیا ہو گا مگر وہ دو دن سے شہر میں نہیں تھے اس لیے اب (پی ڈی ایم اے) سے اس حوالے سے پوچھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صوبے میں موجود این جی اوز نے بھی یقیناً اپنا کام کیا ہو گا۔


No comments:

Powered by Blogger.